BOOST

ڈومسٹک وائلنس ایکٹ کا ایک سال

خواتین کے خلاف گھریلو تشدد کو روکنے کے لیے بنائے گئے قانون’’ڈومسٹک وائلنس (پری وینشن) ایکٹ2006‘‘ کو بنے اب ایک سال ہوچکا ہے۔ قانون بناتے وقت بنانے والوں کو بھی اور عام شہریوں کو بھی یہ امید ہوچلی تھی کہ شاید اب ہماری خواتین کو گھروں کی چہار دیواری میں جاری تشدد اور تکلیف دہ حالات سے نجات مل جائے گی۔ مگر افسوس کہ ایک سال کی مدت میں کم از کم یہ قانون خواتین کو گھریلو تشدد سے حفاظت کرنے یا نجات دلانے میں ناکام ہی رہا۔

ماہرین سماجیات، دانشوران ملک اور قانون دانوں نے اگرچہ اس قانون اور اس کے تحت لائے جانے والے مختلف کلاسز اور دفعات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا تھااور صحافتی برادری نے تو یہاں تک لکھا تھا کہ شاید اب گھر میں کرفیو کے نفاذ کی بھی ضرورت پیش آئے گی۔ مگر حقوق نسواں کی علمبردار تنظیموں اور شخصیات نے اس قانون کو خواتین کے لیے نجات دہندہ کی حیثیت سے پیش کیا تھا۔

اب جبکہ اس قانون کو نافذ ہوئے ایک سال کا قابلِ ذکر عرصہ گزر گیا ہے یہ حقیقت سامنے آئی ہے کہ ملک کے کسی بھی حصہ میں قانون اپنا اثر چھوڑنے میں ناکام رہا۔ اور اس کی بنیادی وجہ ملک میں ہر سطح اور ہر شعبہ میں آسمان کو چھوتا ہوا کرپشن تو ہے ہی خود حکومت اور حکومتی مشنری کی غیر سنجیدہ روش بھی اس کی ذمہ دارہے۔

ملک کے ذمے دار سماجی اور تحقیقی اداروں کی جانب سے گھریلو تشدد سے متعلق اعداد و شمار خود اس قانون کا منھ چڑاتے معلوم ہوتے ہیں۔ قانون کے نفاذ میں حکومتی اداروں کی بے توجہی کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے کہ ملک کی سب سے بڑی آبادی والی ریاست اترپردیش میں گھریلو تشدد کا ایک بھی واقعہ رپورٹ میں نہیں آیا۔ تو کیا اترپردیش میں گھریلو تشدد پر اتنا قابو پالیا گیا کہ وہاں ایک بھی واقعہ اس طرح کا وقوع پذیر نہیں ہوا۔

جبکہ دوسری طرف اخبارات میں تقریباً روزانہ ہی ایک سے زیادہ اس طرح کی خبریں شائع ہوتی ہیں جہاں خواتین کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہوتا ہے۔ شوہروں کے ذریعے بیویوں کو، بھائیوں کے ذریعہ بہنوں کو اور سسرال کے دیگر رشتہ داروں کے ذریعہ بیوہ خواتین کو ستانے، گھر سے نکال دینے اور مختلف طرح سے تشدد کا شکار بنانے کی خبریں ہمارے اخبارات میں روزانہ شائع ہوتی ہیں جن سے ہر اخبارپڑھنے والا واقف ہے۔

اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گھریلو تشدد کو روکنے کے لیے گذشتہ سال بنائے گئے قانون کے باوجود اس میں کسی طرح کی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ ہاں زیادہ سے زیادہ جو ممکن ہوسکا ہے وہ یہ ہے کہ ملک کے تعلیم یافتہ طبقہ میں اس سلسلہ میں کسی حد تک بیداری پیدا ہوئی ہے۔ لیکن اس بدقسمتی کا کیا کیا جائے کہ آج بھی نہ صرف دیہاتوں میں بلکہ شہروں میں بھی عورتیں اسی طرح تشدد کا شکار ہورہی ہیں جس طرح پہلے ہوتی رہی ہیں۔ ایک شرابی شوہر گھر میں گھس کر اپنی بیوی اور بچوں کو پیٹتا ہے۔ محلہ پڑوس کے لوگ چیخ و پکار سنتے ہیں اور کبھی کبھی جمع بھی ہوجاتے ہیں مگر اس کے باوجود نہ تو قانون ہی اور نہ ہی سماج ہی اس عورت اور اس کے بچوں کو اس ناجائز اور بے وجہ تشدد سے نجات دلاپاتے ہیں۔

پولیس جو قانون کے نفاذ کی سب سے بڑی ذمہ دار ہے اس کا طرز عمل قانون کے بالکل برخلاف ہوتا ہے اور اکثر صورتوں میں وہ ظالم کو ظلم کی سزا دلانے کے بجائے مظلوم کو ڈرانے دھمکانے کی ’’خدمت‘‘ انجام دیتی ہے۔ اور دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ ایک مظلوم عورت اپنے اوپر جاری ظلم و ستم کی رپورٹ لکھوانے کے لیے در بدر بھٹکتی رہتی ہے اور پھر بھی ناکام رہتی ہے۔

یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ کیا محض قانون بنادینے سے مسئلہ ختم ہوجائے گا؟ ہرگز نہیں!!! قانون کو راستہ دکھانے اور اسے مؤثر بنانے کے لیے حکومتی سطح کی ایسی سنجیدہ کوششیں بھی درکار ہوتی ہیں جو قانون کو صحیح اسپرٹ کے ساتھ اس طرح نافذ کرنے کی کوشش کریں کہ مظلوم کو انصاف ملے اور قانون پر اس کا اعتماد مضبوط ہو۔ جبکہ ہمارے یہاں اس طرح کی سنجیدہ کوششوں کا فقدان ہے۔ اسی طرح کا معاملہ گھریلو تشدد کے خلاف بنائے گئے قانون کے ساتھ بھی گذشتہ پوری ایک سالہ مدت میں دیکھنے کو ملا۔ جہاں صرف پانچ ریاستوں میں اس قانون کے تحت ’’سیکوریٹی افسر‘‘ موجود ہیں اور وہ بھی مکمل نہیں بلکہ انہیں اس قانون کے لیے اضافی ذمہ داری دی گئی ہے۔ جبکہ باقاعدہ طور پر صرف دہلی اور آندھرا پردیش میں ان عہدے داروں کا تقرر کیا گیا ہے۔ اور صرف پانچ ریاستوں میں ہی اس قانون کے تحت معاملات درج کرانے کی سہولت میسر ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ انسان اکیلا ہو یا خاندان میں اس کی کچھ ذمہ داریاں اور فرائض ہیں اور کچھ حقوق اور اختیارات۔ ان حقوق و واجبات کے معاملہ میں عدم توازن اور اختلاف ہی عام حالات میں گھریلو تناؤ کو جنم دیتے ہیں جو کسی مرحلہ میں جاکر تشدد میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ ان اختلاف اور عدم توازن کی صورت میں خاندانی نظام کی پہلی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس صورت حال پر روک لگائے اور زیادتی کی صورت میں مظلوم کو تحفظ فراہم کرے۔ گھریلو تشدد کامعاملہ کیونکہ گھر کا داخلی معاملہ ہے اس لیے اس کا بہتر حل بھی خود کرکے اندر ہی سے نکل کر آنا چاہیے۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا گھریلو اور خاندانی نظام اپنی طاقت اور اپنا اثر کھوتے ہوئے بہ تدریج انتشار کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اگر ہمارا خاندانی نظام مستحکم ہوتا اور اس میں معاشرتی اخلاقی قدریں مضبوط و مستحکم ہوتیں تو مغربی دنیا کی طرز پر ہمیں ہرگز اس طرح کا قانون بنانے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ مگر اب جبکہ صورتِ حال نے ہمیں اس قدر مجبور کردیا ہے اور ہماری اقدار کی ناکامی کی صورت میں ہمیں قانون کا سہارا لینا پڑرہا ہے تو ہماری سنجیدگی اور حساسیت کا تقاضہ ہے کہ حکومت سنجیدگی سے اسے نافذ کرے۔ اب جبکہ قانون کو نافذ ہوئے ایک سال ہوچکا ہے اور ایک سالہ تجزیہ پر مبنی رپورٹوں اور اعداد و شمار نے حکومت اور حکومتی نظام کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں حکومت نے جلد ہی ریاستوں کے وزرائے قانون کی کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں اس بات کا جائزہ لیا جائے گا کہ اس قانون کے نفاذ کے لیے ریاستیں کیا کررہی ہیں اور انہیں کیاکرنا چاہیے۔

ہمارے لیے زیادہ اہم مسئلہ قانون کا بن جانا نہیں بلکہ اس کا صحیح اسپرٹ میں نفاذ ہے۔ اس لیے کہ اس ملک میں پچھلے کئی سالوں سے جہیز مخالف قانون موجود ہے اس کے باوجود اس ملک میں ہر پانچ منٹ پر ایک عورت محض جہیز کی خاطر جلا دی جاتی ہے اور قانون کھڑا تماشہ دیکھتا رہتا ہے۔ ہمیں تشویش اس بات پر بھی ہے کہ کہیں جہیز مخالف قانون کی طرح گھریلو تشدد کے خلاف بنایا جانے والا قانون بھی اپنی معنویت نہ کھودے۔ اگر ایسا ہوا تو مظلوم اور بے سہارا خواتین کا امن و قانون سے اعتماد اٹھ جائے گا۔

شیئر کیجیے
Default image
مریم جمال

تبصرہ کیجیے