سرکس کی تاریخ

سرکس ایک دلچسپ چیز ہے جسے دیکھنے سبھی بچے بڑے شوق سے جاتے ہیں۔ مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ سرکس کی شروعات کب اور کس طرح ہوئی؟

سرکس کی شروعات حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے تین سو سال پہلے یعنی کوئی دو ہزار دو سو سال پہلے روم میں ہوئی۔ ان دنوں کے سرکس آج کے سرکس سے مختلف ہوتے تھے۔ ان میں رتھ دوڑائے جاتے تھے اور رتھ دوڑانے کے لیے بنائے گئے گول میدانوں کو سرکس کہا جاتا تھا کیونکہ وہ گول ہوتے تھے۔ میدان کے بیچ میں نٹ اور قلا باز اپنے کرتب دکھاتے رہتے تھے۔

سرکس کے یہ میدان کافی بڑے ہوتے تھے جن میں ایک ساتھ ہزاروں آدمی تماشہ دیکھتے تھے۔ اس زمانے میں روم میں تفریح کے دوسرے ذریعے بھی تھے۔ مثلاً بازیگر اور کرتب دیکھانے والے سدھائے ہوئے جانوروں سے لوگوں کو کرتب دکھاتے تھے۔ پھر ایک وقت وہ آیا جب یہ سارے کرتب ایک وقت میں ایک ہی میدان میں دکھائے جانے لگے۔ اور پھر ایک ساتھ دکھائی جانے والے اس تفریح گیم کا نام سرکس پڑگیا۔

روم کے ختم ہونے کے بعد کئی سو سال تک اس کا چلن نہیں رہا اور پھر جدید سرکس کی شروعات انگلینڈ 1786 میں فلپ ایسلے نامی انگریز نے کی۔ اس نے لندن میں ایک عمارت تعمیر کرائی اس میں تماشہ دیکھنے والوں کے لیے بہت ساری کرسیاں رکھی گئی تھیں اور بیچ میں ایک بڑا چبوترہ تھا۔ جس پر سرکس کے کھیل دکھائے جاتے تھے۔ ان میں جادوئی کھیل، رسی پر چلنا جیسے کرتبی کھیل بھی شامل تھے۔

انہی دنوں چھوٹے چھوٹے سرکس شروع ہوئے جنھیں دیہاتوں اور میلوں میں لگایا جاتا تھا۔ انیسویں صدی کے شروع میں امریکہ میں بھی سرکس کی شروعات ہوئی۔ دھیرے دھیرے یہ لوگوں میں مقبول ہوتا گیا اور دنیا کے سبھی ملکوں میں اس کا چلن ہونے لگا۔ آج دنیا کا سب سے بڑا سرکس امریکہ کے شہر ’نے وادا‘ میں ہے۔ یہ ۱۸؍اکتوبر ۱۹۶۸ء میں شروع ہوا۔ اس کی عمارت ۱۱۹۸۴ مربع میٹر پر بنی ہوئی ہے۔ روس کے سرکس اپنے حیرت ناک کرتبوں کے لیے دنیا بھر میں مشہور میں جہاں لوگ مختلف انداز کے ماہرانہ کرتب دکھا کر لوگوں کو حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
سمیعہ وحید

Leave a Reply