اس نے چیلنج قبول کرلیا

اس کی عمر تقریباً سولہ سال تھی وہ کسی قصبے کا رہنے والاتھا، لیکن تعلیم کی غرض سے ایک چھوٹے شہر میں آکر رہنے لگا تھا۔ اس کا داخلہ آٹھویں درجہ میں ہوا۔ کسی طرح نویں درجہ میں ترقی دے کرپاس کردیا گیا۔ اس درجہ میں بھی اس نے محنت نہیں کی، بالآخر فیل ہوگیا۔

جب میں نے نتیجہ کا اعلان کیا تو اس کا نام کامیاب طلبہ کی فہرست سے غائب تھا۔ اس کو اپنے فیل ہونے کا شدت سے احساس ہوا نتیجتاً اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ اس نے گڑگڑا کرکہا سر! مجھے پاس کردیجیے۔ سر! مجھے پاس کردیجیے۔ میں نے اس سے کہا ایسا ممکن نہیں ہے۔ دورانِ سال کتنی بار تمہیں متنبہ کیا گیا، لیکن تم پر ذرا اثر نہیں ہوا۔ اب رونے دھونے سے کچھ نہیں ہوگا۔ جاؤ پھر محنت کرو، لیکن وہ میرے کمرے میں کھڑا رہا اور اسی طرح منت سماجت کرتا رہا۔ جب متعدد بار اس نے اس عمل کو دہرایا تو میں نے کہا اچھا میں تمہیں ساتویں درجہ کے انگریزی اور حساب کے پرچے دیتا ہوں تم اگر ان کو حل کردو تو تمہیں نویں درجہ میں پاس کردیا جائے گا۔ اس نے اس کا جواب نہیں دیا بلکہ اپنی وہی بات پھر دہرادی: سر! مجھے پاس کردیں۔ آئندہ میں خوب محنت کروں گا اور کسی شکایت کا موقع نہیں دوں گا۔ جب میں اس کی منت سماجت سے تنگ آگیا تو غصے سے میں نے کہا آپ میرے کمرے سے چلے جائیں اور میں کہتا ہوں کہ اگر تمہاری یہی روش باقی رہی تو تم دس سال تک پاس نہیں ہوگے۔ اس نے میری اس بات کا گہرا اثر لیا۔ اور وہ نہ صرف اسکول سے چلا گیا بلکہ اس نے وہ شہر بھی چھوڑ دیا۔ وہ کسی دوسرے مقام پر جاکر رہنے لگا۔ وقت گزرتا گیا۔ دو سال کے بعد وہ پھر میرے پاس آیا اس نے بڑے ادب سے سلام کیا اور کہا سر! آپ نے مجھ سے دو سال قبل کہا تھا کہ تم دس سال تک پاس نہیں ہوگے لیکن سر! میں نے میٹرک پاس کرلیا ہے۔ اس نے اپنی مارک شیٹ بھی دکھائی۔

میں نے اس کو شفقت سے اپنے قریب بٹھایا اس کی مارک شیٹ دیکھی وہ کامیاب ہوگیا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تم کامیاب کیسے ہوگئے۔ تم نے نقل تو نہیں کی؟ اس نے کہا نہیں ایسا کچھ نہیں پھر اس نے اپنی روداد بیان کی۔

اس نے کہا دو سال قبل آپ نے مجھ سے کہا تھا تم دس سال تک پاس نہیں ہوگے۔ میں آپ کے پاس سے چلاگیا اور میں نے ایک دوسرے شہر جاکر اسکول میں داخلہ لے لیا۔ میں نے اپنے دل میں طے کرلیا میں میٹرک پاس کرکے سر کو دکھاؤں گا۔ میں نے محنت کرنا شروع کردی۔ میں دو سال تک شب میں خوب محنت کرتا۔ میں کبھی ۲ بجے رات سے پہلے نہیں سویا۔ میں اپنے مضامین بار بار پڑھتا جو سمجھ میں نہ آتا اپنے استاد سے پوچھتا۔ مجھے یہ دھن سوار تھی کہ میں آپ کی اس بات کو غلط ثابت کردوں گا کہ میں دس سال تک کامیاب نہیں ہوں گا۔ میں نے ایک سال میں نواں درجہ پاس کیا۔ میرے اندر اعتماد پیدا ہوگیا پھر میں آگے بڑھتا گیا، یہاں تک کہ میں نے میٹرک سیکنڈ ڈویژن سے پاس کرلیا۔ اب میں آپ کے پاس حاضر ہوں۔ میں نے اس کو گلے لگایا اور پورے اسکول کے طلباء کو جمع کرکے اس کے اس واقعے کا ذکر تفصیل سے کیا اور کہا کہ کوئی طالب علم اپنے کو کم تر نہ سمجھے۔ کمزور طالب علم بھی اگر محنت کرے تو وہ کامیاب ہوسکتا ہے۔ یہ سبق اس طالب علم کی زندگی سے بآسانی سیکھا جاسکتا ہے۔

میں نے اس طالب علم کی ضیافت کی اور مزید ہمت افزائی کی۔ طلبہ کو چاہیے کہ وہ اس طرح چیلنج قبول کریں اور حوصلے اور محنت سے کام لے کر ترقی کی منزلیں طے کریں۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد جاوید اقبال، پرنسپل

Leave a Reply