ایسی آزادی کے کیا کہنے!!

[یہ ہے ’’آزادی نسواں اور مساوات مردوزن‘‘ کا سحر انگیز مغربی فلسفہ جس نے خود اس کے سماج کو انتشار کی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ غور سے پڑھئے اور دیکھئے ہمارے سماج کو کدھر ہنکایا جارہا ہے۔ آخر دخترانِ اسلام کو اسی سماج میں ان حالات کا توڑ کرنا ہے۔ آپ کا ردعمل اور تجزیہ کیا ہوگا یہ ہم اپنی باشعور پڑھنے والی خواتین پر ہی چھوڑتے ہیں۔ یہ ہے ایک مضمون جو ’’ہندوستان ہندی‘‘ کے ہفتہ وار ضمیمہ میں شائع ہوا۔ (ایڈیٹر)]

زمانہ واقعی بدلنے لگا ہے۔ اور جدید دور کی خواتین کے لیے اس سے بہتر سوغات نہیں ہوسکتی اور یہ سوغات ہے ان کی آزادی کی۔ ایسا نہیں ہے کہ ہندوستانی سماج میں لڑکیوں اور خواتین کو کسی طرح کی آزادی نہیں ہے۔ بلکہ یہاں تو ان کی آزادی کی بات وسیع تر دائرے میں کی جارہی ہے۔ جی ہاں ابھی چند سال پہلے تک نظارہ ایسا نہیں تھا۔ خواہ وہ گھریلو خواتین ہوں یا کام کاجی عورتیں، انہیں اپنی زندگی کے اکثر حالات میں شوہر یا والد کے سہارے کی ضرورت ہوتی تھی۔ شادی سے پہلے یا بعد میں فرق صرف یہ ہوتا تھا کہ گھر بدل گیا۔ آزادی کا جو حقیقی مطلب ہے وہ انہیں حاصل نہ تھا۔

یہ تبدیلی آئی، مختلف طرح کے کام کی صورت حال تبدیل ہونے سے، جہاں کام کے ایسے ایسے مواقع ’’نصف آبادی‘‘ کو حاصل ہوگئے ہیں جن کا پہلے تصور بھی ممکن نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے کے مقابلہ اب لڑکیوں کا زیادہ لمبے عرصے تک اکیلے رہنا مشکل معلوم ہونے لگا ہے۔ ’’پہلے صرف پڑھائی کے دوران ہی کچھ وقت کے لیے لڑکیوں کو اکیلے رہنے کا سنہری موقع ملتا تھا اور وہ بھی ایسی حالت میں کہ انہیں مالی آزادی حاصل نہیں تھی اب تو ماحول بالکل بدل گیا ہے۔ نوکریوں میں جانے سے آج پیشہ وارانہ صلاحیت رکھنے والی لڑکیوں کو لمبے عرصے تک اکیلے رہنے کے مواقع خوب ملنے لگے ہیں۔‘‘ یہ کہنا ہے دیپالی سنگھ کا جو آئی ٹی ٹی کورس کرنے کے بعد نوئیڈا کی ایک ملٹی نیشنل کمپنی میں نوکری کرتی ہیں۔

ایسا نہیں ہے کہ سماج نے ان کی آزادی کو آسانی سے تسلیم کرلیا ہے۔ سماجی رسوم و رواج اور روایات سے ان کا مقابلہ ہوتا ہی ہے لیکن اتنا ضرور ہے کہ معاشی خود کفالت کے ساتھ اپنی آزادی سے لطف اندوز ہونے کا سلسلہ اب بڑھ چلا ہے۔ تبھی تو ’’ریتکا‘‘ جو بنگلور کے ایک ہوٹل میں ’فوڈ اینڈ بی ایورج‘ منیجر ہیں، بتاتی ہیں کہ ’’پتہ نہیں کب شادی کے بندھن میں بندھنا پڑے تب تو اس آزادی کو کھونا ہی پڑے گا۔ اس لیے جب تک یہ آزادی حاصل ہے، انجوائے کرتی رہوں گی۔‘‘

آئی ٹی ٹی، کال سینٹر، فیشن ڈیزائننگ، ریڈیو جاکی، ڈی جے، ایروبکس، کوریو گرافی اور ایکٹنگ کئی ایسے میدان ہیں جن میں کام ایک نسل پہلے تک ہی سوچا بھی نہیں جاسکتاتھا کیونکہ یہ میدان پہلے میسر نہیں تھے۔ جو کچھ تھے ان میں عورتیں تھیں لیکن ان کا بھی کیریر گھر خاندان کی نگرانی میں ہی چلتا تھا۔ لیکن اب تو ’خاب‘ ہے ان کے لیے لڑکیوں کو گھر سے دور رہنا پڑتا ہے۔

ایسے میں ملی آزادی کیا لڑکیوں کو بھاتی ہے؟ اس سلسلہ میں اکثر نوجوان پروفیشنلس کی ایک ہی رائے ہے کہ ’’اس سے اچھا اور کچھ نہیں۔ ایسی آزادی کے کیا کہنے!‘‘ تھوڑے سے سلجھے انداز میں ’سپنا بنرجی‘ بتاتی ہیں کہ ’’حالانکہ کچھ عرصہ بعد اکیلے پن سے طبیعت اکتانے لگتی ہے لیکن ابتدائی دور میں اس آزادی کا کوئی جواب نہیں۔ جب جیب میں پیسے بھی ہوں۔‘‘

’ارپتا‘ کا جو لکھنؤ میں اپنا ایروبکس سینٹر چلاتی ہیں، خیال ہے کہ ایسی آزادی بعض اوقات لڑکیوں کو مشکل میں بھی ڈال دیتی ہے کیونکہ سماج میں اس کا غلط فائدہ اٹھانے والوں کی بھی کمی نہیں ہے ایسے میں لڑکیوں کو آزادی کا صحیح مطلب سمجھتے ہوئے ہی اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

دیکھا جائے تو ہندوستان میٹرو شہروں کا نقشہ پوری طرح سے تبدیل ہوگیا ہے۔ دہلی، ممبئی، کولکاتا، حیدرآباد، بنگلور، چنڈی گڑھ، نوئیڈا اور گڑگاؤں جیسے سبھی شہروں کا یہی حال ہے۔ شاپنگ، پپ اور ڈسکو تھیک ہر جگہ ’’فریڈم کو انجوائے کرتی لڑکیاں‘‘ نظر آہی جاتی ہیں۔ اتنا ہی نہیں گھر کے اندر بھی زندگی بالکل پوری طرح ’بنداس‘ ہوتی ہے۔ چائے، کافی، اخبار، ٹفن اور نئی نئی ڈریسز کے ساتھ ’انڈین ویسٹرن میوزک کی سرتال‘ واہ کیا خوب! یہی معمولات زندگی ہیں ان پروفیشنل لڑکیوں کے جس میں ذمہ داری ہے تو بس اپنی۔ کوئی شک نہیں کہ اکیلے اور ’بنداس‘ زندگی جینے میں بھی لڑکیاں اب لڑکوں سے ذرا بھی پیچھے نہیں ہیں۔

ایسے ماحول میں جو سب سے بڑی تبدیلی دیکھنے کو مل رہی ہے وہ شادی میں ہورہی ’دیری‘ کی ہے۔ فطری بات ہے کے شادی کہ بعد ایسی مستی ملنے سے رہی کیوںکہ ایسے میں کچھ عرصہ کے لیے ایسی ’’خوبصورت زندگی‘‘ بھی جی لیں۔ ‘‘یہ کہنا ہے ’پاپیا‘ کا جو فیشن ڈیزائنر ہیں اور گذشتہ چار سال سے بھی زیادہ عرصے سے دہلی میں اکیلی رہ رہی ہیں۔ شادی کے سوال پر وہ مسکرا کر رہ جاتی ہیں۔ صرف ’پاپیا‘ ہی کیا زیادہ تر لڑکیاں ایسا ہی سوچتی ہیں۔

کہاں پاپا کی نصیحتیں اور ممی کی نگرانی اور کہاں یہ آزادی۔ کہاں شوہر سے لے کر بچوں تک کا درد سر اور کہاں ایسی مستی… کسی نہ کسی صورت میں عورتوں کو بندھ جانے کا احساس ہوتا ہی رہتا ہے۔ ایسے میں یہی کچھ سال ہوتے ہیں جن میں وہ اپنے انداز سے زندگی جینا چاہتی ہیں خواہ زمانہ کچھ بھی کہے۔

شیئر کیجیے
Default image
پرتشٹھا گوسوامی ،ترجمہ: ادارہ

Leave a Reply