بکری کی موت

بکری مرگئی تھی۔

بڑی ہی خوبصورت اور روپہلے سنہرے رنگ والی جوان بکری۔ اور مائی تاباں ا س کے پاس بیٹھی آنسو بہا رہی تھی۔ وہ بھیگی آنکھیں پلو سے بار بار پونچھ رہی تھی مگر آنسو تھے کے تھمتے ہی نہ تھے۔ نہ جانے یہ اتنے سارے آنسوکہاں سے آجاتے ہیں؟ دکھی لوگوں کی آنکھوں میں۔

غریبوں کی آبادی سے جب وہ عورت میرے سامنے اچانک آکر کھڑی ہوگئی تو میں نے غیر ارادی طور پر اس کے سروپا کا جائزہ لیا۔ اس کے کالے سانولے چہرے پر غربت کی پرچھائیاں تھیں اور آنکھیں غیر آباد جزیروں کی طرح۔ جہاں مسرت کی کوئی کشتی کبھی لنگر انداز نہ ہوئی ہو۔ اس نے کالی ململ کا کرتا پہن رکھا تھا۔ اور معمولی سی دھوتی، ٹوٹی ہوئی جوتی اور پاؤں پر میل جما ہوا۔ اور تار تار پیوند لگی اوڑھنی وہ مجھے بڑے ہی بے بس لگ رہی تھی۔

وہ کہنے لگی … ڈاکٹر جی! میری بچی عرصے سے بیمار ہے۔ غریبوں کے جتنے ٹوٹکے ہوتے ہیں سب کردیے۔ اب آپ کی طرف آئی ہوں۔ سنا ہے آپ غریبوں سے ہمدردی رکھتے ہیں۔میرے پاس فیس نہیں اور دوائی کے پیسے بھی شاید ہی ادا کرسکوں۔ ان حالات میں خدا ترسی کے طور پر کیا آپ میری بچی کو چل کر دیکھ سکتے ہیں…؟ اس نے رحم طلب نگاہوں سے میری طرف دیکھا … اور میں چپ چاپ اس کے ساتھ ہولیا۔

مجھے ٹھیک طور پر معلوم نہ تھا کہ وہ عورت کہاں سے آئی ہے، اس لیے میں اس کے پیچھے ہولیا۔ وہ میرے آگے آگے تیز تیز قدم اٹھاتی ہوئی غریبوں کی آبادی کی طرف چل پڑی۔

یہ آبادی جو شہرسے تھوڑے سے فاصلے پر بنی تھی۔ غریبوں کی آبادی کہلاتی تھی۔ لوگ کہتے ہیں کہ دس بارہ سال پہلے ایک نیک دل کلکٹر صاحب نے یہ کالونی غریبوں کو مفت زمین الاٹ کرکے بنوائی تھی اور لوگ یہاں کچے مکان بناکر رہنے لگے تھے۔ اس آبادی کو دیکھ کر گمان ہوتا تھا کہ شاید دنیا میں سب لوگ غریب ہی ہیں۔ اور یہ بات یوں بھی ٹھیک ہی ہے۔ دنیا میں سب لوگ غریب ہی تو ہیں۔ کوئی دولت کا غریب، کوئی علم اور عقل کا اور کوئی دین کا غریب۔ اور سنا ہے کہ غریب وہ ہوتا ہے جس کا کوئی دوست نہ ہو۔

جب ہم ایک فرلانگ کا فاصلہ طے کرنے کے بعد غریبوں کی آبادی میں داخل ہوئے تو مجھے بہت عجیب لگا۔ کچے کچے بے ترتیب، اونچے نیچے کوٹھے۔ کسی کے شہتیرترچھے اور کسی کے خم کھائے اور کئی کئی زاویے بناتے ہوئے۔ کسی کا گھاس پھونس کا دروازہ اور کسی کا لکڑی کے دوچار بالے جوڑ کر بنایا ہوا بازو پھیلائے کھڑا دروازہ۔ لوگوں نے اپنی اپنی بساط کے مطابق آبادی کی تھی۔ کسی کے صحن میں شیشم کا درخت تھا اور کسی کے گھر میںجامن کا۔ میں ایک ایک دروازے سے گزرتا ہوا غریبوں کی آبادی کا جائزہ لے رہا تھا۔ ایک جگہ ایک بوڑھا رسی بٹ رہا تھا۔ دوسری جگہ ایک عورت گائے کے بچھڑے کو لسّی پلا رہی تھی۔ کوئی عورت دھان کوٹ رہی تھی۔دوسری چولہا چڑھا رہی تھی اور ساگ کاٹ رہی تھی۔ اور کڑوے کسیلے دھوئیں سے اس کی آنکھیں بھر گئی تھیں۔ بعض لوگ صحن میں چٹائی بچھائے اس پر بیٹھے مختلف کام کررہے تھے۔

میں نے اس بچی کو دیکھا جس کے علاج کے لیے گیا تھا۔ میں نے بچی کو انجکشن دیا۔ مجھے اس گھر کے درودیوار اس کے مکینوں پر بڑا رحم آیا۔ میں نے اس کی ماں سے وعدہ کیا کہ ہر روز آؤں گا اور انجکشن لگاؤں گا۔

جب میں واپس آرہا تھا۔ تو ایک اور گلی سے گزرا۔ اس راستے میں مجھے ایک کھلی سی جگہ نظر آئی۔ جو تین طرف سے دوسرے لوگوں کی دیواروں سے گھری ہوئی تھی اور چوتھی طرف گھاس پھونس کا دروازہ تھا۔ اس میں برگد کا سبز پتوں والا خوبصورت درخت شاخیں جھکائے کھڑا تھا۔ اس کے ساتھ ایک نہایت خوبصورت بکری بندھی ہوئی تھی۔ اور بکری کے ساتھ ہی گھاس پھونس کی بنی ہوئی ایک کٹیا تھی۔ جس میں مائی تاباں رہتی تھی۔ لیکن یہ تو مجھے بعد میں پتہ چلا تھا۔ اس روز تو مائی تاباں موجود نہ تھی۔ صرف سرسبز پتوں والا برگد کا درخت کھڑا تھا اور اس کے ساتھ بندھی ہوئی بکری۔ جانے کیوں مجھے یہ جگہ بڑی پسند آئی۔ میں ایک دومنٹ تک وہاں کھڑا اس کے ماحول کو دیکھتا رہا۔ اور میرے دل میں یہ خواہش پیدا ہوئی کہ اس گھنی چھاؤں والے چپ چاپ کھڑے درخت تلے بیٹھ جاؤں اور اس سادہ سی پرسکون جگہ پر بیٹھ کر کوئی کہانی لکھوں۔ مجھے ایسی پرسکون جگہ ہمیشہ ہی پسند رہی ہے۔

اب میں ہر روز اسی راہ سے گزرنے لگا۔ اور ہر بار میرے دل میں یہی خواہش پیدا ہوئی کہ ہرے اور چکنے پتوں والے برگد کے درخت تلے بیٹھ جاؤں اور اسی سکون سے لطف اٹھاؤں۔

ایک روز جب میں انجکشن دے کر آیا تو سچ مچ ہی برگد کے درخت تلے جاکر کھڑا ہوگیا۔ مائی تاباں اپنی کٹیا سے نکل کر میرے سامنے آکر کھڑی ہوگئی۔ ڈاک دار جی سلام! کیڑی کے گھر نرائن کہاں سے آگیا۔ آؤ بیٹھو! بسم اللہ! مگر غریبوں کے ہاں آپ کے بٹھانے کی جگہ کہاں ہے۔ یہاں تو گھاس کی دیواریں گھاس کے فرش اور بس گھاس کھودنے اور گھاس پر بٹھانے والے لوگ ہیں۔ مائی تاباں جلدی سے کٹیا میں گئی اور ایک ٹوٹی ہوئی چارپائی اٹھا لائی۔

مائی تاباں! مجھے تمہاری یہ جگہ بڑی پسند ہے۔ میرا دل چاہتا ہے کہ برگد کے اس درخت تلے بیٹھ جایا کروں اور اس کی ٹھنڈی چھاؤں سے لطف اٹھاؤں۔ یہ تو بہشت کی طرح خوبصورت ہے۔

سو بسم اللہ… سو بسم اللہ… مائی تاباں کے چہرے پر ایک تبسم اور ایک نور کھل گیا۔ اور اس کی آنکھوں میں خلوص کے آبشار گنگنائے… غریب کے دل کا ساز بھی کتنا عجیب ہے۔ شفقت کی ذرا سی مضراب سے پورے زور سے بجنے لگتا ہے۔

مائی تاباں! تمہاری یہ بکری بہت اچھی ہے۔ کتنے میں خریدی ہے؟ غریب لوگ کچھ بھی نہیں خرید سکتے بیٹا جی! بس چھوٹی سی بچی تھی… میں نے اس کو پالا… دن رات اس کی رکھوالی کی… اب جوان ہوگئی ہے ذرا دیکھو ناں اس کے روپہلے سنہرے حاشیے بنائے ہوئے دھاریوں والے بال… مجھے کئی لوگوں نے بتایا ہے کہ اس پر جگہ جگہ اللہ محمدﷺ کا نام لکھا ہوا ہے۔ کیوں نہ ہو… ہر چیز اللہ محمدؐ کی ہی تو ہے۔ بہت لوگ آتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بکری کو بیچ دو… مگر میری تو یہ اولاد ہے… بیٹا جی! اولاد کو کون فروخت کرتا ہے… میں تو پل پل اس کو دیکھتی ہوں… اور ایک لمحہ بھی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیتی… اور پھر میں پیسے لے کر کیا کروں گی… پیسے تو بھاگ کر پیسے والوں کے پاس چلے جاتے ہیں… غریبوں سے ان کا کیا ناطہ؟

بکری نے میں میں کی آواز نکالی اور مائی تاباں نے جلدی سے اٹھ کر اس کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا۔ جی میری بچی! بھوک لگ گئی —؟

اور آج جب میں اس راہ سے گزرا تو مائی تاباں کی بکری مری پڑی تھی۔ اور وہ پاس بیٹھی خون کے آنسو رو رہی تھی۔

مائی تاباں بکری کو کیا ہوا… مجھے سخت دکھ ہوا۔

بیٹا جی! اللہ کو یہی منظور تھا…

لیکن ہوا کیسے…؟

بیٹا جی! میں نے آپ کو بتایا تھا کہ بہت سے لوگ اس بکری کو خریدنے آتے تھے، مگر میں ہمیشہ انکار کرتی تھی… کل چودھری کا لڑکا ادھر آنکلا… اس نے بکری کو دیکھا تو اس پر ریجھ گیا… اور کہنے لگا کہ بکری مجھے دے دو اس کے پیسے لے لو… میںنے جواب وہی دیا جو سب کو دیتی ہوں… وہ بولا میں یہ بکری ضرور لوں گا… مجھے یہ بے حد پسند آئی ہے۔

میں نے کہا بیٹا! یہ بکری میری اولاد ہے… اور اولاد کو کون بیچتا ہے؟

غریب تو ہر چیز بیچتے ہیں… اس نے ناک چڑھا کر کہا… میں بھی غصہ کھا گئی تم بڑے ہوتو اپنے گھر ہو… کہاں سے آگئے تم غریبوں کے نام دھرنے والے۔ وہ بگڑا اور کہنے لگا… بکری تمہارے پاس بھی نہ رہے گی۔وہ چلا گیا، رات تک بکری ٹھیک ٹھاک تھی … بکری بھی سوگئی اور میں بھی۔اور صبح جب میں نماز کے لیے اٹھی تو بکری مری پڑی تھی… اور اس کے منہ سے خون آرہا تھا۔ مائی تاباں یہ کہہ کر زار زار رونے لگی۔اور مجھے ایک دم یوں لگا جیسے بکری نہیں مری بلکہ ساری انسانیت مرگئی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
عارف حسین سہارنی

Leave a Reply