گلی کی شہزادی

میرے وطن میں نام رکھنے کا بہت شوق ہے۔ لڑکی خواہ گلی میں پیدا ہو یا اونچے ایوان میں۔ اکثر نام شہزادی رکھ دیا جاتا ہے۔

میری ایک سہیلی ہے۔ اس کے شوہر نے اسے خوش کرنے کے لیے شادی ہوتے ہی شہزادی کا خطاب دے دیا۔ اس کے پاس سیکڑوں خطوط ہیں۔جن میں اسے شہزادی لکھا گیا اور یہ لکھنے والا کاغذی سرٹی فیکٹ دے کر دور کہیں کسی ایسے دیس میں چلا گیا، جہاں بیویوں کو شہزادی کی طرح رکھتے تو ہیں لیکن پکارنے میں اس حسین لفظ کو زحمت نہیں دیتے۔

میری ایک اور سہیلی تھی۔ اس کا نام بھی اتفاق سے شہزادی تھا۔

کھانے پکانے والی ملازمہ رکھی۔ قسمت کی ستم ظریفی یہی دلنشین نام اس کا بھی تھا۔ میری یہ تمام جانی پہچانی شہزادیاں مجھ سے اکثر فرمائش کیا کرتی ہیں کہ ہمارا حال افسانے میں لکھ دیجیے یا ہمارا ناول بنادیجیے۔

ایک لڑکی میری خاص دوست بن گئی ہے۔ جانے اسے شہزادی کس نے کہہ دیا، اگرچہ صبح و شام اس کی ماں دھوئیں کے حسین سرمئی لچھوں میں چپاتیاں پکاتے پکاتے تھک چکی۔ پلکوں کا قاتل ہونا باقی نہیں رہا، نگاہوں کی جیوتی بجھی ہوئی چنگاریاں بن گئیں!!

آج میرا دل چاہ رہا ہے کہ میں سچ مچ افسانہ لکھ ڈالوں۔

لیکن میرے دیس کی حسین شہزادیو! آخر میں تم پرکیا لکھوں—؟

باپ کے ہاں پھٹی چادر میں جنم لیا۔

ماں نے آہ بھری۔

پڑوسن نے ترس کھایا۔

شوہر کے ہاں پہنچیں۔ اس نے چند دنوں میں بیزاری کا اعلان کردیا۔ کبھی شہر چھوڑ کر بھاگ گیا۔ اس سے آگے والی منزل میں بچوں نے خدمت لی۔ خدمت کے عوض طعنے دئیے۔

یہاں سے میری غریب شہزادی نے ایک اور گلی تلاش کرلی، جہاں ہاتھ بکتے ہیں ذات نہیں بکتی۔ نام قائم رہے ہیں۔ وہ ہر قیمت پر شہزادی ہی پکاری جاتی ہے۔

’’کھانے میں کیا دیر ہے شہزادی!؟‘‘

’’پانی جلدی لاؤنا شہزادی؟‘‘

’’ارے شہزادی تم کہاں مرگئی تھیں؟ نو بج چکے؟

’’بستر پر چادر لگانا پھر بھول گئیں شہزادی؟‘‘

اے میری دوست شہزادی… تجھے کیا معلوم کہ تیرے پھٹے کپڑوں کوبکھری لٹوں کو دیکھ کر مجھ پر کیا گزری ہے؟ کاش تجھے اندازہ ہوسکتا؟ کاش…

گلی کی معصوم شہزادی… بے فکر رہ، تیری زندگی میں کوئی دوراہ نہیں، چوراہ نہیں اور نہ انقلاب کی کوئی لہر۔ نہ فرح دیبا جیسی تصویر۔

دروازے کا پردہ پھٹتا جارہا ہے۔ اٹھ اور ہمت کر— اس میں ایک ٹکڑا پیوندکا اور لگادے۔ کھڑکی کی چلمن آہستہ چھو، یہ بار ش سے گل چکی ہے۔ ایسا نہ ہو کہ یہ نیچے گرجائے۔

بستر کو اب چادر کی ضرورت نہیں یہ فالتو ناز و ادا ہیں۔ اس چادر کی قمیص بنالے تاکہ چند مہینے اور گزرجائیں کیا بیٹھی سوچ رہی ہو— یہ کرتا جلدی جلدی سی لو۔ آنکھوں پر ٹھنڈے پانی کا چھپکا مارو۔ ایسا نہ ہو نیند آجائے اور دس روپئے وقت پر نہ مل سکیں۔

میری غریب شہزادی محلے میں کسی کے ہاں نہ جا… یہ تیرے نام کا بھی احترام نہیں کرسکتے۔

میری پرستار… میں افسانہ نگار تو ضرور ہوں لیکن پھٹے کپڑوں اور ننگے گھٹنوں کا نقشہ کس طرح بتاؤں کہ میرے دل کو تڑپا دیتے ہیں۔ تجھ سے ملنے کی مجھے قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ رات گئے تک دل دھڑکتا رہتا ہے۔

کسی کتاب میں دل نہیں لگتا…کوئی اچھا سا شعر یاد نہیں آتا۔

گلی کی شہزادی موجودہ مصیبت سے نہ گھبرا۔ یہ تیری تقدیر ہے۔

انصاف کو نہ پکار… تیری آواز بلند ہوتے ہوئے جھنکار بن جائے گی۔

ساتھی تلاش نہ کر۔ وہ صرف چند راتوں کا مہمان تھا اور آہستہ بول… کہیں محلے والے تیری دائمی درد ناک زندگی سے آگاہ نہ ہوجائیں۔

میری جان … میری شہزادی… قسمت کی سیڑھیاں بہت اونچی ہیں۔ وہاں پہنچنے کا خیال چھوڑ دے۔

تو نے پھٹے بستر میں آنکھ کھولی ہے۔ یہیں اپنے سارے خواب دیکھ لے۔

سردی لگ رہی ہے؟ میرے دیس کی شہزادی کو… ؟ بارش کی بوچھار کھڑکی سے آرہی ہے۔

یہ بہت ہی معمولی خراش ہے۔ زندگی میں اس سے بڑھ کر طوفانوں کی توقع رکھ۔

پڑوس میں شادی ہے، بہت شاندار بارات ہے۔

بائیں طرف جلسے ہیں۔ سامنے سالگرہ ہے۔ اتنی بہت ساری اکٹھی خوشیاں؟

لیکن میری روح کی شہزادی… تو اپنی گندی کوٹھری کی سیڑھیاں اتر کر کہیں نہ جانا، ورنہ ہرجگہ تجھے زمین پر بیٹھنے کا اشارہ ہوگا۔ کیونکہ تیری قمیص میں کئی پیوند ہیں اور دوپٹہ کئی جگہ سے پھٹ چلا۔

ایسے میں بھلا کرسی پر کیسے بیٹھ سکے گی؟ اگر غصہ میں اپنے شریف ہونے کا خیال آگیا اور بیٹھ بھی گئی تو پھر تیرا اپنا دل گھبراجائے گا۔ بہت جلد اپنی گلی یاد آنے لگے لگی۔

میری شہزادی … اور بھی بہت سے اچھے نام ہیں … تمہیں کیا فکر …؟

میں تمہاری دوست ہوں ہزاروں بہترین نام تجویز کردوں گی۔

کبھی کبھی تو میں اپنا نام بھی غلط ہی تصور کرنے لگتی ہوں…

آؤ میری افسردہ دوست کوئی نیا نام سوچیں۔ تم ہی بتاؤ؟ کیا نام؟ کیا نام تمہیں پسند ہوسکتا ہے؟!!

شیئر کیجیے
Default image
شفیق بانو

Leave a Reply