عقلمند گدھا

ایک کسان کے پاس ایک بیل اور ایک گدھا تھا۔ بیل زمین جوتتا اور کنوئیں سے پانی نکالتا تھا۔ اور گدھا پھلوں کو بازار لے جانے کا کام کرتا تھا۔ ایک مرتبہ بیل اپنے کام سے فارغ ہوکر لوٹا تو وہ حسبِ عادت بہت بے چین تھا۔ ایک روز بیل اور گدھے میں بات چیت ہونے لگی:

بیل: اس کام سے کب چھٹکارہ ملے گا؟

گدھا: برداشت کرو میرے دوست۔

بیل: ہرگز نہیں میں اس سے زیادہ ہرگز برداشت نہیں کرسکتا۔ تمہارے لیے مبارک ہو تمہارا کام کتنا کم ہے۔ (بیل نے گدھے سے کہا)

گدھا: میں روزانہ بازار جاتا ہوں۔

بیل: تم تفریح کو کام کہتے ہو۔

گدھا: ٹھیک ہے کہ تمہارا کام مشکل ہے لیکن یہ مت بھولو کہ تم مجھ سے زیادہ طاقتور ہو۔

بیل: یہ بڑی مشکل ہے۔ مجھے آرام کے لیے وقت نہیں مل پاتا۔ میں چاہتا ہوں کہ ایک دن بغیر کوئی کام کیے آرام سے بیٹھوں۔

گدھا: میں تمہاری پریشانی کے حل پر غور کروں گا۔

بیل: بہت بہت شکریہ دوست! اب میں سوؤں گا کیونکہ میں بہت تھک گیا ہوں۔

بیل سوگیا لیکن گدھا اپنے دوست کی پریشانی کے بارے میں سوچتا رہا۔ صبح کے وقت مرغے نے بانگ دی۔ ’ککڑوںکوں‘

بیل: اے دوست تم نے میرے لیے کیا کیا؟

گدھا: تمہارے بچاؤ کی ایک صورت ہے۔

بیل: واقعی! کیاہے وہ صورت؟

گدھا: وہ یہ کہ تم بیمار ہونے کاڈرامہ کرو۔

بیل: وہ کیسے؟

گدھا: میں نے سوچا ہے کہ تم یہ ظاہر کرو کہ تم بیمار ہو اور جو چارہ تمہارے سامنے لایا جائے اس کو مت کھاؤ ۔

اگلے روز کسان نے بیل کو دیکھ کرپریشان ہوتے ہوئے کہا:میں کیا کروں۔ لگتا ہے بیل بیمار ہوگیا۔ اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ ہمارا بیل بیمار ہوگیا۔ اب ہم کیا کریں۔ اب بیوی نے جواب دیا کہ اب اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے کہ اس کے بدلے گدھے سے کام لیا جائے۔

بیل: تم عقل مند گدھے ہو تم نے واقعی مجھے نجات دلادی۔

گدھا: جو کچھ میں نے تمہارے لیے سوچا یہ اس کا انجام ہے۔

اگل روز گدھے نے بیل سے کہا: اٹھو دوست! تم نے بہت آرام کرلیا اب کام پر چلو۔

بیل: باع …باع (یعنی اب بھی بیمار بننے کی کوشش کی) کچھ روز تک گدھا کام پر جاتا رہا اور بیل بیماری کا ڈرامہ کرتا رہا۔

چند روز کے بعد دونوں میں بات چیت ہوئی۔

گدھا: میرے دوست میں تم سے رحم کی درخواست کرتا ہوں۔ اپنے کام پر جاؤ اور مجھے تھوڑا آرام کرنے دو۔

اگلے روز، گدھا کھیت سے واپس آیا تو وہ تھکن کی وجہ سے مرا جارہا تھا۔

گدھا: مجھے ہر حال میں اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے۔ لیکن کیسے؟ رات بھر گدھا جب تک جاگتا رہا یہی سوچتا رہا۔

اگلے روز- گدھا کام پر گیا اور شام کو باڑے میں لوٹا تو دیکھا کہ بیل مزے سے کھا رہا ہے۔ گدھا اداس ہوکر ایک کونے میںبیٹھ گیا۔

بیل: کیا ہوا؟ تم کھا کیوں نہیں رہے؟

گدھا: کیونکہ میں غمگین ہوں۔

بیل: تمہیں برداشت کرنا چاہیے۔ میرے دوست!

گدھا: میں تمہارے سلسلہ میں غمگین ہوں۔

بیل: میری وجہ سے کیوں؟

گدھا: کیونکہ میں نے آج کسان اور اس کی بیوی کو تمہارے بارے میں بات کرتے ہوئے سنا ہے۔

بیل: کیا کہہ رہے تھے؟

گدھا: میں نے کہتے سنا ہے کہ ہمارا بیل بہت بیمار ہے۔ کام کے لیے ٹھیک نہیںہورہا ہے۔ مرنے کے قریب ہے، اس سے اچھا ہے ہم اس کو ذبح کردیں اور اس کا گوشت بیچ کر اس کی کھال سے استفادہ کریں۔

بیل: واقعی!

گدھا: ہاں! اور میں نے دیکھا کہ وہ ایک بڑی چھری میں دھار بھی لگا رہا تھا۔

بیل: اے خدا میں کیا کروں۔

گدھا: ایک حل ہے۔

بیل: کیا ہے، جلدی بتاؤ۔

گدھا: وہ یہ کہ تم کل کسان کے آنے سے پہلے اٹھ جاؤ اور دروازہ پوری قوت سے کھٹکھٹانا شروع کردو تاکہ کسان کو یقین ہوجائے کہ تم اپنے مرض سے شفایاب ہوچکے ہو۔

بیل نے ایسا ہی کیا۔

کسان نے کہا: ’’الحمدللہ ہمارا بیل کام کے لیے کھڑا ہوگیا۔‘‘ اور اس طرح گدھے نے اپنی عقلمندی سے اسے واپس کام پر لگادیا۔ (عربی سے ترجمہ)

شیئر کیجیے
Default image
اسما قیوم صالحاتی

Leave a Reply