سوال

سارا اسپتال بیماروں کی مسلسل چیخوں اور بے ربط کراہوں میں ڈوبا ایک اذیت گاہ نظر آرہا ہے۔ میں بڑی تیزی سے ان کراہتے، بلکتے انسانوں کے درمیان گردش کررہا ہوں… کسی کے زخم کی ڈریسنگ، کسی کی ہٹی ہوئی ہڈی جمانا تو کسی بے ہوش مریض کو انجکشن لگانا۔ اسپتال کے تمام ڈاکٹر، نرس، کمپاؤنڈر بری طرح مصروف ہیں۔ اچانک ایک کراہ ابھری، اذیت و کرب سے بھر پور… میں تڑپ کر پلٹا، پھر میری آنکھیں جیسے پتھرا کر رہ گئیں۔ ہاں میرے سامنے پڑی تم بڑی بے بسی سے ہاتھ پاؤں پٹخ رہی ہو… تم … میں تیزی سے تمہاری طرف بڑھتا ہوں… تمہارا سفید چہرہ تیزی سے زرد ہوتا جارہا ہے … اسی وقت ڈاکٹر رحمان میری طرف متوجہ ہوئے ہیں … ’’رضوان! اس مریض کو فوراً آکسیجن اور گلوکوز کی ضرورت ہے۔ اسے علیحدہ وارڈ میں رکھو … جلدی کرو… یہ زہر خوردنی کا کیس ہے۔ ایک ایک لمحہ بھاری ہے…‘‘

اللہ جانے ڈاکٹر رحمان کیا کیا ہدایتیں دیتے رہے مگر میں کچھ بھی نہیں سن رہا تھا۔ کچھ بھی نہیں سمجھ رہا تھا، بس ایک ٹک میری سوالیہ نظریں تمہارے چہرے پر جم کر رہ گئیں… اور ڈاکٹر رحمان کی بھاری آواز کی بازگشت رہ رہ کر میرے ذہن میں ابھر رہی ہے… یہ زہر خوردنی کا کیس ہے… یہ زہر خوردنی کا کیس ہے… تم … شجی اور زہر خوردنی… کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے…

تم میرے سامنے بیڈ پر لیٹی ہوئی ہو۔ آکسیجن کی نلی تمہاری ناک سے منسلک لمحہ بہ لمحہ تمہیں زندگی کی جدوجہد میں آگے کی طرف دھکیل رہی ہے۔ تمہاری دونوں کلائیوں سے گلو کوز کی سوئیاں چسپاں ہیں مگر تمہارا چہرہ … ان سب سے بے خبر بڑا وحشت خیز بڑا پریشان نظر آرہا ہے۔ کبھی اندرونی کرب سے تمہارے چہرے کا رنگ بدلنے لگتا ہے۔ لب بھنچ جاتے ہیں۔ لگتا ہے جیسے تمہارا مجبور جسم یہاں مقید ہے اور روح بے چینی سے کسی کی تلاش میں چلاتی پھر رہی ہے… یہ کشمکش … کیوں … تم … شجّی…

میں تم پر جھک پڑا … مگر تمہاری آنکھیں بدستور بند ہیں۔ ان آنکھوں سے میرے … اس وارڈ کی اجلی دیواروں سے خود مجھے آج وہ شوخ و شریر لڑکی شدت سے یاد آرہی ہے جو میرے پڑوس میں رہا کرتی تھی… وہ لڑکی جس میں نسوانیت کم اور لڑکپن زیادہ تھا۔ جو ہر دم گھر میں شریر لڑکوں کی طرح اودھم مچائے رہتی تھی…

امتحان قریب تھے۔ میں بڑا پریشان پریشان سا اپنے آپ کو اسٹڈی میں گم کرنے کی پوری پوری کوشش کررہا تھا… میرے سامنے موٹی موٹی کتابیں کھلی ہوئی تھیں… اچانک کسی بندر کی طرح تم نے اندرونی دروازے سے چھلانگ لگائی اور میرا سر کھانا شروع کردیا…

’’میں کہتی ہوں ڈاکٹر صاحب! اگر واقعی ماں باپ کے پیسے حلال کرنا چاہتے ہو تو ابھی سے عبدالصمد سے تعلقات بڑھانا شروع کریں۔‘‘

’’کون سے عبدالصمد…!‘‘ میں نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی طرف متوجہ ہوگیا۔

’’وہی اپنے پڑوس والے فیروزی آنکھوں والے بڑے میاں…‘‘

’’اچھا وہ… وہ کون سے نامی ملاَّ ہیں جو میرے پیسے حلال کردیں گے۔‘‘

’’ملاَّ نہیں تو کیا مانے ہوئے سرجن تو ہیں…‘‘ تمہاری آواز میں وزن تھا۔

’’بھلا سرجن سے مجھے کیا لینا دینا؟‘‘

’’بس… اب علاقے اور صوبے کے چکر میں ہی گھومتے رہو… اجی محترم روز دو گھنٹے ان کے ہاتھ کے نیچے پٹیاں باندھتے رہنا … بس اس سے زیادہ ڈاکٹری تمہارے پلّے پڑنے کی نہیں…‘‘

’’اوہ… میں سینہ تان کر تمہاری طرف جھپٹا… تب تم ایک چھلانگ میں کمرے سے باہر تھیں… مگر آج تم ویسی نہیں ہو… جانے وہ دبلی پتلی تیز طرار لڑکی تمہارے وجود میں کہاں گم ہوگئی… اب میرے سامنے تو ایک باوقار عورت ہے… ایک مہذب خاتون۔ تو جو بڑے وقار سے اپنے آنچل کو اپنے جسم کے گرد لپیٹے دھیرے دھیرے قدم اٹھاتی آگے بڑھتی ہوگی…‘‘

وہ دن … وہ بھی مجھے اچھی طرح یاد ہے… جب عید کی خوشی میں تم اپنے خوبصورت سفید ہاتھوں میں مہندی رچائے جڑاوی جگمگاتی انگوٹھیاں پہنے شوخ آتشی کپڑوں کو لہراتی ہمارے ہاں آدھمکی تھیں۔ میں باہر جانے کی تیاری کرہی رہا تھا کہ تم نے اچانک دھاوا بول دیا۔ ہاں تمہاری آمد کسی شب خون سے کیا کم ہوتی تھی، تم نے آتے ہی ایک سلام کیا اور اپنا ہاتھ آگے پھیلا کر میری طرف دیکھنے لگیں۔

’’کیوں کیا ہاتھ میں کچھ تکلیف ہے؟‘‘ میں نے خشکی سے پوچھا۔

’’یہ درد دکھ کے جھگڑے چھوڑئیے، ڈاکٹر رضوان! کوئی ڈاکٹری فارمولا یا پریکٹیکل پوائنٹ نہیں جو آپ بھولے جارہے ہیں، لائیے میر ی نکالیے…‘‘

’’عیدی … ؟ ‘‘ میں نے دامن بچایا: ’’بھئی صبح سے عیدی دیتے دیتے میں تو قلاش ہوگیا… تمہاری ادھار سمجھو۔‘‘

’’ارے! وہ دیکھیے باجی کی فوج آرہی ہے۔‘‘

تم نے دروازے کی طرف اشارہ کیا… میں بے ساختہ اس طرف متوجہ ہوگیا اور تم نے تیزی سے میری جیب سے پارکر پین اڑا لیا، جب تک میں معاملے کی نوعیت پر غور کرتا تم دروازے میں کھڑی فرشی سلام کررہی تھیں۔ لیکن آج وہی شوخ و شنگ چہرہ کس قدر مایوسی میں ڈوبا ہوا ہے۔ چنچل ہاتھ کتنی کسمپرسی کے انداز میں تمہارے پہلو میں پڑے ہوئے ہیں، وہ آتشی کپڑوں کی جگہ یہ نیلی کاٹن کی ساڑھی، یہ سیاہ بلاؤز، تمہاری متانت کو بڑھا رہا ہے۔ لگتا ہے جیسے زندگی کو تم نے گتھی کی مانند حل کیا… ایک الجھی ڈور کی مانند سلجھایا ہے… پھر بھی آج تم اس حالت میں میرے سامنے ہو… کیا یہ ضروری ہے کہ ہر دور میں سقراط کو زہر بھرا جام پیش کیا جائے گا؟ ہر عیسیٰ کا مقدر صلیب ہوگا، ہر مریم کی عفت خطرے میں ہوگی؟

اس دن جب میں ڈاکٹری میں کامیاب ہوگیا تب میں نے تمہیں چیلنج کرنے والے انداز سے کہا:

’’کیوں شجی اب عبدالصمد کے ہاں جانے کا اراہ کب ہے؟‘‘

’’میرا ارادہ …‘‘ تم نے حیرت سے کہا…’’ بھلا میں کیوں جانے لگوںگی…‘‘

’’تو پھر پٹیاں کون باندھا کرے گا، ما بدولت تو اب خیر سے محمد رضوان احمد ایم بی بی ایس ہیں۔‘‘

’’اچھا…‘‘ ایک بار پھر شرارت سے تمہاری آنکھیں چمکنے لگیں۔ تو جناب ڈاکٹر رضوان احمد ایم بی بی ایس … خوش قسمتی ہوتی اگر عبدالصمد کا ساتھ ہوجاتا۔ اب تو تمہیں شریف اللہ گورکن سے دوستی کیے بنا چارہ نہیں … بیچارے آپ کے مریض اس جگہ کے علاوہ او رجا بھی کہاں سکتے ہیں۔‘‘

’’سچ! تو پھر سب سے پہلے میں تمہارا علاج کروں گا…‘‘

’’نا… بابا… مجھے آپ جیسے نیم حکیموں سے خدا بچائے…‘‘

تم کانوں پر ہاتھ رکھتے بھاگ گئیں…

آج — تم اسی نیم حکیم کے زیرِ علاج بڑی بے سدھ سی پڑی ہوئی ہو… مجھے کتنی خواہش تھی… کتنی بڑی آرزو کہ زندگی میں ایک بار صرف ایک بار تم میرے اسپتال آکر میری کارکردگی دیکھ جاؤ۔ میرے مریض صحت یاب ہوکر زندگی کی گرمی سے بھر پور توانائی لیے اپنے گھروں کو جاتے ہیں۔ اپنی جنت میں، موت کی بے رحم ٹھنڈک لیے قبرستان کو نہیں … مگر… تم ملیں بھی تو کس حالت میں؟

جب گھر میں میری شادی کے چرچے زور پکڑنے لگے۔ تب … تب جانے کیوں آنکھ موندتے ہی ایک شوخ پیکر میرے تصور میں رقصاں ہوتا، چنانچہ ماں نے میرا پیغام تمہارے ہاں بھجوایا… پھر میں نے جان لیا کہ انسان خواہ لاکھ ترقی کرے، ذرے کا راز پالے، آسمانوں کو روندتا آگے بڑھ جائے مگر کاتبِ تقدیر کے آگے وہ ہمیشہ سے مجبور رہا ہے، ہمیشہ سے سرنگوں… تمہارے ہاں سے صاف جواب آگیا کہ تمہارا رشتہ تمہارے کزن سے ہوگیا ہے۔ اس کے علاوہ غیر خانہ میں شادی بیاہ کا طریقہ تمہارے ہاں نہیں … اس کے بعد میں نے تمہیں کبھی نہ دیکھا۔ تمہاری کوئی آواز نہ سنی… کچھ دنوں بعد پتہ چلا کہ تم سب مستقل طور پر الہ آباد چلے گئے ہو، جہاں تمہاری شادی تھی…

تمہارے جانے کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے اچانک کسی نے مجھے زمین سے اچھال کر خلاء میں معلق کردیا ہو… حالانکہ چھ سالہ رفاقت میں میںنے کبھی تمہیں محبوب کی نظر سے نہ دیکھا۔ کبھی کوئی بات ،کوئی جملہ ایسا نہ کہا جو شبنمی احساسات پر شعلوں کی لپک پیدا کرسکتا… جو دل کی تھمی دھڑکنوں میں طوفانی تلاطم پیدا کرسکتا… نہ کبھی تم سے روایتی قسم کے فلمی عہدوپیمان کیے… پھر بھی … تمہاری کمی نے دل کو خالی بوتل کی طرح کھوکھلا کردیا… روح کسی اہرام کی طرح اپنے ہی پرہول سناٹوں میں گم ہوگئی…

’’ڈاکٹر … بیڈ نمبر ۱۶ بڑا بے چین ہے۔‘‘ نرس نے میری سوچوں کے سلسلے کو منقطع کردیا… ایک نگاہ تم پر ڈالے نرس کو دیکھ بھال کی ہدایت کرتا ہوا میں بیڈ نمبر ۱۶ کی طرف چلا جاتا ہوں…

رات پھر تم موت و حیات کی کشمکش میں رہیں، آکسیجن، گلوکوز، انجکشن کے زیرِ اثر کبھی زندگی تم پر غالب آنے لگتی اور تمہاری پلکیں لرز کر خفیف سی کھل جاتیں۔ ساتھ ہی تمہارے لبوں سے گڈی، منے… کے الفاظ پھسل پڑتے… یہ تمہاری مامتا تھی جو موت کو ہرا کر ایک بار پھر زندگی کے حصار میں اپنی جگہ بنارہی تھی… صبح کی پہلی کرن کے ساتھ تمہاری دھڑکن نبض کی رفتار اعتدال پر آنے لگی۔ چہرے کی نیلاہٹ کم ہوگئی… سانس اپنی رفتار سے چلنے لگی، تم اب خطرے سے باہر آگئی ہو۔ میں اپنے معبود کی بارگاہ میں سجدہ شکر ادا کرنے چلا گیا…

صبح اپنے راؤنڈ پر سب سے پہلے میں تمہارے پاس آیا ہوں۔ تمہاری آنکھیں بند ہیں مگر لرزتے پلکوں سے پتہ چلتا ہے کہ تمہیں ہوش آگیا ہے…میں قریب کرسی پر بیٹھ کر دھیرے سے پکارتا ہوں… شجّی… شجّی…‘‘

تمہاری آنکھیں کھل جاتی ہیں۔ ایک لمحہ دو لمحہ غور کرنے کے بعد تم پھر سے اپنی آنکھیں بند کرلیتی ہو، جیسے خواب میں کوئی صدا سماعت سے ٹکرا گئی تھی۔

’’شجی… شجّی…‘‘ میں ایک بار پھر پکارنے لگتا ہوں، تم میری طرف گہری گہری نظروں سے دیکھنے لگتی ہو…

’’اوہ … تم … تم …ڈاکٹر … رضوان… ‘‘ حیرت و مسرت سے ایک ہلکی سی آواز تمہارے حلق سے نکلتی ہے جو فوراً ہی ایک طویل چیخ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

’’تم نے مجھے کیوں بچایا رضوان… کیوں بچایا… میں مرجانا چاہتی ہوں…‘‘ تمہاری مٹھیاں بند ہونے لگتی ہیں۔

’’نہیں … نہیں … شجی ایسا نہ کہو … خود کشی گناہ ہے… گناہِ عظیم جو کبھی معاف نہیں کیا جائے گا… زندگی تو امانت ہے اس کی جو پیدا کرتا ہے، جو بڑا عظیم ہے… عظمت والا …

’’نہیں … رضوان نہیں … خدا کے لیے مجھے گہری نیند سوجانے دو… گہری نیند … میں سب کچھ بھول جانا چاہتی ہوں…‘‘

’’ہونہہ… تو کیا تم اپنی معصوم گڈی کو بھول گئیں، ننھے منے کو بھی…‘‘ میں نے جیسے زخم کے ٹانکے ادھیڑ دیے … ’’گڈّی…میرا منّا… ‘‘ تم تڑپ اٹھیں… زندگی کی ہلکی سی جوت تمہاری آنکھوں میں جل اٹھی… ہاں … میں انہیں اور اشفاق کو ایک بار دیکھنا چاہتی ہوں… ڈاکٹر … کیا تم انہیں بلانے کا انتظام کرسکتے ہو؟‘‘

پھر تم نے اشفاق کا پتہ بتادیا اور نڈھال ہوگئیں…میں تمہیں ذہنی سکون کی خاطر تنہا چھوڑکر چلا گیا اور تمہارے شوہر کے نام ٹیلی گرام بھیج دیا۔

شام ہوچکی ہے، میں ایک بار پھر تمہارے وارڈ کی طرف بڑھ رہا ہوں۔ دفعتاً تمہارے وارڈ سے بلند ہوتی ہوئی باتوں کی آواز میرے قدم تھام لیتی ہے۔ شاید تمہارے شوہر آگئے۔ میں کوشش کے باوجود اندر داخل نہیں ہوپاتا۔ اچانک تمہاری آواز ابھرتی ہے۔

’’تم دورے پر تھے نہ اشفاق! ایک رات اچانک فرقہ وارانہ فسادات شروع ہوگئے۔ بازار اور دوکانوں کے بعد غنڈوں نے گھروں پر دھاوا بول دیا… اُف وہ رات، وہ بھیانک رات جب غنڈے مال و اسباب کے بعد میری طرف بڑھے… میں نے اپنی تمام قوت صرف کردی، لاکھ تڑپی… گڑگڑائی خدارا مجھے جان سے مار لو مگر یوں بے آبرو نہ کرو… مگر، مگر میری ہر چیخ گھٹ گئی، ہر کراہ دب گئی… اور … اور … ساتھ ہی ایک مرد کی چیخ ابھری… ’’یہ سنانے سے پہلے تم مر کیوں نہ گئیں… تم مر کیوں نہ گئیں، مر کیوں نہ گئیں۔‘‘

’’ہاں میں جانتی تھی تم یہی کہو گے۔ میں تمہاری فطرت سے واقف ہوں… میں نے زہر کی ساری کی ساری شیشی خالی کردی تھی مگر … مگر … یہ ڈاکٹر … اس نے پھر مجھے اس جہنم میں جھونک دیا… بس اب ایک آخری خواہش ہے… صرف ایک بار مجھے اپنے بچوں سے ملا دو … صرف ایک بار۔‘‘

’’نہیں… نہیں … ایک مرد کی سفاک آواز ابھری… میرے بچوں کی ماں ایک آبرو باختہ عورت نہیں ہوسکتی… تم … آج سے میری کچھ بھی نہیں ہو … کچھ بھی نہیں…‘‘ پھر ایک قدآور مرد غصے سے پیر پٹختا باہر نکلا، چلا گیا۔

جب میں تمہارے بیڈ کے قریب پہنچا تمہاری آنکھیں ویران تھیں، چہرہ حد سے زیادہ پیلا پڑتا جارہا تھا … جسم ہلکے ہلکے کانپ رہا تھا… میں پریشان ہوگیا اور جلدی انجکشن تیار کرنے لگا۔

ڈاکٹر … رضوان… مجھے ایک انجکشن ایسا دو… ایسا دو کہ میری یہ آنکھیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند ہوجائیں… تمہاری سانس پھر تیزی سے بے ہنگم ہونے لگی ہیں… میں تڑپ کر تمہارے قریب آجاتا ہوں۔

ایسا نہ کہو شجّی … ایسا مت سوچو … تم … تم … خدا کی قسم تم آج بھی پاک ہو… مریم کی طرح مقدس … کون کہتا ہے کہ تم بے آبرو ہو… بے غیرت ہو… قسم ہے اپنے پیدا کرنے والے کی، میں زندگی بھر تمہارا ساتھ دوں گا… تم اپنے دل سے یہ بوجھ اتاردو… اتار دو… میں زندگی بھر تمہارا ساتھ دوں گا۔‘‘ میں تمہارے تمہارے برف سے سرد ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر زور سے بھینچ دیتا ہوں… تمہاری آنکھیں خفیف سی کھلیں… ایک پرسکون و شاداب سی مسکراہٹ تمہارے لبوں پر پھیل گئی…‘‘

سچ کہتے ہو… رضوان! مجھے یقین نہیں آتا… لیکن ڈاکٹر نہیں… مجھے چلی جانے دو۔ اب مجھے اطمینان ہے کہ … اب کم از کم ایک انسان تو ایسا ہے جو میری پاکیزگی پر قسم کھاسکتا ہے۔ اس تہی دامن زندگی سے … یہ موت … یہ … یک لخت تمہیں ٹھسکا لگتا ہے۔ میں پانی لانے صراحی کی طرف جاتا ہوں۔ تب تک تمہاری سانس اکھڑ چکی ہے، دل خاموش ہے البتہ تمہاری کھلی کھلی حسرت بھری آنکھیں اب بھی میری طرف دیکھ رہی ہیں… تمہاری … ویران آنکھیں … بے روح آنکھیں … جن میں ظلم، جبر، قہر، بربریت کی ایک کہانی سسک رہی ہے… ایک تاراج … زندگی اپنا کفن مانگ رہی ہے… میں انھیں کیا جواب دوں؟ … کیا جواب دوں…؟

میں ایک بار پھر تمہارے ہاتھ پکڑے سسک اٹھتا ہوں … مگر … مگر…

تمہارا سوال بڑی بے چینی سے میرے ذہن میں گشت کررہا ہے … کیا میں اسے بھول سکوں گا۔ کیا اس کا جواب میرے پاس ہے؟… آخر … کوئی تو کہے … کوئی تو بتائے … میں… میں … کیا جواب دوں؟‘‘

شیئر کیجیے
Default image
سلمیٰ شاکر

Leave a Reply