اداریہ۔گوشۂ نوبہار

پیاری بہنو!

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

یہ شمارہ آپ کے ہاتھوں میں پہنچنے سے پہلے پہلے آپ عید الاضحی مناچکی ہوں گی۔ عیدالاضحی اور حج دونوں ایک ہی چیز ہیں، جنھیں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی یادگار کے طور پر ہمیشہ کے لیے قائم رکھا۔ حضرت ابراہیم ؑ، حضرت اسماعیل ؑ اور حضرت ہاجرہؑ میاں بیوی اور بیٹے پر مشتمل ایک خاندان تھا جس نے اللہ کی خوشنودی اور اس کی رضا کے سامنے سر جھکانے کاایسا نمونہ پیش کیا کہ یہ لوگ رہتی دنیا تک انسانوں کے لیے نمونہ بن گئے۔ دنیا میں بسنے والے کروڑوں انسان ان کی یاد میں اپنے جانور ذبح کرکے ان کی یاد تازہ کرتے ہیں اور لاکھوں انسان حج کے لیے وہاں پہنچتے ہیں جہاں، ان کے پاک قدم پڑے تھے جو وہاں نہیں پہنچ پاتے وہ وہاں پہنچنے کی دعا اور تمنا کرتے ہیں اور دنیا کے ہر گوشے میں اپنے جانور ذبح کرکے گویا ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔

حضرت ابراہیم ؑ کی زندگی کے کئی واقعات آپ نے سن رکھے ہیں۔ وہ بچپن ہی سے توحید کے قائل اور بتوں کی پوجا کے منکر تھے اور اپنے باپ سے ایسی باتیں کیا کرتے تھے کہ ان سے جواب نہ بن پڑتا۔ ایک مرتبہ انھوں نے اپنے باپ سے پوچھا: ابا جان کیا کررہے ہیں؟ انھوں نے جواب دیا کہ لکڑی کا یہ خدا تراش رہا ہوں۔ حضرت ابراہیم نے پھر سوال کیا اب آپ کیا کریں گے؟ باپ نے کہا اس میں کیل ٹھونکوں گا۔ ’’ارے کیا کیل ٹھونکنے سے اسے تکلیف نہ ہوگی۔‘‘ نہیں نہیں یہ تو بے جان ہے۔‘‘ باپ نے کہا۔ ’’ابا اجان اگر یہ بے جان ہے اور اس کے اندر احساس و شعور نام کی کوئی چیز نہیں تو پھر آپ اس کی پوجا کیوں کریں گے۔ اور کیا اس بت کی پوجا کرنا جسے آپ نے خود اپنے ہاتھ سے بنایا ہے معقول بات نظر آتی ہے؟‘‘ اس پر باپ غصہ میں بھر گیا اور کہا: ’’ابراہیم اگر تو بچہ نہ ہوتا تو میں تیرا سر اس بسولے سے پھاڑ ڈالتا۔‘‘ یہ تھی حضرت ابراہیم کی دعوت توحید جو انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے سامنے نہایت معقول اور مدلل طریقے سے رکھنے کی پوری کوشش کی۔

حضرت ابراہیم ؑ کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ انھوں نے ہر مرحلہ میں اللہ کی مرضی کے سامنے سر جھکا دیا۔ اللہ نے بیوی ہاجرہ کو مکہ کے بنجر مقام پر چھوڑنے کا حکم دیا تو کوئی فکر کیے بغیر محض اللہ کے بھروسے پر وہاں چھوڑ گئے اور اس اللہ کی بندی نے صرف ایک سوال کیا۔ کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟ ’’ہاں۔‘‘ تو پھر اللہ ہماری حفاظت کرے گا۔‘‘ اور آج ہم دیکھتے ہیں مکہ کی وہی وادی کس قدر بابرکت بن گئی ہے یہ انہی نیک جانوں کا فیض ہے۔ ادھر حضرت اسماعیل کی فرمانبرداری کے کیا کہنے۔ باپ نے کہا اور بیٹے نے منظور کرلیا۔ اللہ کا فرمانبردار نبی ابراہیم اور اللہ کے حکم پر سرجھکانے والی بیوی ہاجرہ اور ان کی تربیت میں پروان چڑھنے والا بیٹا اسماعیل کیا کہنے ان کی عظمت کے۔ تبھی تو رہتی دنیا تک کے لیے انہیں نمونہ بنادیا ان کے رب نے۔ اللہ کی سلامتی ہو ان حضرات پر اور ہمیں وہی جذبہ ملے جو ان کے اندر تھا۔

آپ کی بہن

مریم جمال

شیئر کیجیے
Default image
مریم جمال

Leave a Reply