5

پردہ اور اس کی اہمیت

پردے کا حکم عورت کی عزت و کرامت کے پیش نظر دیا گیا ہے۔ اس کا مقصد عورتوں پر پابندی لگانا یا مردوں سے کمتر دکھانا ہرگز نہیںہے۔ اس لیے دخترانِ اسلام کو اس سلسلے میں معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے کے بجائے فخریہ انداز میں خواتین عالم کے سامنے اس کی دعوت پیش کرنی چاہیے۔ مغربی ممالک میں خواتین اور نوجوان لڑکیاں بڑی تعداد میں اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوکر اسلام قبول کررہی ہیں۔ مجموعی طور سے وہ سب اسلامی پردے سے متاثر ہیں اور وہ اسے اپنی حفاظت کے لیے مضبوط قلعہ تصور کرتی ہیں۔

اسلام نے عورت کو گھر کی ملکہ بنایا تھا جبکہ اس روشن دور کی تاریکیوں نے دوبارہ اسے ظلم و ستم کی چکی میں پسنے پر مجبور کردیاہے۔ زمانہ جدید اس کی فطری کمزوریوں کا استحصال کرکے بازار میں لے آیا۔ اس کی عزت نیلام کرکے اپنا کاروبار چمکایا اور اسے رونقِ محفل بنادیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بے پردگی کی وجہ سے اس کے اندر سے شرم و حیا رفتہ رفتہ ختم ہوگئی جو عورت کا اہم جزو اور اس کی فطرت کا تقاضہ تھی۔ بے پردہ عورت سے مرد بھی فتنہ میں پڑگئے ہیں۔ جبکہ وہ خوبصورت بھی ہو، ملنسار، خوش گفتار اور خوش طبع بھی ہو۔ بے پردگی سے عورتوں اور مردوں کا اختلاط عمل میں آیا۔

دوسری طرف اپنے فرائض سے لا تعلقی نے نئی نسل کو ماں کی ممتا سے محروم کرکے اسے اضطراب و بے چینی سے دوچار کردیا ہے۔ جس کے لیے تمام متبادل طریقے ناکام ہیں۔ عورت اپنا مقام و مرتبہ بحال کرنا چاہتی ہے۔ تو اس کی واحد صورت یہ ہے کہ وہ آغوشِ اسلام میں پناہ لے۔ اسلامی تعلیمات کو اپنائے اور پردے کے شرعی احکام پر عمل کرے۔ آج ہمارا معاشرہ بے حیائی، فحاشی اور عریانیت کی لپیٹ میں ہے۔ اس کی واحد وجہ بے پردگی کا عام ہونا ہے۔ ہر جگہ ایک طوفانِ بدتمیزی کا بازار گرم ہے۔ ہوٹلوں میں مہمانوں کے دل بہلانے کا سامان ہے، تو آفس میں اپنے باس اور ساتھیوں سے استحصال کا شکار ہے۔ صابن اور موبائل کے اشتہار میں اس کو ننگا دکھا کر کمپنی اپنی تجارت کو فروغ دیتی ہے۔اور کہیں پر کال گرل اور کہیں قحبہ گری میں اس کی خدمات عام ہیں۔ اور اس کو انٹرنیٹ پر ہاٹ بناکر ایک مسالہ نوجوان نسل کو تباہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔

اسلام نے عورت کو پوری آزادی عطا کی ہے۔ وہ اسلامی اور شرعی حدود میں رہ کر سارے کام انجام دے سکتی ہے۔ پردہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے۔ بلکہ وہ اعلیٰ تہذیب اور شائستگی اور اسلامی قدروں کا ضامن ہے۔ اسلامی پردہ اخلاقی ڈسپلن کو بنائے رکھتا ہے۔ پاک اور صاف معاشرہ وجود میں لاتا ہے۔

پردے کا صحیح منشاء یہی ہے کہ پورے معاشرے کو شہوانی ہیجانات اور تحریکات سے پاک رکھا جائے۔ تاکہ انسان کی جسمانی اور ذہنی قوتوں کو ایک پاکیزہ اور پرسکون فضا میسر آسکے۔ اور ایک صالح تمدن کا کام یہی ہے کہ وہ عورت کو اس کے فطری دائرہ عمل میں رکھ کر پورے انسانی حقوق دے۔ اسے عزت اور شرف عطا کرے۔ تعلیم و تربیت سے اس کی چھپی ہوئی صلاحیتوں کو چمکائے۔ اسی دائرہ میں اس کے لیے ترقی اور کامیابی کے راستے کھولے۔ یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب خدا اور اس کی کتاب اور اس کے رسولوں پر یقین کیا جائے اور اس کو اپنی زندگی میں ڈھال لیا جائے۔

شیئر کیجیے
Default image
مہ جبین رفیقی صالحاتی

One comment

تبصرہ کیجیے

%d bloggers like this: