غزل

ظلمات نے کھینچی ہے کماں جاگتے رہنا!

یہ شب ہے بہت دل پہ گراں جاگتے رہنا

صف بستہ چلے آتے ہیں وہ لشکر اعدا

ہر آن ہے شب خوں کا گماں جاگتے رہنا

رقصاں ہے ہر ایک سمت وہی سایۂ ابلیس

کچھ اور ہے اب رنگ جہاں جاگتے رہنا

جلتے ہی دیا سونے لگے درد کے مارو!

ہیں گھات میں فرعونِ زماں جاگتے رہنا

ایمان و یقیں کھوگئے ظلمت میں خرد کی

لوٹے نہ کہیں دل کو گماں جاگتے رہنا

ہونے لگے بازاروں میں ایمان کے سودے

ہے معرکۂ سود و زیاں جاگتے رہنا

باطل کی نگاہوں کا فسوں چھا گیا ہر سو

اے حلقۂ آشفتہ سراں جاگتے رہنا

پھر آذرِ دوراں نے تراشے ہیں نئے بت

دیتا ہے ابراہیمؑ اذاں جاگتے رہنا

شیئر کیجیے
Default image
ہارون الرشید

Leave a Reply