ہدف

ہدفیہ بہت دنوں کا ذکر ہے:

اس روز ہم بہت سے دوست قریبی دریا پر پکنک منانے گئے تھے۔ شہر کے اکثر لوگ چھٹی کے دن تفریح کے لیے وہیں جایا کرتے تھے۔ طالب علموں کی پارٹیاں بھی برسات کے دنوں میں وہیں ہنگامے کیا کرتیں۔ دریا اس مقام سے ایک خوبصورت نیم دائرہ سا بناتے ہوئے بائیں سمت کو مڑ گیا تھا۔ اس کے جنوب مشرقی سمت، دریا کے کنارے سرسبز گھاس کا ایک وسیع و عریض قطعہ پھیلا ہوا تھا۔ ہم نے اس روز یہیں پڑاؤ ڈال رکھا تھا۔

دریا میں دور دور تک کشتی رانی اورکھیل کود، اور دھینگا مشتی کے بعد تھک ہار کر ہم نے تھوڑے سے وقفے کے بعد کھانا کھایا اور آرام کرنے کے لیے لیٹ گئے۔

کوئی آدھ پون گھنٹے کے بعد بے اختیار ہوکر میں اٹھ بیٹھا اور دریا کے کنارے کنارے مشرقی سمت چلنے لگا۔ سہ پہر کا وقت تھا۔ ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی۔ اس نے میری بوجھل پلکوں کو ٹھنڈک پہنچا کر غنودگی کو بھگا دیا تھا۔

میں چلتا گیا۔ ٹھنڈی ٹھنڈی ریت، دریا کی اچھلتی کودتی، ایک دوسرے سے دست بہ گریباں لہریں۔ دریا کے اس پار کوئی دس بارہ کوس پر پہاڑوں کی چوٹیاں صاف نظر آرہی تھیں۔ ہلکے ہلکے بادل چھائے ہوئے تھے۔ میں دریا کے عین کنارے ایک ریتیلی جگہ بیٹھ گیا۔

اس وقت میرا دل مسرت سے لبریز تھا۔ تنہائی میں اگر ایسا پیارا ماحول میسر آجائے تو پھر روح کے سارے پردے ایک ایک کرکے اتر جاتے ہیں۔ روح کسی اچھلتے کودتے بچے کی طرح مچلتی اور قہقہے لگاتی پھرتی ہے۔ دل کے کنول کھل اٹھتے ہیں۔ جسم ہلکا پھلکا محسوس ہوتا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے فطرت اپنی ساری خوشیاں آج ہی لٹا دینے کو تیار ہے اور کائنات اپنی ساری رعنائیوں سمیت مسکرا رہی ہے۔ کچھ یہی کیفیت مجھ پر اس وقت طاری تھی۔

میں دریا کے کنارے بیٹھا ہوا آہستہ آہستہ ریت کی مٹھیاں بھر بھر کر دریا کی سطح پر پھینکنے لگا۔ ریت مٹھی سے نکلتے ہی سطحِ آب پر بکھر جاتی اور فوراً دریا کی تہہ میں چلی جاتی۔ جیسے سطح پر کوئی چیز تھی ہی نہیں۔ زور سے آئی ہوئی کوئی لہر ریت کو نہایت تیزی کے ساتھ اپنی رو میں بہا لے جاتی۔

اس وقت میرے دل پر مسرت ولطف کی وہ کیفیت طاری تھی جسے محاورے کی زبان میں ’’بلیوں اچھلنا‘‘ کہتے ہیں۔ غم دو جہاں سے بے نیاز، فطرت کی گود میں ایک شوخ اور چنچل بچے کی طرح گدکڑی بھرتا پھرتا تھا۔ میں اس کی یہ کیفیت دیکھ کر آہستہ سے مسکرادیا۔

میں نے دل سے کہا: ’’بہت خوش نظر آتے ہو؟‘‘

’’ہاں!‘‘ اس نے ہنستے ہوئے اس انداز میں جواب دیا جیسے کہہ رہا ہو: ’’اچھا ہے جو خوش ہوں۔ تم مجھ سے جلتے ہو۔‘‘

اچانک میرے ذہن میں ایک خیال بجلی کی طرح کوندا۔

میں نے اس کی طرف دیکھ کرمسکراتے ہوئے کہا: ’’اچھا، دیکھو فرض کرو کہ تمہیں اس وقت یہ خبرملے کہ ابا جان ایک حادثے کا شکار ہوگئے ہیں تو تمہاری یہ شوخی اسی طرح قائم رہے گی؟‘‘

یہ سوال کرکے میں نے اس کی طرف فاتحانہ انداز میں دیکھا۔ وہ تھوڑی دیر سوچ میں پڑگیا اور پھر کہنے لگا ’’ہاں‘‘ اور پھر جیسے اس نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور ایک طرف کو بھاگ گیا ہو۔

اب میں نے دوسرا سوال کیا: ’’جو امی کے مرنے کی خبر پہنچے صاحبزادے کو… تو پھر؟‘‘

’’کچھ نہیں، کچھ نہیں۔‘‘ جیسے ایک شوخ و شنگ، کھیل کود کی ترنگ میں مست بچے نے لاپراوہی سے جواب دیا۔

اب میں نے بھائی بہنوں، نانی اماں اور دوسرے قریبی عزیزوں کے بارے میں اسی طرح کے سوال کرنا شروع کردیے لیکن وہ کسی کی موت کو خاطر میں ہی نہ لاتا تھا۔ اس کے اچھلنے، کودنے اور جواب دینے کا انداز کچھ ایسا تھا جیسے کہہ رہا ہو ’’میرا کچھ نہیں بگڑتا اس سے… میں تمہاری ان دھمکیوں سے ہرگز مرعوب نہیں ہوں گا۔‘‘

اچانک میرے ذہن میں خیال کی ایک پھلجھڑی چھوٹی۔

میں نے سوچا … اچھا ، صاحبزادے اب بچ کرکہاں جاؤ گے؟

میں سنجیدہ ہوگیا۔ اسے پیار سے اپنے پاس بلایا۔ اب کے میں نے پھر وہی سوال دہرایا۔ ہاں، تو تم کہانی سن رہے ہو نا؟ … تو میں کہہ رہا تھا کہ میں نے پھر وہی سوال دہرایا لیکن اس میں کسی عزیز یا رشتہ دار کا نام لینے کی بجائے چپکے سے تمہارا نام لے دیا۔

شوخ و شنگ بچہ اچانک غائب ہوگیا اور اس کی مسکراہٹ اور قہقہے بھی۔ تب میں نے محسوس کیا کہ دریا کا پانی سکون سے بہے جارہا ہے لیکن میری پلکوں پر نمی تیر گئی۔

نمکین قطرے ریت میں جذب ہورہے تھے۔

شیئر کیجیے
Default image
رفیع الدین ہاشمی

Leave a Reply