خواتین میں تعلیمی تحریک

’’اگر ایک مرد تعلیم یافتہ ہوتا ہے تو صرف ایک مرد ہی تعلیم یافتہ ہوتا ہے لیکن اگر ایک لڑکی یا عورت تعلیم یافتہ ہوتی ہے تو ایک پوری نسل تعلیم یافتہ ہوتی ہے۔‘‘یہ ایک مشہور قول ہے جو خواتین کی خواندگی اور ان کے تعلیم یافتہ ہونے کی اہمیت بتاتے وقت کہا جاتا ہے۔ یہ قول کئی سو سال سے مسلسل دوہرایا جارہا ہے۔ مسلم خواتین جو تعلیم کے میدان میں کافی پیچھے ہیں ان کی تعلیم کی اہمیت بتاتے وقت تو اس کو کافی بولا بھی جاتا ہے اور لکھا بھی جاتا ہے۔ لیکن کئی سو سالوں سے مسلسل دوہرائے جانے کے باوجود مسلم خواتین کی شرح خواندگی میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔ ایسا کیوں ہے؟ یہ ایک سوال پوری امت اور پوری قوم کے سامنے ہے۔ ایسا شاید اس وجہ سے ہے کہ یہ بات صرف قول اور اس کی اہمیت بتانے تک ہی محدود رہی اورزمینی سطح کی وہ سخت محنت اور جدوجہد نہیں کی گئی جو امت کی خواتین کو تعلیم یافتہ بنانے کے لیے درکار تھی۔ نہ تو علماء و دانشوروں نے کوئی عملی جدوجہد کا نمونہ پیش کیا اور نہ سیمیناروں اور کانفرنسوں ہی میں اس کا کوئی عملی خاکہ تیار ہوا۔ اور اگر تیار بھی ہوا تو وہ ان NGO’sکی طرف سے تھا جن کا کام سرکاری خزانہ سے فنڈ حاصل کرکے کاغذات اور رپورٹوں کا پیٹ بھرنا تھا۔

لیکن یہاں ضلع بجنور میں ایک فرد ایسا بھی ہے جو سرکاری امداد سے بے نیاز، اخباری سرخیوں میں آنے کے شوق سے دور محض امت کی خواتین کو تعلیم یافتہ اور تہذیب و سلیقہ یافتہ بنانے کی خاطر گذشتہ ۳۶ سالوں سے پوری لگن، شوق اور جذبۂ خدمت خلق کے ساتھ بڑی حوصلہ مندی سے لگا ہوا ہے۔ اس فر دکی کوشش ا ور خواہش صرف یہ ہے کہ امت کی پیشانی سے خواتین کی ناخواندگی کا داغ دھل جائے اور وہ پڑھی لکھی اور تعلیم یافتہ ماں بن کر اپنی آئندہ نسلوں کی اچھی تعلیم و تربیت کا کام انجام دے سکیں۔ اس فرد کا نام ہے ڈاکٹر محمد داؤد جو نگینہ ضلع بجنور کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے ۱۹۷۱ء میں محدود پیمانہ پر بعض قریبی احباب کے تعاون سے بالغ لڑکوں و لڑکیوں کی تعلیم کا سلسلہ اپنی بستی کے ایک محدود علاقے میں شروع کیا تھا اور … اور اب یہ سلسلہ ایک تحریک بن گیا ہے۔ سیکڑوں لڑکیاں اس کوشش سے تعلیم یافتہ ہوکر نہ صرف اپنے بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت میں مصروف ہیں بلکہ وہ اپنی سسرالوں میں بھی اس سلسلہ کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور چراغ سے چراغ جلنے کی مصداق بن کر ناخواندگی کو مٹانے کی جدوجہد میں لگی ہوئی ہیں۔ حال یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی کوششوں سے نہایت پسماندہ اور اچھوت سمجھی جانے والی بستیوں میں جن میں ہری جن، کنجر اور بھنگی مہترلوگ رہتے بستے ہیں ان کے درمیان بھی سنٹر چلا کر ان کی لڑکیوں کو بھی تعلیم یافتہ بنایا گیا ہے۔ نتیجتاً ان کی برادری میں بھی لڑکیاں اب پڑھی لکھی ہونے لگی ہیں جس کا تصور بھی پہلے محال تھا۔ اس طرح ان لڑکیوں کے رشتے بھی بہ آسانی ہونے لگے ہیں اور وہ اپنی سسرال میں بھی اس مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔

صحت عامہ حکومت اترپردیش سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ لے کر ڈاکٹر صاحب ان کوششوں میں پوری طرح لگ گئے ہیں۔ ان کے شوق اور دلچسپی کا یہ عالم ہے کہ وہ خواہش کرتے ہیں کہ ’’کاش میرا جنازہ کسی تعلیم بالغات کے سینٹر ہی سے اٹھے۔‘‘

ان کی کوششوں کے نتائج بھی خوب ہیں اور حیرت انگیز بھی۔ انھوں نے کئی گاوؤں میں خواتین کے درمیان صد فیصد خواندگی کا ہدف حاصل کرلیا ہے۔ مزیدار بات یہ ہے کہ ان کے سینٹرس میں چودہ پندرہ سال کی لڑکیوں سے لے کر پچپن ساٹھ سال تک کی خواتین پڑھنے آتی ہیں جہاں انہیں اردو، ہندی اورقرآنِ مجید پڑھنا سکھایا جاتا ہے۔ کئی آبادیوں کے سلسلہ میںان کا دعویٰ ہے کہ اگر اسکول ٹائم میں کوئی بچہ سڑک پر کھیلتا ہوا نظر آتا ہے تو سمجھ لیجیے کہ وہ اس گاؤں کا بچہ نہیں ہے بلکہ کسی دوسرے گاؤں سے کسی کے گھر مہمان آیا ہے۔ یہ ہے ان کی کوششوں کا اثر کہ تعلیم یافتہ مائیں اپنے بچوں کو پڑھانے لکھانے میں لگی ہیں۔

الیکشن کے موقع پر ایک رٹرننگ افسر نے لوگوں کے سامنے حیرت و استعجاب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’چند سال پہلے بھی میں اس آبادی میں آیا تھا۔اس وقت ہر برقعہ پوش عورت انگوٹھا لگاتی تھی۔ اب یہاں کونسا انقلاب آگیا ہے کہ ہر برقعہ والی دستخط کرتی ہے۔‘‘ جی ہاں! رٹرننگ آفیسر صاحب یہاں تعلیم بالغات کے سنٹروں نے عورتوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیا ہے۔

ڈاکٹر صاحب کے ایک قریبی دوست اور انہی کے شہر میں پیدا ہونے اور پرورش پانے والے محمد جاوید اقبال کا کہنا ہے کہ ’’ایک مرتبہ ڈاکٹر داؤد صاحب مجھے لے کر ایک بستی میں گئے اور کہا کہ اس گاؤں کی ہر عورت پڑھی لکھی ہے۔ جانچنے کے لیے میں نے ایک گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ ایک لڑکی نے دروازہ کھولا۔ ڈاکٹر صاحب کو دیکھتے ہی وہ خوشی سے اچھل پڑی۔ اور اندر بلایا بٹھایا۔ جائزہ سے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب کا دعویٰ صد فیصد درست تھا۔‘‘ محترم جاوید صاحب کہتے ہیں کہ یہ عمل میں نے تین جگہ کیا اور مجھے یقین ہوگیا کہ اس آبادی کی ہر عورت پڑھی لکھی ہے۔

ڈاکٹر داؤد صاحب کے پاس نہ کوئی باقاعدہ آفس ہے اور نہ گاڑی۔ وہ اپنی گیارہ نمبر’’اللہ کی عطا کردہ گاڑی (پیدل) کا استعمال کرتے ہیں اور ان کا کل دفتر ان کے بیگ میں ہی رہتا ہے۔ البتہ رابطہ کے لیے انھوں نے اپنے ہی گھر کا پتہ دے رکھا ہے۔ اور اب تو وہ موبائل فون بھی استعمال کرنے لگے جس سے انھیں بڑی سہولت ہوگئی ہے۔ بسوں، ٹرینوں اور پھر گاوؤں تک جانے والے میسروسائل ہی کا استعمال کرنا ہوتا ہے۔ کئی گاؤں میں تو وہ دور تک پیدل چل کر جاتے ہیں مگر ان کا جذبۂ عمل انہیں نہ مجبور کرتا ہے اور نہ تھکاتا ہے۔ کئی ایسے گاوؤں میں انھوں نے رابطہ کرکے اور جاکر اپنے سینٹر بنائے ہیں جو سڑک سے کئی کلو میٹر دور ہیں۔ وہاں پہنچ کر جب وہ بچیوں اور عورتوں کو پڑھتا لکھتا دیکھتے ہیں تو ان کی ساری تھکن دور ہوجاتی ہے۔

اس راستہ میں انہیں کئی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ہم گندی، ناخواندہ اور پسماندہ بستیوں میں جاکر پڑھنے لکھنے کی اہمیت بتاتے ہیں تو لوگ آسانی سے نہیں سمجھ پاتے۔ کبھی کبھی ٹالنے کے لیے اور کبھی اظہارِ حقیقت کے طور پر وہ کہتے ہیں: ’’ہمیں کون پڑھائے گا؟ اور کیوں؟ ہم اچھوت ہیں، کنجر ہیں، مہتر اورہری جن ہیں، ہم پڑھ لکھ کر کیا کریں گے؟‘‘

وہ کہتے ہیں کہ ’’جب محبت اور اخلاص کے ساتھ انھیں مفتپڑھانے کی بات کی جاتی ہے تو لوگ تیار ہوجاتے ہیں اور پڑھنے آنے لگتے ہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’ان کا پڑھنے لکھنے کا شوق قابلِ دید اور قابلِ رشک ہوتا ہے۔‘‘ کاش کہ یہ کام بہت پہلے سے شروع ہوجاتا اور لوگ اخلاص عمل اور رضائے الٰہی کے لیے اس کام پر توجہ دیتے۔‘‘

اس وقت ان کے سامنے ایک بڑا مسئلہ مالی وسائل کی فراہمی کا ہے۔ جیسے جیسے سینٹرس کی تعداد بڑھ رہی ہے طالبات کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ اور کیونکہ بلیک بورڈ کی فراہمی سے لے کر کاپی کتاب اور قلم تک وہ خود ہی فراہم کرتے ہیں، اس لیے اخراجات تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ایک بڑا مسئلہ پڑھانے والی خواتین کو دیے جانے والے محنتانے کا بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں: ’’بہت دنوں تک مسلسل کسی سے رضاکارانہ وقت لینا ممکن نہیںہوتا۔ اور پڑھانے والی خاتون کے بھی اپنے معاشی مسائل ہوتے ہیں۔ اسی طرح ہرجگہ رضاکارانہ اور للہ فی اللہ کام کرنے والی عورتوں کا ملنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ اس لیے اب ہم بہت معمولی سا محنتانہ بھی دینے لگے ہیں جو ان کی محنت کے اعتبار سے کچھ بھی نہیں۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ’’ ڈھائی تین سو روپے میں آج کل کسی کا کیا ہوتا ہے۔‘‘

دراصل مالی وسائل، ان کے عزائم کی راہ میں اور کوششوں کی تکمیل میں کئی جگہ آڑے آتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ’’کئی جگہ سینٹرس کے قیام کے لیے زمین ہموار ہے مگر مالی شواریاں سد راہ بنی ہوئی ہیں۔ اللہ مالک ہے وہ جتنا چاہے گا، کام لے گا۔‘‘

ڈاکٹر صاحب کے مالی معاونین کئی ایسے طلبہ بھی ہیں جو ان کے سینٹرس ہی کے پڑھے ہوئے ہیں۔ اور اب وہ اس مہم میں ان کا تعاون کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اتر پردیش فلاح عام سوسائٹی بھی اس کام میں ان کا کچھ تعاون کرتی ہے۔ اس کے علاوہ چند احباب وہ بھی ہیں جو ان کی کوششوں کو سراہتے ہیں اور وقتاً فوقتاً حسبِ استطاعت ان کا تعاون کرتے ہیں۔

ڈاکٹر صاحب ایک خاص دشواری کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک و ملت کی خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم یافتہ کرنے کا کام زیادہ بہتر طریقہ سے خواتین ہی کرسکتی ہیں۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ بڑی بڑی تعلیم یافتہ خواتین کی ترجیح میں ابھی تک یہ کام نہیں آسکا ہے۔ وہ اپنے تجربات کی بنیاد پر بتاتے ہیں کہ اگر ہماری تعلیم یافتہ لڑکیاں اور بہنیں اس کام کی عظمت اور اہمیت کو سمجھ لیں تو بہ آسانی اس کام کو اپنے اپنے مقامات پر اس خوبی کے ساتھ انجام دے سکتی ہیں کہ محض ایک سال کے اندر اندر ان کے مقام پر کوئی بھی لڑکی ناخواندہ نہ رہے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہمارے محلے اور پڑوس کی کوئی بھی لڑکی ناخواندہ اور جاہل کی حیثیت سے سسرال کو رخصت نہ ہو۔‘‘

کام کرنے کا طریقہ کیا ہے؟ اس کے بارے میں وہ کہتے ہیں:ہم نے ۱۹۷۱ء میں چند ناخواندہ مردوں اور عورتوں کو تعلیم کی اہمیت بتاکر انہیں پڑھانے کے لیے شام کے وقت کلاسز شروع کی تھیں۔ پڑھنے والے مردوں اور خواتین نے غیر معمولی شوق کا مظاہرہ کیا اور چند ہی دنوں میں جب وہ حروف شناسی اور قلم کو حرکت دینے کے قابل ہوئے تو انھوں نے غیر معمولی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اپنی کوششیں تیز تر کردیں۔ پھر وہ لوگ خود اس کے مبلغ بن گئے اور کئی نے اپنے یہاں پڑھانا شروع کردیا۔ ہم اپنے طلبہ سے یہ وعدہ لیتے تھے کہ تمہاری فیس یہی ہے کہ تم خود پڑھ لکھ لینے کے بعد دوسروں کو پڑھاؤ لکھاؤ اور خدا کے فضل سے یہ سلسلہ کامیاب ہوگیا۔‘‘

وہ مزید کہتے ہیں:’’پہلے ہم نے اپنے ہی شہر نگینہ کے ایک محلے سے کام شروع کیا تھا اور وہاں صد فیصد نتائج حاصل کرلینے کے بعد ہی دوسری جگہ سنٹرس قائم کیے۔ اب تو ہم بس گاؤں گاؤں جاکر غریب اور پسماندہ لوگوں کی بستیوں میں جاکر دیکھتے رہتے ہیں کہ کہاں امکان ہے؟ پہلے ہم گندی بستیوں میں صفائی ستھرائی کراتے ہیں۔ کہیں کہیں اپنا پیسہ لگاکر گندے پانی کا نکاس کرواتے اور نالیاں بنواتے ہیں۔ اس طرح لوگوں کے دلوں میں ہمارے لیے جگہ ہوجاتی ہے۔ ہم ایک مناسب جگہ کا انتخاب کرکے لوگوں سے وہاں آنے کے لیے کہتے ہیں۔ پھر لڑکیاں اور عورتیں وہاں پڑھنے آنے لگتی ہیں۔ شروع میں ذرا دشواری ہوتی ہے مگر جب وہ حروف شناسی اور قلم پکڑنے کی پوزیشن میں آتی ہیں تو تعلیم کا شوق ان کے دل میں اترجاتا ہے۔ پھر وہ تبھی چھوڑتی ہیں جب مکمل طور پر لکھنا پڑھنا سیکھ لیں۔‘‘

تعلیم بالغان و بالغات کے نام سے کام کرنے والا یہ ادارہ اب تک ایک ہزار سے زیادہ خواتین کو زیور تعلیم سے آراستہ کرچکا ہے۔ اور اس وقت اس کے ۳۶ سے بھی زیادہ سینٹر س ضلع بجنور کے کئی گاؤں قصبات میں کام کررہے ہیں جن میں پانچ سو سے زیادہ خواتین پڑھنا لکھنا سیکھ رہی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کئی سینٹرس صرف غیر مسلموں کے ہیں اور وہاں پڑھنے والی تمام خواتین و لڑکیاں غیر مسلم ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ کئی جگہ جب ہم نے غیر مسلم عورتوں کو ہندی پڑھانا شروع کیا تو انھوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ انہیں پہلے اردو پڑھائی جائے۔

ان کے تعلیم بالغات کے یہ سنٹرس صرف تعلیم کے فروغ ہی کا ذریعہ نہیں ہیں بلکہ صالح تربیت کے بھی مراکز ہیں جہاں لڑکیاں اور خواتین اسلامی آداب، صفائی ستھرائی، بچوں کی تعلیم و تربیت، سینے پرونے اور گھریلو کاموں کی بھی ٹریننگ حاصل کرتی ہیں جو ایک الگ اہمیت کا حامل کام ہے۔

ڈاکٹر صاحب نے ایک دلچسپ واقعہ بتایا۔ ایک عورت انہی کے سینٹر کی تعلیم یافتہ تھی اور اب وہ اپنے گھر پر دوسری لڑکیوں کو پڑھاتی تھی۔ ایک عورت اس کے پاس آئی اور کہنے لگی۔ ’’اے بھینا (بہن) تو نے یہ کیا غضب کردیا۔‘‘ وہ ڈر گئی کہ کیا ہوگیا۔ پھر اس نے کہا: ’’تو نے میری لڑکیوں کو مٹی سے سونا بنادیا۔جب اذان ہوتی ہے تو وہ میرے اور اپنے ابا کے لیے پانی کا لوٹا بھر کے رکھ دیتی ہیں وضو کے لیے۔ ابا جب باہر سے گھر آتے ہیں تو پنکھا جھلنے لگتی ہیں اور گھر کے سارے کام خود ہی کرتی ہیں۔‘‘

ڈاکٹر صاحب اپنی کوششوں سے نہ صرف لڑکیوں کو تعلیم یافتہ کررہے ہیں بلکہ ان کی ایسی صالح تربیت بھی کررہے ہیں جن کا سلسلہ چراغ سے چراغ جلنے کی طرح جاری ہے۔ ان کی کوششیں اس لائق ہیں کہ ان کا اور ان کے تجربات کا گہرائی سے مطالعہ کیا جائے اور کچھ حوصلہ مند اور پرعزم تعلیم یافتہ خواتین اپنے اپنے مقامات پر ناخواندگی اور جہالت کے خلاف کمر کس کر میدان میں کود پڑیں ۔ اس سلسلہ میں مزید معلومات اورتجربات کا علم حاصل کرنے کے لیے ڈاکٹر صاحب سے 09927721564 پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

Leave a Reply