غزل

اپنے حالات بدل جائیں گے انشاء اللہ

پھر وہی لوٹ کے دن آئیں گے انشاء اللہ

زہر گھولیں گے تعصب کا فضا میں جو بھی

وہ کبھی بھی نہیں بچ پائیں گے انشاء اللہ

ہم کو بس پیار کا ماحول بنانا ہوگا

مسئلے سارے سلجھ جائیں گے انشاء اللہ

شمع ایمان کی روشن ہے ہمارے دل میں

ہر مصیبت سے نکل آئیں گے انشاء اللہ

ابرہہ جب بھی بڑھے گا بری نیت لے کر

پھر پرندے بھی نکل آئیں گے انشاء اللہ

حوصلہ دل میں اگر اپنے ہو موسیٰ جیسا

راستے دریا میں بن جائیں گے انشاء اللہ

میں نہیں کہتا یہ قراں میں لکھا ہے فرمانؔ

پوری دنیا پہ ہمیں چھائیں گے انشاء اللہ

شیئر کیجیے
Default image
فرمانؔچودھری

Leave a Reply