سب سے بڑے جبڑوں والی مچھلی

کیا آپ جانوروں کے پہلے راجا کے بارے میں جانتے ہیں؟ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ڈنکلیوسٹیس ٹریلی جانوروں کا پہلا راجا رہا ہوگا تعجب کی بات یہ ہے کہ یہ ایک بڑی تاریخی مچھلی کا نام ہے۔ جوکہ ۳۳ فٹ لمبی اور وزن میں چارٹن کی تھی۔ اس کے جبڑے آری کی طرح تھے۔ جو بتاتے ہیںکہ جن شارکوں کو یہ اپنا شکار بنایا کرتی تھی ان میں بھی ایسے جبڑے تھے جو اب تک بن نہیں پائے ہیں۔

سائنسدانوں کو پتا چلا ہے کہ ڈنکلیوسٹیس کے جبڑے آج تک کی تمام مچھلیوں میں سب سے زیادہ مضبوط تھے اور ا س کا نوالہ تیز طرار گھڑیال بھی ہوتے تھے۔ یہ مخلوق زمین پر اندازاً ۶۵ کروڑ سال پہلے پائی جاتی تھی۔اس پروجیکٹ کے رہنما اور ماہر شکاگو یونیورسٹی کے فزکس ڈپارٹمنٹ کے فلپ انڈرسن کا کہنا ہے کہ ڈنکلیوسیٹس اپنے آس پاس پائی جانے والی کسی بھی چیز کو نگل جانے کی طاقت رکھتی تھی۔

سائنسدانوں کو ڈنکلیوسیٹس کے بارے میں پہلے سے ہی پتا ہے۔ انڈرسن اور ان کے ایک ساتھی نے اس قدوقامت والی مچھلی کا کمپیوٹر ماڈل بنایا اور اس جیسی میں اس مخلوق کی شکلوں سے بھی مددل لی اور اس کے بعد انھوں نے یہ نتیجہ نکالا کہ یہ مچھلی گیارہ سو پونڈ کی طاقت سے اپنا شکار دبوچتی تھی اور یہ سب اتنی تیزی سے ہوتا تھا کہ سیکنڈ کے پانچویں حصے میں ہی اس کے جبڑے کھل جاتے تھے اور اس کی اس حرکت سے اس کے سامنے والا شکار خود بخود اس کے منہ میں کھنچا چلا آتا تھا۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ مچھلیوں میں عام طور پر یا تو شکار کرنے کی قوت و صلاحیت پائی جاتی ہے یا وہ رفتار میں تیز ہوتی ہیں۔ دونوں خوبیاں ایک ساتھ نہیں پائی جاتیں۔ لیکن ڈنکلیوسیٹس میں یہ دونوں باتیں موجود تھیں۔

ڈنکلیوسیٹس، پلاکوڈرم نسل کی ایک مخلوق تھی۔ یہ ایسی مچھلیوں کی نسل تھی جو کہ دورِ ماضی میں پورے سطح سمندر اور پانی میں راج کرتی تھیں۔ اس کا شکار اتنا تیز اور شکار کی طاقت ایسی تھی کہ اپنے دور کی دوسری پانی میں رہنے والی مخلوق جیسے شارک اور آرتھوپوڈا اس کی غذا ہوا کرتے تھے۔

اگر ڈنکلیوسیٹس اب اس دور میں بچی رہ جاتی تو آج کی تاریخ میں اسے سب سے خطرناک قسم کی مچھلی کا نام دیا جاتا۔

یہ ریسرچ رائل سوسائٹی جنرل بایولوجی لیٹرس کے ۲۹ نومبر کے حصے میں شائع ہوئی تھی۔

شیئر کیجیے
Default image
ناظمہ عارفین، کانپور

Leave a Reply