BOOST

غزل

نا شناسا بن کے میری قدر افزائی نہ کر

میرے خوابوں کو سپردِ ناشناسائی نہ کر

بن کے اپنا، دعوتِ بیچارگی مجھ کو نہ دے

حوصلہ دے مجھ کو میرے غم کی رسوائی نہ کر

اور کچھ دے دے مجھے جرمِ محبت کی سزا

زندگی بھر کو اسیرِ دامِ تنہائی نہ کر

موڑ سکتا ہے اگر رخ موڑ دے حالات کا

اپنی شہرت کے لیے ہنگامہ آرائی نہ کر

تیرے دامن میں تو سب کچھ ہے سحر بھی پھول بھی

اپنی جانب دیکھ فکرِ کوہ پیمائی نہ کر

ایک در کافی ہے نیّرؔ سر جھکانے کے لیے

ہر قدم، ہر آستانے پر جبیں سائی نہ کر

شیئر کیجیے
Default image
محبوب حسن خاں نیّرؔ

تبصرہ کیجیے