6

لطائف

استاد: (شاگرد سے)’’بتاؤ گاندھی جی کو کس نے مارا…؟‘‘

ثاقب نے معصومیت سے جواب دیا: ’’گولی نے …‘‘

استاد: (غصے سے پوچھا) ’’گولی چلانے والا کون تھا…؟‘‘

ثاقب نے ایک بار پھر معصومیت سے جواب دیا: ’’جی ریوالور…‘‘

٭٭٭

استاد : (شاگرد سے) ’’جب پانی کو گرم کیا جاتا ہے تو اس میں سے شوں شوں کی آواز کیوں آتی ہے؟‘‘

شاگرد: (جلدی سے) جب پانی کے جراثیم مرتے ہیں تو سب مل کر شور مچاتے ہیں۔ اس لیے شوں شوں کی آوازیں آتی ہیں۔

٭٭٭

ایک غائب دماغ پروفیسر کہیں جارہے تھے کہ راستے میں انہیں ان کا بیٹا مل گیا۔ بیٹے نے سلام کیا تو پروفیسر صاحب کھسیانے ہوکر بولے: وعلیکم السلام بیٹا کہو تمہارے باپ کا کیا حال ہے؟‘‘

٭٭٭

نماز پڑھنے کے بعد ایک نوّے سالہ شخص روزانہ یہ دعا مانگتا تھا:

’’باری تعالیٰ! میں بڑا گناہ گار ہوں میں جنت میں جانے کا مستحق نہیں، مجھے اسی دنیا میں رہنے دے۔‘‘

٭٭٭

وکیل: آپ وہ الفاظ دہرائیں جو ملزم نے آپ سے کہے تھے۔

مدعی: جناب! وہ شریف آدمی کے سامنے نہیں کہے جاسکتے۔

وکیل: ٹھیک ہے آپ وہ الفاظ جج صاحب کے کان میں کہہ دیں۔

٭٭٭

ایک دیہاتی پہلی بار ایک سنار کی دکان پر گیا اور اس نے سنار سے پوچھا: ’’بھائی صاحب! یہاں کیا بکتا ہے؟ سنار کو یہ سن کر بہت غصہ آیا اس نے اپنے دل میں سوچا پوری دنیا جانتی ہے، سنار کی دکان پر سونا بکتا ہے اور پھر بولا: ’’یہاں پر گدھے بکتے ہیں۔‘‘

دیہاتی حاضر دماغ تھا بولا: ’’آپ اکیلے ہی بیٹھے ہیں یا اور بھی کوئی ہے؟‘‘

٭٭٭

ایک مولوی صاحب تھے بڑے ہی کنجوس ۔ جب بھی کوئی چیز منگاتے تو کہتے تھے عام چیز لے کے آنا (یعنی سستی) ایک دن ان کے یہاں ایک مہمان آئے تو مولوی صاحب نے ایک لڑکے کو بلایا اور کہا کہ جاؤ عام چائے لے کے آؤ۔

لڑکا گیا اور آم چائے لے کے آگیا۔ مولوی صاحب نے دیکھا تو غصے سے پوچھا بے وقوف یہ کیا لایا ہے ۔ لڑکا سادگی سے بولا: ’’استاد آپ ہی نے تو کہا تھا کہ آم چائے لے کے آنا۔‘‘

٭٭٭

ٹوتھ پیسٹ کا پرچار کرتے ہوئے سیلز مین بولا: ’’لوبھائی صاحب اس ٹوتھ پیسٹ کو استعمال کرنے کے بعد آپ پتھر تک توڑ سکتے ہیں۔‘‘

گاہک: کیا ہمارے دانت اتنے مضبوط ہوجائیں گے؟

سیلز مین: یہ ہم نے آپ سے کب کہا۔ دراصل اس پیسٹ کے ساتھ یہ ہتھوڑا ہم نے مفت میں رکھا ہے۔

٭٭٭

ایک بس آکر رکی چند سواریاں اتریں اور چند سواریاں چڑھنے کے لیے دروازے کے قریب آگئیں۔ ہر شخص کی خواہش تھی کہ وہ پہلے بس میں داخل ہو۔ کنڈیکٹر نے لوگوں کو پیچھے ہٹاتے ہوئے کہا: ’’آپ لوگ پیچھے ہٹ جائیے پہلے لیڈیز چڑھیں گی۔ اتنا سن کر ایک دیہاتی عورت نے بڑے غصے میں کہا: ’’بھاڑ میں گئی تمہاری لیڈیز پہلے ہم چڑھیں گے۔‘‘

٭٭٭

تین بے وقوف قطب مینار دیکھنے گئے ان میں سے ایک بے وقوف قطب مینار دیکھ کر کہنے لگا پہلے زمانے کے لوگ کتنے لمبے ہوتے تھے کہ کھڑے کھڑے اتنی بڑی مینار بنالیا کرتے تھے۔

دوسرا بے وقوف بولا: ایسے ویسے نہیں پہلے لٹا کر بنالیا کرتے تھے پھر اسے کھڑا کردیا کرتے تھے۔

تیسرا بے وقوف بولا: ابے پاگل ویسے نہیں پہلے کنواں بنالیتے تھے پھر اسے الٹ دیتے تھے۔ اس طرح یہ قطب مینار بن گیا۔

٭٭٭

شیئر کیجیے
Default image
Jamil Sarwer

تبصرہ کیجیے