ہندوستان میں بدعنوانی کی صورتِ حال

ہم ہندوستانی ایک کرپٹ اور بھرشٹ قوم ہیں اور ہماری سیاسی،سماجی اور حکومتی زندگی میں کوئی گوشہ ایسا نہیں جو کرپشن اوربھرشٹا چار سے خالی ہو۔ دنیا کے ۱۷۲ ملکوں میں اس اعتبار سے ہم ۷۲ویں نمبر پر ہیں۔ یہ حقیقت کرپشن کے خلاف کیے گئے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے ایک عالمی سروے میں سامنے آئی ہے۔ جس کے اعداد وشمار ہر ہندوستانی کو چونکا دینے والے ہیں۔ ان اعداد و شمارمیں سب سے ’بلند‘ مقام خیر سے ہمارے سیاست دانوں اور سیاسی پارٹیوں کو حاصل ہوا ہے جہاں %۹۴ کرپشن پایا گیا۔ جبکہ کرپشن، لاقانونیت اور زیادتی کے خلاف کام کرنے والا اور امن و قانون کو نافذ کرنے کی ذمہ داری رکھنے والا اہم ترین ادارہ ’پولیس‘ دوسرے نمبر پر ہے، جہاں %۹۰ کرپشن پایا گیا ہے۔

ہندوستانی قوم کی بدقسمتی ہی تصور کیا جائے گا کہ ملک کا نظام سیاست و معیشت چلانے والے گروہ سیاست دانوں میں سب سے زیادہ کرپٹ لوگ پائے جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ملک کے پالیسی ساز اور قانون ساز اداروں کے ممبر ہیں اور ملک کے سیاہ و سفید کے مالک ہیں۔ وہ ملک کو جس ڈگر پر لے جانا چاہیں لے جاتے ہیں اور جو کچھ قانون و انتظام کے نام پر کرناچاہیں کرسکتے ہیں۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ خود کرپٹ ہیں اور انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ ملک میں کس شعبہ میں کتنا کرپشن اور بدعنوانی ہے اور وہ خود بدعنوانی کے پانی میں کتنے ڈوبے ہوئے ہیں لیکن پھر بھی وہ موقع موقع سے اس بدعنوانی اور کرپشن کو ختم کرنے کے دعوے کرکے عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پارلیامنٹ کے ایوانوں، اسمبلیوں اور لوکل سیلف گورنمنٹ کے اداروں میں بدعنوانی کو ختم کرنے کے لیے اصول و ضوابط بھی یہی لوگ بناتے ہیں اور اسٹیج پر کھڑے ہوکر اس تمام صورت حال پر اظہار افسوس بھی کرتے ہیں اور اظہار لاچارگی بھی۔ مگر خود اپنے آپ کو بدعنوانی کے دلدل سے نکالنے کی طرف توجہ نہیں دیتے۔ نتیجہ صاف ظاہر ہے کہ ملک کو ترقی وکامیابی کی جن منزلوں کو آزادی کے ساتھ ساٹھ سالوں میں چھولینا تھا اس سے ابھی کوسوںدور ہیں۔

یہ مختلف شعبوں میں بدعنوانی ہی کا نتیجہ ہے کہ غربت، تعلیم اور صحت جیسے اہم شعبہ ہائے زندگی میں صورت حال انتہائی ابتر ہے۔ اکیسویں صدی کے ہندوستان میں بھی لوگ بھوک سے مرنے پر مجبور اور علاج کی سہولت سے محروم رہ کر تکلیف و کسمپرسی کی زندگی میں بستر پر پیر رگڑتے رگڑتے مررہے ہیں۔ ہندوستانی سماج کا اہم حصہ کسان غربت وافلاس کی زندگی سے تنگ آکر خود کشی کررہا ہے اور آج جبکہ دنیا میں علم و فن کا سورج چمک رہا ہے دنیا کی ایک تہائی ناخواندہ اور جاہل آبادی کا بوجھ اپنی پیٹھ پر لادے ہندوستان خراماں خراماں ’ترقیوں کی طرف محوِ سفر ہے۔ کبھی کبھی بڑے افسوس کے ساتھ یہ سوال سیاست دانوں سے کرنے کو جی چاہتا ہے کہ کیاہندوستان کی آزادی نے ملک کو ایک بدعنوان طبقے کے نام الاٹ کردیا ہے۔ ایسا بدعنوان طبقہ جو دن بدن ترقی کرتا جارہا ہے؟

بدعنوانی کے اس دلدل میں سیاست دانوں اور سیاسی پارٹیوں کا پھنسا ہونا تو ہر ہندوستانی کے لیے عام بات ہے اس لیے کہ گذشتہ ۶۰ سالوں میں جیسے ہم اس کے عادی ہوگئے ہیں اور اس پر اب بہت زیادہ تشویش بھی نہیں ہوتی مگر کچھ خاص شعبوں میں کرپشن کے بارے میں سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور ہرہندوستانی تشویش میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اور کبھی کبھی ایسا احساس ہونے لگتا ہے کہ کیا اب امید کی یہ آخری کرن بھی ڈوبنے والی ہے۔

جس چیز پر سب سے زیادہ فکر ہے اور ہر ہندوستانی کو ہونی چاہیے وہ عدلیہ کا بدعنوان ہونا ہے۔ اس لیے کہ عدلیہ اور جیوڈیشیری وہ سب سے اعلیٰ ترین ادارہ ہے جہاں سے مطلق انصاف (ultimate justice) کی توقع ہر شہری کرتا ہے اور اسے کرنی چاہیے۔ لیکن اگر یہ ادارہ بھی بدعنوانی کی زد میں آجائے تو کہاں کا قانون اور کہاں کا انصاف باقی رہے گا؟

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشل کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہمارے ملک میں عدلیہ پر بھی سیاسی پارٹیوں کا سایہ پڑنے لگا ہے۔ اور وہاں بھی بدعنوانی نے اپنی جڑیں پھیلانا شروع کردی ہیں جسے کسی بھی طرح نہ تو ملک کے لیے اچھی علامت تصور کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی عدلیہ کے وقار و احترام اور غیر جانب داری سے عوام کو عدل و انصاف فراہم کرنے کے منصب سے میل کھانے والی چیز۔ مگر کیا کیجیے کہ یہاں بدعنوانی ’’فرسٹ ڈویژن‘‘ پاس ہوگئی ہے اور اس کا ’اسکور‘ %۶۸ فیصد ہے۔

میڈیا جو غیر جانب دار ادارہ تصور کیا جاتا ہے اور لوگوں کو حقائق سے باخبر رکھنے اور اطلاعات پہنچانے کا ذریعہ ہے وہ بھی بدعنوانی کے سایہ تلے ہے جہاں %۵۰ فیصد بدعنوانی نے اپنی راہ بنالی ہے۔

مذکورہ اعداد و شمار جن میں سن ۲۰۰۵ ، ۲۰۰۶ اور ۲۰۰۷ سے متعلق اعداد و شمار پیش کیے گئے ایک حیرتناک بات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ۲۰۰۵ء کے مقابلہ ۲۰۰۶ء میں بدعنوانی کسی حد تک کم ہوئی ہے مگر پھر ۲۰۰۷ء میں اس کے گراف میں اضافہ نوٹ کیا گیا۔ لیکن ایک بات بالکل واضح ہے کہ موجودہ سال میں ۲۰۰۵ء کے مقابلہ تمام ہی شعبوں میں بدعنوانی میں کمی نوٹ کی گئی البتہ پارلیامنٹ اور اسمبلیوں میں یہ تناسب مسلسل بڑھتا نظر آتا ہے۔جو کسی بھی طرح اچھی علامت نہیں ہے۔ گزشتہ دو سالوں کے مقابلے میں جو کمی واقع ہوئی ہے اس کی ساری خوشی اس وقت کافور ہوجاتی ہے جب ہم سیاست دانوں میں اس کے گراف کو مسلسل بڑھتا ہوا پاتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ وہ بنیادی طبقہ ہے جو پورے ملک اور اس کے نظام کو چلاتا اور اسے متاثر کرتا ہے۔

ہو بہ ہو

شیئر کیجیے
Default image
ساجدہ فرید، دہلی

Leave a Reply