پردہ پوشی

اسلام نے زندگی کو کامیاب اور کامران بنانے کے جو گُر ہمیں سکھائے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہم اپنے عیوب، گناہوں، کوتاہیوں اور کمزوریوں پر نگاہ رکھیں اور دوسروں کے محاسن، خوبیوں اور کمالات پر تاکہ دوسروں کی خوبیاں اورکمالات ہم بھی اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ اس طرح دوسروں کے محاسن ہم اپنے اندرپیدا کرسکیں گے اور اپنے عیوب اور کمزوریوں پر قابو پالیں گے۔ اس طرح ہماری زندگی کامیابی سے ہم کنار ہوسکے گی۔ اس کے برخلاف دوسروں کے عیوب تلاش کرنا اور ان کی ٹوہ میں رہنا ہرگز پسندیدہ نہیں کیونکہ یہ ایک طرف تو ہماری اپنی زندگی کے لیے نقصان دہ ہے۔ دوسری طرف لوگوں کی ذات اور ان کی شخصیت کو بھی برباد کرنے کا سبب بنتا ہے۔ بغیر ٹوہ کے بھی اگر کسی کا عیب ہمیں معلوم ہوجائے تو اس کا افشا کرنا اور دوسروں کو بتانا قطعاً جائز نہیں کیونکہ اس سے اللہ کی نافرمانی کے علاوہ ہمارا اپنا اوراس شخص دونوں کا نقصان ہوگا۔ اس کی رسوائی ہوگی اور اس کے دل میں ہماری طرف سے بدگمانی پیدا ہوگی جو بڑھتے بڑھتے دشمنی کا تناور اور خاردار درخت بن سکتی ہے۔ اور ہمارے حصہ میں اس کا گناہ آئے گا۔سورہ اسراء کی آیت ۳۶ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ کُلُّ اُوْلٰئِکَ کَانَ عَنْہٗ مَسْؤُلًا۔

’’جس چیز کا تمہیں علم نہیں اس کی ٹوہ میں نہ پڑو۔ بے شک آنکھ، کان اور دل ان تمام کے بارے میں (اللہ کے یہاں) پوچھا جائے گا۔‘‘

اخلاقی اور معاشرتی اعتبار سے لوگوں کے عیبوں کی ٹوہ میں پڑنا اور معلوم ہوجانے پر لوگوں کے درمیان انہیں بیان کرتے رہنا ایسی برائی ہے جس کا سماج اور معاشرہ پر بڑا گہراثر پڑتا ہے۔ اسلام نے اس سے منع فرمایا۔ اس لیے کہ وہ معاشرہ میں افراد کے عزت و وقار کی حفاظت کرنا چاہتا ہے۔ آپسی تعلقات کو مستحکم بنیادوں پر استوار کرکے باہمی اخوت و محبت کو فروغ دینا چاہتا ہے اور معاشرہ کو ایک مضبوط دیوار بنانا چاہتا ہے جو چھوٹی چھوٹی اینٹوں سے جڑ کر بنتی ہے۔ جب کہ ایک دوسرے کے عیبوں اور برائیوں کو بیان کرنے اسلام کے اس پورے مشن اور مزاج کے خلاف کام کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس چیز کو اسلام نے نہایت مذموم قرار دیا ہے۔

اس کے برخلاف اسلام جو تعلیم ہمیں دیتا ہے وہ یہ ہے کہ مومن مومن کا آئینہ ہے۔ اور المسلم اخو المسلم کے مطابق ہماری انسانی اور اسلامی اخوت اور بھائی چارہ کا تقاضا ہے کہ اگر کسی عیب اور برائی ہمیں معلوم ہوجائے تو ہم اس کے ساتھ نصح اور خیر خواہی کا معاملہ کریں ا ور اس کے عیب دور کرنے کی فکر کریں اور اس طرح اس کی اصلاح کی کوشش کریں کہ وہ ناراض اور مشتعل بھی نہ ہو اور اپنے عیب مٹانے کی طرف مائل بھی ہوجائے۔ عیوب پر پردہ ڈالنا بھی ہر مسلمان کا حق ہے، اگر اس حق کو ادا نہ کیا جائے تو یہ برائی ایک یا دو شخصوں تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پورے معاشرے میں ان عیبوں، برائیوں کے جراثیم پھیلیں گے ا ور سارا ماحول تباہی اور بربادی سے دوچار ہوگا۔

اللہ تعالیٰ کے ننانوے ناموں میں ایک نام ’’ستار الذنوب‘‘ یعنی لوگوں کے عیبوں پر پردہ ڈالنے والا بھی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی عظیم ترین صفت ہے کہ وہ لوگوں کے گناہوں کو چھپائے رکھتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ لوگوں کی برائیوں اور گناہوں کو تمام لوگوں پر ظاہر کردے تو کوئی بھی پاک باز اور باعزت نہ رہ پائے گا۔ اس کا جائزہ اگر لینا ہو تو ہم خود اپنے اندر جھانک کر دیکھ سکتے ہیں کہ ہم نے چھپے میں، لوگوں کی نظروں سے بچ کر کیا کیا کچھ انجام دیا ہے اور اگر وہ سب کچھ لوگوں پر ظاہر ہوجائے تو ہماری عزت و وقار کا کیا حال ہوگا کہ ہم زندگی پر موت کو ترجیح دینے لگیں گے۔

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے چاہتا ہے کہ وہ بھی اس کی صفت ستاری کو اپنے اندر پیدا کریں ا ور لوگوں کے عیبوں اور کمزوریوں کو دوسروں پر ظاہر کرنے کے بجائے انہیں چھپانے کا ذریعہ بنیں۔

اللہ کے رسول ﷺ نے اہلِ ایمان کو خوش خبری سنائی ہے کہ ’’جو اللہ کا بندہ کسی اللہ کے بندے کی ستر پوشی کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس کے گناہوں کی پردہ پوشی فرمائے گا۔‘‘

لوگوں کے عیبوں کو تلاش کرنا، ان کی غلطیوں اور کوتاہیوں کی ٹوہ میں پڑنا دراصل منافقین کی صفت ہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کے زمانے میں منافقین یہی کام انجام دیتے تھے اور لوگوں کی کردار کشی کرنے میں لطف محسوس کرتے تھے۔ ان کی اس ذلت و پستی کا یہ عالم تھا کہ انھوں نے اللہ کے رسول کی بیوی ام المؤمنین حضرت عائشہؓ صدیقہ و عفیفہ کے خلاف بھی بہتان تراشی کی جس کا اللہ تعالیٰ نے قرآن میں واضح طور پر ذکر کرکے منافقین کی چالوں کو ناکام کردیا۔ فرمایا:

اِنَّ الَّذِیْنَ یُحِبُّوْنَ اَنْ تَشِیْعَ الْفَاحِشَۃُ فِی الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ فِی الدُّنْیَا وَالآخِرَۃِ۔ (النور)

’’جو لوگ ایمان والوں میں بے حیائی اور بداخلاقی پھیلانا چاہتے ہیں ان کے لیے یقینا دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہوگا۔‘‘

مومن، مومن کا بھائی ہے اور کوئی خیرخواہ سچا بھائی کبھی دوسرے بھائی کو نہ تو ذلیل و رسوا کرنا چاہے گا اور نہ اسے گناہوں میں مبتلا دیکھنا چاہے گا۔ اسی طرح پوری انسانیت ایک خاندان ہے، جہاں رہنے اور بسنے والوں کی فلاح و خیر خواہی اسی بات میں پوشیدہ ہے کہ اس سماج میں بھلائیاں فروغ پائیں اور برائیاں سر نہ اٹھا سکیں۔ ہمیں بہ حیثیت مسلمان بدرجہ اول اور بہ حیثیت انسان بھی اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ ہمارے معاشرہ میں محبت و اخوت پروان چڑھے۔ اور اس کی صورت یہی ہے کہ ہم انسانوں کے عیبوں کے بجائے ان کی خوبیوں پر نظر رکھیں اور عیوب کی پردہ پوشی کریں۔ اگر ایسا نہیں کرتے تو ہماری یہ کمزوری ہماری نیکیوں کو جلا کر راکھ کردے گی۔

شیئر کیجیے
Default image
شمامہ نکہت، آکولہ

Leave a Reply