مسلم عورت: افراط و تفریط میں اعتدال کی ضرورت

اس وقت رائج دو جاہلیتوں میں سے کسی ایک کی سب سے زیادہ شکار مسلم عورت ہی ہے۔ پہلی جاہلیت اکیسویں صدی میں مسلمانوں کے درمیان پایا جانے والا غلو، شدت پسندی اور روایات و آبا و اجداد کی بلاسوچی سمجھی ایسی جاہلیت جس کا دین سے کوئی رشتہ نہیں۔ اوردوسری جاہلیت نئے زمانے میں پائی جانے والی عریانیت، مغربیت پرستی اور اندھی آزادی ہے۔ دونوں ہی جاہلیتیں اللہ کی ہدایت اور رسول کی رہنمائی اور انسانوں کو فوز و فلاح سے ہم کنار کرنے میں ناکام رہنے والی ہیں۔

مسلم عورت دونوں ہی جاہلیتوں کی صورت میں دین دار طبقہ کی مدد اور حقیقی رہنمائی کی محتاج ہے۔ اور اگر یہ رہنمائی اور مدد اسے میسر نہ آسکی تو نہ مسلم معاشرہ کامیاب اور مثالی معاشرہ بن سکتا ہے اور نہ باقی دنیا ہی مسرت و کامیابی کی زندگی سے ہم کنار ہوسکتی ہے۔

جدید دور کی مغربی جاہلیت نے تو مادر پدر آزادی کا نعرہ بلند کرکے ہر مرد اور عورت کو یکسا بنادیا ہے اور دونوں میں سے ہر ایک کو مطلق آزادی دے کر بے لگام گھوڑے کی طر چ چھوڑ دیا ہے جبکہ اسلام نے مردوں اور عورتوں دونوں کو حقوق و فرائض اور حدود و قیود کے بندھنوں میں باندھ کر رکھا ہے۔ یہاں نہ مرد آزاد اور عورت قید ہے اور نہ مرد آقا اور عورت غلام ہے۔ یہاں رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان قاضی اور فیصلہ کن ہے کہ ’’عورتیں مردوں کے ہم مرتبہ ہیں۔‘‘

اور یہ کوئی زبانی دعویٰ نہیں بلکہ عملی مثال ہے جو عہدِ رسالت اور بعد تک کے اسلامی ادوار میں ہمیں ملتی ہے جہاں خواتین کو سیاسی، معاشی، شخصی، خاندانی اور تمام طرح کی آزاد یاں حاصل رہی ہیں۔ اس کی روشن ترین مثالیں عہد ِ خلافت، تابعین اور تبع تابعین تک کے زمانوں میں ملتی ہیں جہاں وہ عالم، فقیہ، محدث، طبیب، ماہر معاشیات اور سیاسی مشیر تک کے بلند مرتبوں پر فائز نظر آتی ہیں۔ تاریخِ اسلام میں بے شمار ایسی عظیم المرتبت خواتین ہمیں ملتی ہیں جن کے شاگردوں میں بڑے بڑے فقہاء اور محدثین بھی شامل تھے۔

عورت سماج کا نصف ہے اور اس حیثیت سے مسلم سماج کا بھی نصف ہے مگر آج نصف سماج عضو معطل کی طرح کیوں ہے؟ آخر سماجی، معاشرتی، علمی اور دینی و دعوتی سرگرمیوں میں اس کی وہ نصف حصہ داری کیوں نہیں ہے جو ہونی چاہیے اور جو عہدِ رسالت میں رہی ہے۔ جواب صاف ہے۔ مغرب میں عورت غلام ہے آزادی کی۔ اس آزادی کی جس کو وضع کیا ہے مردوں نے۔ اور مسلم عورت پابند ہے ان بیڑیوں کی جس کو وضع کیا ہے جاہلیت پر مبنی روایات اور خود غرضیوں نے۔ جس میں مردوں کی وہ غلامی شامل ہے جس کا قلادہ تقلید اور سماجی روایتی بندھنوں نے ان کے گلے میں ڈالا ہے۔ مسلم عورت کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ اس معنی میں کہ بہت سی نامناسب بلکہ ناجائز پابندیاں اس پر دین کے نام سے لگائی گئی ہیں اور حقیقت میں دین سے ان کا کوئی واسطہ نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ عورت چاہے مشرق کی ہو یا مغرب کی، مسلمان ہو یا غیر مسلم اس وقت تک حقیقی آزادی سے ہم کنار نہیں ہوسکتی جب تک مردوں کو آزادی نہیں ملتی اور مردوں کو آزادی اس وقت تک نہیں مل سکتی جب تک وہ سب کچھ چھوڑ کر اللہ کے دین اور اس کی شریعت کی اتباع کے لیے خود کو آمادہ نہیں کرلیتے۔ اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم دین و شریعت اور رسوم و رواج دونوں کو الگ الگ کرکے ہر ایک کو اس کے مناسب حال درجہ نہیں دیتے۔ دین و شریعت اللہ کی بنائی ہوئی رہنمائی ہے۔ اسے آباء و اجداد اور معاشرے کے رسوم و رواج پر قربان نہیں کیا جاسکتا۔ اس وقت ہمارے معاشرے کی افراط و تفریط کا عالم یہ ہے کہ رسوم و رواج اور روایات نے دین و عقیدے کی اہمیت اختیار کرلی ہے۔ جب دین و روایت کے درمیان اختلاف ہوتا ہے تو روایات اور رسوم غالب آجاتے ہیں اور شریعت پسِ پشت ڈال دی جاتی ہے۔ یہی تو وہ افراط وتفریط کی زنجیر ہے جسے کاٹنے کے لیے رسول اللہ، شریعت لے کر آئے اور ہر چیز پر اسے فوقیت دی۔ مگر آج ہماری عملی زندگی میں پھر جاہلیت لوٹ آئی ہے۔ اور ان زنجیروں اور بیڑیوں کو ہم نے پھر پہن لیا ہے جنھیں شریعت نے پگھلا دیاتھا۔ خدا کی عبادت اور اس کی خوشنودی کو چھوڑ کر مسلم معاشرے نے بھی سماج و معاشرے کے بت کے سامنے سر جھکا کر اس کی رضا جوئی کو اہمیت دے دی ہے۔مسلم عورت آج پھر روایت کی زنجیروں میں قید ہے اور اس میں سے کئی اسے دین کے نام پر پہنائی گئی ہیں۔

عہدِ رسالت اور عہدِ اسلامی میں عورت کی معاشرتی زندگی کے خدوخال واضح ہیں۔ اس کا کردار اور اس کی سرگرمیاں معلوم اور مشہور ہیں۔ اس کا تاریخی رول مختلف میدانوں میں آج بھی ضرب المثل ہے۔ مگر ہم اسے دیکھنا اور اس سے رہنمائی حاصل کرنا نہیں چاہتے کیوں کہ اس سے ہماری پہلے سے بنی سوچ کے سانچے بدل جائیںگے۔ سماجی روایات کے بتوں کی توہین ہوگی اور ہمیں خدائی شریعت کے تابع ہونا پڑے گا۔

عہدِ رسالت کی عورت کو جو حقوق و اختیارات اور آزادی حاصل تھی آخر ہماری خواتین اس کے حصول کی خواہش کیوں نہیں کرتیں؟ اور ہمارا مسلم معاشرہ انہیں دینے میں کیوں تذبذب کا شکار ہے؟ اس کی دو بنیادی وجوہ ہیں۔ ایک تو یہ کہ خود خواتین اور معاشرے کو اس کا علم نہیںہے کیونکہ ان کو مغلوبیت کے دور میں علم دین کے سوتوں سے دور کردیا گیا۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم خواتین کے حقوق و اختیارات اور ان کی آزادی کی بات جدید مغربی دنیا کی آزادی اور اس کے رائج نظریات کی روشنی اور اسی کے سیاق و سباق میں دیکھنے اور سوچنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ نتیجتاً عورت کے حقیقی رول، شخصی آزادی جیسے موضوعات پر بحث کرنے کے بجائے معمولی اور فروعی موضوعات پر بحث کرتے ہیں۔ عورت کے انقلابی رول اقامتِ دین ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے مشن میں اس کی نصف حصہ داری پر بات کرتے ہوئے پردہ کا مسئلہ آڑے آجاتا ہے۔ اور ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ داعی و مبلغ صحابیات نے گھروں سے نکل کر دعوتی کام کس طرح کیا۔ معاشی آزادی (Economic Empowerment) کی بات کرتے ہیں تو اس پر بحث ہوتی ہے کہ اسلام نے اس کے نان نفقہ کی ذمہ داری شوہر کے سپرد کی ہے۔ اس لیے اسے معاشی جدوجہد میں شریک ہونے کی ضرورت نہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ زینب بنت جحشؓ ایک صنعت کار تھیں اور خود پیسہ کماکر صدقہ کیا کرتی تھیں اور ان کی جود و سخا اور صدقہ و خیرات کی، رسولؐ نے بھی ستائش کی اور صحابیات بھی ان پر رشک کرتی تھیں۔ اسی طرح کھیتی باڑی، گلہ بانی، تیمار داری اور حفظانِ صحت یہاں تک کہ فوجی خدمات میں بھی صحابیات کا کردار واضح نظر آتا ہے۔

کیا ہماری مسلم خواتین اس پر غوروفکر کرنے ا ور مطالعہ کرنے کا شوق نہیں رکھتیں کہ صحابیات نے اس قدر ہمہ گیر رول کس طرح ادا کیا؟ اور انھوں نے ان مسائل کا حل کس طرح نکالا جو آج ہمیں ایسا کرنے سے روکتے ہیں؟

دین سے دوری کے اس تاریک دور میں خواتین کی دین داری کو سب سے زیادہ نقصان جس چیز سے پہنچا ہے وہ ان کی اجتماعی نظام عبادت سے بے دخلی اور دوری ہے۔ وہ جماعت کے لیے مسجد نہیں جاسکتیں، اس لیے ہر قسم کی دینی رہنمائی اور وعظ و نصیحت سے محروم ہیں۔ عورت کے مسجد جانے کا تصور گناہ عظیم بن گیا اور بازاروں اور شاپنگ سنٹرس میں جانا معمول کی بات ہے۔ جبکہ اللہ کے رسولﷺ نے واضح طور پر بتادیا کہ دنیا کی سب سے بری جگہ بازار اور سب سے اچھی جگہ مسجد ہے۔

حضور ﷺ کے زمانے میں خواتین نماز باجماعت کے لیے مسجد بھی جاتی تھیں اور رمضان میں اعتکاف بھی کرتی تھیں، نماز جنازہ میں بھی شریک ہوتی تھیں اور جنگ کے محاذ پر بھی موجود رہتی تھیں۔ یہ عہدِ رسالت میں خواتین کا متوازن، معتدل اور انقلابی رول ہے جس کی روشنی ہماری خواتین اور پورے مسلم معاشرے کو اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

افراط و تفریط اور انتہا پسندی خواہ وہ احتیاط کے نام پر ہو ، ناواقفیت کے سبب نقصان دہ اور تھکا دینے والی چیز ہے۔ اس سے نکلنا زندگی کو بامقصد اور تعمیری بنانے کے لیے ضروری ہے کیونکہ کامیابی کی راہ اعتدال کا راستہ ہے۔

اس کیفیت سے مردوں کو بھی نکلنا چاہیے اور خواتین کو بھی اور اس کی واحد راہ صرف یہ ہے کہ عہدِ رسالت کو اور عہدِ رسالت کی خواتین کے رول کو ماڈل بنایا جائے اور دین کو دین کا درجہ دیتے ہوئے سماجی اور معاشرتی روایات پر اسے قربان ہونے سے بچایا جائے۔

شیئر کیجیے
Default image
مریم جمال

Leave a Reply