بے وزنی

میں اسے قبر کی گہرائیوں میں لٹا کر جب اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے ساتھ قبرستان سے لوٹ رہا تھا تو مجھے پہلی بار محسوس ہوا تھا کہ ہم دونوں نے زندگی کی وسعتوں کو بہت ہی صحیح ڈھنگ سے سمیٹا تھا، اور ایک مکمل اور بھر پور زندگی جینے کے بعد وہ مجھ سے ایسی بچھڑی تھی جیسے یہ تو ہونا ہی تھا او رایک طے شدہ پروگرام کے تحت ہونا تھا۔ لیکن میں اپنے بیٹے حامد کو کس طرح یقین دلاتا کہ اس کی ماں جس سفر پر نکل چکی ہے، اس کی تیاریاں تو اس نے بہت پہلے ہی کرلی تھیں۔ اب بچا ہی کیا تھا، اس کو کرنے کے لیے۔ ماں کی آرزوؤں کا دائرہ کتنا چھوٹا ہوا کرتا ہے، بیٹا پڑھ لکھ کر بڑی سی نوکری پر لگ جائے یا باپ کی تجارت کو کچھ اور پھیلالے۔ پھر ایک چاند سی بہو ہو، اور پوتوں پوتیوں کی کلکاریاں۔

یہ سارا کچھ بالکل اسی طرح ہوا جس طرح اس نے چاہا تھا مگر جب رات آئی تو سارے عزیز و اقارب ایک تھکن کے احساس کے ساتھ مجھ سے جدا ہوکر شہر میں اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ جاتے جاتے انھوں نے مجھ سے ، میرے بیٹے، بہو اور پوتوں پوتیوں سے ہمدردی کا بھی اظہار کیا تھا شاید، اور میں اپنی مسکراہٹ کے ساتھ ان کے جذبات کا شکریہ ادا کرکے ان کو رخصت کرتا رہا تھا۔

ایک ایک کرکے جب سب چلے گئے تو حامد نے مجھے بتایا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ آج رات میرے ساتھ یہیں گزارے گا۔ وہ سوچ رہا ہوگا کہ کم سے کم آج کی رات تو ڈیڈی کو تنہانہیں چھوڑنا چاہیے۔ لیکن میں نے کہا کہ اس تکلف کی ضرورت نہیں ہے، یہاں بہو اور بچوں کو تکلیف ہو گی۔ تم لوگ اپنے فلیٹ چلے جاؤ اور آرام کرو۔ میرے اصرار پر اتنا ہوا کہ بہو، بچوں کو لے کر چلی گئی۔ مگر حامد میرے پاس ہی رہ گیا۔ میں نے بھی سوچا کہ یہاں رہ کر وہ اپنی ماں کو زیادہ سے زیادہ محسو س کرنا چاہتا ہو شاید۔

نوکر نے کھانا لگادیا تھا مگر نہ میں کھانے کے موڈ میں تھا او رنہ حامد۔ میں تو بس آنکھیں بند کرکے ان راستوں اور مرحلوں کو دیکھنا چاہتا تھا، جو میں نے پچھلے پینتیس سال میں اس کے ساتھ گزارے تھے۔ میں نے دیکھا کہ حامد بغل کے پلنگ پر کپڑے تبدیل کرکے لیٹ چکا ہے۔ نوکر نے بلب آف کردیے تھے، میرے کمرے میں ہمیشہ دو پلنگ ہوا کرتے ہیں، ایک پر میں سویا کرتا تھا، اور دوسرا خالی پڑا رہتا تھا۔ کبھی کبھی کوئی عزیز آجاتا تو اس پر سوجاتا، ورنہ اس کی سفید چادر پر کبھی شکن نہ پڑتی، بغل کے کمرے میں بھی اسی طرح دو دیوان تھے۔ایک حامد کی ماں کے لیے تھا، ا ور دوسرا کبھی حامد کے لیے ہوا کرتا تھا۔ لیکن اس نے جیسے ہی میری تجارتی حدوں کو آگے بڑھانے میں کامیابی حاصل کرلی میں نے اس کی آسائش کے لیے ایک مہنگے علاقے میں بڑا اور آرام دہ فلیٹ خرید کر اس کے حوالے کردیا۔ نئے ماڈل کی کار بھی اسے مہیا کردی۔ اور اپنے تاجر دوست کی اکلوتی بیٹی سعدیہ سے اس کی شادی بھی کردی۔ ان سارے پروگراموں میں وہ کتنا کم تھی اورمیں کتنا زیادہ تھا، کبھی ہم نے سوچا ہی نہیں۔ اس لیے کہ اب تک ہم ایک ساتھ، ایک ہی انداز میں سوچتے آئے تھے شاید۔

ہم ایک دوسرے کو کچھ یوں محسوس کرتے تھے، رات کا کھانا ٹیبل پر لگا ہوا ہے۔ ہم آمنے سامنے کی کرسیوں پر بیٹھے ہیں۔ اس نے میری پلیٹ میں کھانا لگادیا ہے۔ پھر خودلیا ہے۔ پھر ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھ کر اپنے اپنے نوالے اٹھائے، مگر اس نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ اسے کچھ یاد آگیا …’’ایسا ہے کہ حامد…‘‘

میں نے اشارہ سے اس کو خاموش کیا اور اپنا لقمہ نگلنے کے بعد فوراً بول پڑا۔

’’تم کہنا چاہ رہی ہو کہ حامد کے لیے ایک خوبصورت سا فلیٹ خرید لیا جائے۔‘‘

’’بالکل صحیح، میں یہی کہنا چاہتی تھی۔‘‘

’’کسی اور موقع پر جب میں نے اس طرح بات شروع کی تھی۔‘‘

’’ہماری کار بہت پرانی ہوچکی ہے۔‘‘

اس نے مجھے بولنے ہی نہیں دیا۔

’’حامد کے لیے نئی کار کا ڈی لکس ماڈل خرید لیجیے اور اس کی سالگرہ پر پرزنٹ کردیجیے۔‘‘

کبھی کبھی مجھے لگتا کہ ہم دونوں میں اس حدتک ہم آہنگی کا ہونا کہیں مافوق الفطری عمل تو نہیں۔ کبھی کبھی لگتا ہم دونوں کا دماغ کمپیوٹر بن چکا ہے۔ کبھی محسوس ہوتا کہ کوئی گڑبڑ ضرور ہے۔ ورنہ پینتیس سال کی رفاقت میں کبھی تو اس کو مجھ سے کوئی شکایت ہوئی ہوتی۔ اس کو نہیں تو مجھے اس سے کسی بھی مسئلے پر اختلاف ہوا ہوتا۔ میں نے اپنے دماغ پر بہت زور ڈالا کوئی بھی لمحہ مجھے ایسا یاد نہیں آسکا کہ جب اس کی وجہ سے مجھے یا میری وجہ سے اس کو کبھی کوئی پریشانی ہوئی ہو۔

لیکن ایک بار ایک دلچسپ صورت اس وقت ضرور پیداہوگئی تھی جب ہم حامدکی شادی کی تیاریوں پر نظر ثانی کررہے تھے۔ پانچویں دن بارات کی تاریخ تھی۔ دعوتی کارڈ تقسیم کیے جاچکے تھے۔ حامد کے فلیٹ کو انٹیریر ڈیکوریٹر مکمل طور پر سجا چکا تھا۔ دوسرے صوبوں سے دور اور قریب کے رشتہ دار، احباب آنا شروع ہوچکے تھے، سبھوں کے لیے شہر کے ایک مشہور ہوٹل کے کمرے بک تھے۔ حامد کا شہانہ لباس تقریباً تیار ہوچکا تھا۔ بہو کے لیے زیور، اور بنارسی ساڑیاں خریدی جاچکی تھیں۔ انھیں تیاریوں کے ہجوم میں ایک روز اس نے مجھے اپنی ساڑی اور میراسوٹ نکال کر دکھاتے ہوئے مجھ سے کہا تھا:

’’ذرا ان کو غور سے دیکھئے تو…‘‘

میں نے دیکھا۔ مجھے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آیا، اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی۔ میں نے اس سے پوچھا:

’’آخر کیا ہے اس میں؟ تم کہنا کیا چاہتی ہو؟‘‘

میں نے پھر دیکھا، الٹ پلٹ کر دیکھا، میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا۔ میں نے اس کے چہرے پر نظر ڈالی۔ وہ بدستور مسکرا رہی تھی۔ تب مجھے پہلی بار لگا تھا کہ میں اس کے ذہن کو نہیں سمجھ پایا ہوں۔ کمپیوٹر میںکہیںکچھ گڑ بڑ ہوگئی ہے۔ میں نے اس سے پھر کہا:

’’کھل کر بتاؤ آخر کیا چکر ہے۔‘‘

اس نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا:

’’دیکھئے جناب! نہ آپ جوان رہے اور نہ میں اور میری وزنی ساڑی، یہ سرخ شوخ رنگ۔ اور آپ کے سوٹ کا یہ ڈیزائن، لوگ کیا کہیں گے؟ آپ کو یاد ہے نا آپ نے اس سال اپنی ساٹھویں سالگرہ منائی ہے۔‘‘

’’تو یہ بات ہے۔ مگر مسئلہ ہمارا یا ہماری پسند کا نہیںہے۔‘‘

’’تو کس کی پسند کا ہے؟‘‘

’’بھئی! یہ حامد اپنی پسند سے لایا ہے اور ہم اس کا دل تو نہیں توڑ سکتے ہیں نا۔‘‘

’’تویوں ہے۔ میں نے تو ایسا سوچا ہی نہیں تھا۔‘‘

میں نے محسوس کیا کہ حامد سوچکا ہے، مگر میری آنکھوں میں نیند کہاں تھی، میں تو ماضی کی پگڈنڈیوں پر بھاگتا پھر رہا تھا، مگر بھاگتے بھاگتے تھکن کا احساس بھی یہ سوچ کر نہیں تھا کہ زندگی کے باقی دنوں میں وہ میرے ساتھ نہیں ہوگی۔ مجھے یاد آیا اس روز وہ کتنی خوش تھی۔ اتوار کی شام تھی۔ ہلکی ہلکی بارش ٹھنڈی ہواؤں کی گدگداہٹ … میں شال اوڑھے، صوفے میں دھنسا غالبؔ کی غزلوں کا کیسٹ سن رہا تھا: مہدی حسن کی آواز کا جادو ماحول کو اپنے اثر میں لے رہا تھا، جب اس شعر نے

لازم تھا کہ دیکھو مرا رستا کوئی دن اور

تنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اور

میرے دل کو جکڑنا شروع کیا ہی تھا کہ وہ میرے پاس آگئی اور بیٹھتے ہی اس نے ٹیپ ریکارڈ کا سوئچ آف کردیا۔ اس کا مطلب تھا کہ وہ کوئی بہت اہم بات کرنا چاہتی ہے۔ اس نے اس طرح شروع کیا تھا:

’’دیکھئے آپ ستر کے ہوچکے ہیں اور میں ساٹھ کی۔‘‘

’’یعنی تم یاد دلارہی ہو کہ ہم کھوسٹ بوڑھے ہوچکے ہیں۔‘‘

اس نے مجھے سمجھانے کے انداز میں کہا:

’’اس طرح نہیں سوچتے مائی ڈیئر! سوچنا یہ ہے کہ اب ہمارے آخری سفر کا نقارہ کسی وقت بھی بج سکتا ہے۔‘‘

’’تو ہمیں اب اپنی موت کا انتظار کرنا ہی چاہیے۔‘‘

اس نے بہت ہی لگاوٹ کے ساتھ مجھے دیکھا:

’’مگر ایک مسئلہ ہے کہ ہم میں سے پہلے کون جائے گا؟‘‘

میں نے جواب دیا:

’’پہلے میں موت کا استقبال کروں گا۔‘‘

وہ مسکرائی:

’’یعنی آپ مجھے چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوںگے؟بیوفا کہیں کے۔‘‘

لیکن آخری سفر پر پہلے کون نکل کھڑا ہوگا، یہ کس کو پتہ ہے۔ یہی سوچ کر شاید اس نے پروگرام بنایا تھا کہ ہم دونوں علیحدہ علیحدہ ریڈیو کیسٹ پر ایک ایک پیغام ریکارڈ کردیں۔ جیسے ہم ایک دوسرے سے کیا چاہتے ہیں؟ جیسے مرنے کے بعد تم مجھ سے یا میں تم سے کس طرح صبح و شام کرنے کی توقع رکھتی ہوں۔ جیسے تم اپنی موت کے بعد کیا چاہوگے کہ میں کس طرح کے کھانے کھاؤں۔ کون سے لباس پہنوں۔ نہیں نہیں! مجھ سے سفید ساڑی بالکل نہیں پہنی جائے گی۔ یعنی ساری تفصیل۔ ساری جزئیات ہم ایک دوسرے کے لیے ریکارڈ کرجائیں گے۔ مگر ایک شرط ہوگی کہ ہم میں سے ایک کے بچھڑنے کے بعد ہی دوسرا اس ریکارڈ کو سن سکے گا۔ تو شرط منظور ہوگئی۔ اور اسی شام ہم نے ایک دوسرے سے الگ ہوکر وہ سارا کچھ ٹیپ کرڈالا جس کی بعد میں ہم میں سے کسی ایک کو ضرورت ہوگی۔

حامد کے خراٹے کی آواز کمرے کے اندھیرے میں ابھرنے لگی تھی، اور مجھ سے نیند کوسوں دور تھی۔ ایسے میں مجھے کیسٹ یاد آیا کیوں نہ ا بھی سنا جائے۔ شاید دل کو کچھ قرار آجائے۔ اس احساس کے ساتھ ہی میرا دل بلیوں اچھلنے لگا۔ جانے کیا کچھ اور کس لہجے میں اس نے مجھ سے کہا ہوگا۔ مگر حامد کی نیند ٹوٹ گئی تو۔ اس ڈر سے میں آہستہ آہستہ اپنے پلنگ پر سے اٹھا۔ اندھیرے ہی میں ٹیبل پر سے ٹیپ ریکارڈ اٹھایا اور ڈراور سے کیسٹ نکال کر بغل کے کمرے میں چلا آیا۔ درمیان کا دروازہ ہولے ہولے بند کیا اور پردے کھینچ دیے تاکہ روشنی اور آواز سے حامد کی نیند خراب نہ ہو۔ میں نے روشنی کی۔ ریکارڈ میں کیسٹ لگا کر پلیر آن کردیا۔ اور دل تھام کر ہمہ تن گوش بن گیا۔ کوئی آواز نہیں۔ گھر رگھرر، شائد شروع کا کیسٹ خالی ہو۔ اسپیڈ نمبر بھاگتے رہے، پھر کھٹاک کی آواز کے ساتھ کیسٹ کا ایک سائڈ ختم ہوگیا۔ میرے دل کی دھڑکن بہت تیز ہوگئی پھر بھی میں نے اپنے حواس کو قابو میں کر ہی لیا۔ سوچا کیسٹ کے دوسرے حصے میں اس نے ٹیپ کیا ہو شاید۔ سائڈ بدل کر میں نے پلیئر آن کردیا، پھر گھر گھرر کی ایک بھاگتی آواز اور پھر وہی کھٹاک کی آواز کے ساتھ یہ دوسرا سائڈ بھی ختم۔ تبھی مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ میں خلاؤں میں ایک بے وزن وجود بن کر بے مقصد ڈولنے لگا ہوں۔

شیئر کیجیے
Default image
ظفر اوگانوی

Leave a Reply