لفافہ

حجاب کے نام!

ایک اہم سوال

ماہ دسمبر کا حجاب اسلامی موصول ہوا۔ گجرات کا سچ اور تربیت سے متعلق مضمون جس کو ڈاکٹر نازنین سعادت نے تحریر فرمایا ہے پسند آئے۔ ’شادی کا لازمی رجسٹریشن اور مسلمان‘ بھی پسند آیا۔

آپ کو یاد ہوگا کہ گذشتہ مہینے (نومبر) تین طلاق کے معاملہ کو لے کر جسٹس بدر دریز احمد صاحب کے فیصلہ کو کئی علماء نے تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہاں دہلی کے اخبارات میں مختلف لوگوں کے بیانات پڑھ کر طبیعت مکدر ہوگئی۔

جسٹس بدر دریز احمد نے اپنے فیصلہ میں طلاق کے عمل سے پہلے نباہ کی کوششوں پر جو کچھ کہا ہے وہ عین قرآن کی ہدایت کے مطابق ہے۔ جس میں فریقین کے گھر کے سرکردہ افراد کا مل بیٹھنا اور رشتہ کو جوڑنے کی کوشش کرنا شامل ہے۔ اسی طرح اگر طلاق دینی ہی پڑے تو اسے شرعی طریقے سے انجام دیا جائے۔ اور ایک ہی طلاق دی جائے۔

اگرچہ پورا فیصلہ اخبارات میںنہیں آیا اور مجھے اس کا پورا علم بھی نہیں ہے مگر جو بات ظاہر میں معلوم ہوتی ہے وہ یہی ہے کہ وہ طلاق کو شرعی طریقے پر انجام دینے کی طرف مسلم سماج کو متوجہ کرنا چاہتے ہیں۔

مجھے حیرت ہوئی کہ بعض علماء نے اسے بھی شریعت میں مداخلت قرار دے دیا۔ تمام علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ ایک ساتھ تین طلا ق دینا ’’طلاقِ بدعت‘‘ ہے۔ اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے۔ پھر ایسا کیوں ہے کہ ہمارے علمائے کرام ایک بدعت کو جسے ختم ہونا چاہیے قائم کرنے اور قائم رکھنے پر تلے ہوئے ہیں۔

کیا یہ چیز اسلامی شریعت، اسلام کے مزاج اور حدیث سے برارہِ راست نہیں ٹکراتی؟

ساجدہ سعید، اسٹوڈنٹ جامعہ ملیہ اسلامی، نئی دہلی

مضامین پسند آئے

ماہنامہ حجاب اسلامی موصول ہوا۔ پڑھ کر بہت خوشی ہوئی۔ حجاب اسلامی کا انتظار رہتا ہے۔ حجاب موصول ہونے پر پورا پڑھنے کے بعد ہی دوسروں کو دیتا ہوں۔ اس ماہ کے مضامین میں معصوم مرادآبادی کا ’’اف یہ فرقہ بندی‘‘ بہت خوب ہے۔ ہر ماہ قرآن پر عمل سمیہ رمضان کا تو لاجواب ہے۔ اور تربیت میں بچہ کھانا کیوں نہیں کھاتا؟ ڈاکٹر نازنین سعادت کا مضمون بھی بہت خوب ہے۔ دیگر مضامین بھی اچھے ہیں لیکن اس ماہنامہ میں درسِ قرآن بھی شروع کریں تو مناسب رہے گا۔

فضل الرحمن رشید، گرمٹال

رسالہ ہر گھر پہنچے!

رسالہ حجاب اسلامی دسمبر ۲۰۰۷ء کا شمارہ موصول ہوا۔ گذشتہ چندمہینوں سے اس رسالہ کا مطالعہ کررہی ہوں۔ اس کے مطالعہ سے خاطر خواہ اسلامی معلومات مل رہی ہیں۔ بہت سارے مضامین کے مطالعے سے یہ بات ذہین میں نقش کرگئی ہے کہ یہ رسالہ ہر گھر اور گھر کے ہر انسان تک پہنچنا چاہیے تاکہ حجاب اسلامی کے ذریعے لوگوں میں دینی شعور بیدار ہو۔ اس کے تمام مضامین قابلِ ستائش اور پسندیدہ ہیں۔ اس شمارہ میں چند مضامین واقعی قابلِ غور تھے جیسے ’’اطاعتِ رسول‘‘ زیبا فاطمہ اور ’’اسلام میں عورت کا مقام‘‘ ملا بصیرت بازغہ اور ’’ہندوستان میں بدعنوانی‘‘ خان شاہین بشیر۔

ثمرین صبا بنت غفار خاں ،آکولہ

مضمون نگاروں کو مبارکباد

ماہ نامہ حجاب اسلامی دسمبر ۲۰۰۷ء کا شمارہ دستیاب ہوا۔ اسلام میں عورت کا مقام کے لیے میں ملا بصیرت بازغہ صاحبہ کو تہ دل سے مبارکباد پیش کرتی ہوں۔ اور سیرت صحابیہ ’’حضرت خنساء رضی اللہ عنہا‘‘ کو شاہدہ آفرین نے پیش کیا جس کے تحت اسلام کی خاطر ایثار و قربانی کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ بہت پسند آیا۔ قرآن پر عمل کے خاکہ میں بعنوان ’’طلاق کی دھمکی‘‘ کے تعلق سے مزید اسلامی نقطۂ نظر سے اضافہ ہوا۔ خصوصاً اس سلسلے میں ادارے کو مستحقِ مبارکباد سمجھتی ہوں۔

حسنہ انجم ، بارسی ٹاکلی، آکولہ

کچھ خاص ہے حجاب

حجاب کئی سالوں سے زیرِ مطالعہ ہے۔ حجاب پہلے خاص نہیں ہوا کرتا تھا مگر اب میں ہر ماہ اس کا بے صبری سے انتظار کرتی ہوں۔ اگر کوئی مضمون پسند آگیا تو ہر کسی سے اس کا تذکرہ کرتی ہوں۔ ماشاء اللہ اس کے تمام مضامین ہی دل کی گہرائیوں تک اتر جاتے ہیں۔ ’’اگر ہو ذہنی سکون کی ضرورت‘‘ پڑھ کر دل کو سکون ملا۔اور ہا ں میںنے دو مضامین حجاب کے لیے ارسال کیے تھے مگر وہ اب تک شائع نہیں ہوئے۔ شاید آپ نہیں جانتے کہ حجاب کو میں کتنا پسند کرتی ہوں۔ کیا میرے لیے اس کے ورق میں کوئی جگہ نہیں۔ اسی خط کے ساتھ ایک مضمون روانہ کررہی ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے امید کرتی ہوں کہ وہ میری اس محنت کو ضائع نہیں کرے گا۔

خاشعہ ، وانم باڑی (تمل ناڈو)

[خاشعہ تمکین صاحبہ! آپ کے مضامین مل گئے ہیں اور جلد ہی آپ کسی شمارہ میں اپنا مضمون دیکھیں گی۔ ہاں ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ خوب مطالعہ کیجیے۔ جس عنوان پر لکھنا ہو پہلے اس سے متعلق معلومات جمع کیجیے اور پھر لکھئے۔ اس طرح آپ کی مضمون نگاری کی صلاحیت بھی ترقی کرے گی اور قارئین بھی آپ کی تحریروں کو پسند کریں گے۔ ایڈیٹر]

مضامین قابلِ مطالعہ ہیں

ہمیشہ کی طرح ماہ نومبر ۲۰۰۷ء کا عزیز ترین رسالہ ہاتھ میںآتے ہی گویا ہم نے سامانِ طرب پالیا ہو کچھ ایسا ہی احساس ہوا۔ بعد مطالعہ ہم اپنے تاثرات آپ تک پہنچانا ضروری سمجھتے ہیں۔ جیسا کہ سرورق پر ہی ایک اہم عنوان پر نظر پڑی’’عورت کے خلاف جرائم پر خصوصی رپورٹ‘‘ ہم نے بغور مطالعہ کیا۔ مذکورہ رپورٹ نے ہمارے سماج کی انتہائی بدصورت تصویر پیش کی ہے ۔ مگر کیا کیجیے کہ یہ حقیقت بھی ہے۔ جرائم کے اسباب پر سب سے زیادہ تناسب ’’جہیز‘‘ کی وجہ سے ہونے والے جرائم 18.84فیصد دیکھ کرہمیں کوئی حیرانی نہیں ہوئی مگر حقیقت سے آنکھیں چرا لینے کو دل چاہا۔

دیگر مشمولات میں کہانی ’’سب کچھ لٹا کے‘‘ دعوتِ عمل دیتا مضمون ’’نمازِ فجر کے لیے بیدار ہونا‘‘ ’’عید‘‘ ڈاکٹر محبوب راہی کی نظم ’’کمرکادرد‘‘ فکر صحت غرض سبھی قابل مطالعہ رہے۔

کچھ حجاب کے بارے میں

عرض یوں ہے کہ آپ کا رسالہ ’’حجابِ اسلامی‘‘ ہر مہینے کی طرح اس مہینے بھی موصول ہوا۔ جس کے تمام موضوعات پسند آئے خاص کر ’’باپ کی بدعا‘ بہت پسند آیا۔ مگر مجھے آپ سے ایک شکایت ہے کہ آپ کسی ایک ہی شخص کی ایک ہی رسالے میں کئی تخلیق شائع کردیتے ہیں۔ جس کی وجہ سے قارئین کی نظروں میں رسالے کی قدر کم ہوجاتی ہے۔ اس لیے میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ کسی ایک ہی شخص کی ایک ہی رسالے میں کئی تخلیقات شائع نہ کریں۔

خوشی کی بات یہ ہے کہ آپ کا رسالہ ’’حجابِ اسلامی‘‘ کوکن میں کافی مقبولیت حاصل کررہا ہے اور آگے بھی انشاء اللہ ہوتا رہے گا۔ کیوں کہ اس کے خریدار دن بہ دن بڑھتے جارہے ہیں۔ اس مہینے میں میں نے آٹھ خریدار بنائے ہیں اور انشاء اللہ آگے بھی بناتا رہوں گا۔ اور اللہ سے دعا گوں ہوں کہ یہ رسالہ ہندوستان کے کونے کونے میں جاکر مقبولیت حاصل کرے۔ آمین

فرقان بجنوری، اپرتوڑیل، مہاڑ، رائے گڑھ

[فرقان صاحب!شکریہ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔ ہمیں آپ کی کوشش اور دعاؤں دونوں کی ضرورت ہے۔ آپ کی شکایت فوراً رفع کی جارہی ہے۔ایڈیٹر]

رسالہ اچھا ہے

دسمبر۲۰۰۷ء کا حجاب ملا۔ اتفاق کہیے یا بدقسمتی کہ نومبر کا شمارہ دستیاب نہ ہوسکا۔ شاید کہ ڈاکخانہ ہی سے کوئی اٹھا لے گیا۔ گوشہ تذکیر سیرت صحابیہ حـضرت خنساءؓ، بزمِ حجاب میں قابلِ غور کہانی میں معصوم ، کڑوا پھل، فاطمہ بنت طارق، محفوظ الرحمن صاحب کا مضمون دہلی ہائی کورٹ کا ایک چشم کشا فیصلہ، معصوم مرادآبادی کا مضمون ’اُف یہ فرقہ بندی‘ آسان گھریلو نسخے، شعرونغمہ میں ڈاکٹر محبوب راہی کی نعت، اختر سلطان اصلاحی صاحب کی نعت و غزل اور مستقل کالم میں کہانی پتھر کا سوپ، تین دوست زیادہ پسند آئے۔ اس مرتبہ کا حجاب ٹھیک ہے۔ خواتین کے متعلق مضامین میں، آپ خواتین کے متعلق ہی مضامین شائع کریں جو آسان عام فہم اردو زبان میں ہوں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس رسالے کو ترقی پر گامزن رکھے اور اس کی توسیعِ اشاعت فرمائے آمین۔

محمد عادل ندوی، مئو ائمہ، الہ آباد

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

Leave a Reply