لفظ کی نصیحت

جیسے ہی میں پڑھنے کے کمرے میں داخل ہوا،مجھے محسوس ہوا کہ وہاں میرے علاوہ بھی کوئی اور موجود ہے۔ میں نے ادھر ادھر دیکھا مگر کوئی دکھائی نہیں دیا۔ میں کرسی پر بیٹھ گیا، جیسے ہی بیٹھا میں نے دیکھا کہ میز پر رکھی ہوئی پرانی کتاب سے ایک لفظ میز پر گر پڑا ہے۔ یہ لفظ تھا ’’لاپرواہ‘‘۔ میں بڑبڑایا: ’’آپ اپنی لاپرواہی کی وجہ سے ہی تو کتاب سے گرپڑے۔‘‘ اس نے کہا: ’’نہیں! ایسی بات نہیں۔ میں تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے تمہارے سامنے حاضر ہوا ہوں۔‘‘ میں نے پوچھا: ’’کیا الفاظ بولتے ہیں؟‘‘ اس نے جواب دیا: ’’میں تو کیا اللہ کے حکم سے کنکریاں بھی بول اٹھتی ہیں۔ تمہاری لاپرواہی حد سے بڑھ گئی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے تمہارے سامنے کردیا۔‘‘

میں نے کہا: ’’کیا مطلب ؟ کیا میں لاپرواہ ہوں؟‘‘ وہ بولا: ’’تمہاری زندگی میں بس دنیا ہی دنیا ہے۔ کھیل کود اور کتابیں پڑھنا کہ ڈاکٹر یا انجینئر بن جاؤ۔ ہر لمحہ دنیاوی کامیابی کے لیے کوشاں ہو۔ آخرت کی کامیابی کا تو خیال بھی تمہارے دل میں نہیں آتا۔اس سے بڑھ کر لاپرواہی اور کیا ہوسکتی ہے۔‘‘ میں لاجواب ہوگیا۔

’’ارے خاموش کیوں ہو؟ کچھ تو کہو۔‘‘ اس نے مجھ سے کہا۔

’’تمہاری بات سو فیصد صحیح ہے۔ مگر یہ تو بتاؤ اس کا سبب کیا ہے؟‘‘ میں نے پوچھا

اس نے کہا: ’’دنیاداروں اور بے دین لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا اور ان کا طرزِ زندگی اختیار کرنا ہی اس کا سبب ہے۔ اسی لیے تو اللہ کے رسول نے بری صحبت سے منع فرمایا ہے۔ اور نیک و ایمان والوں کی صحبت اختیار کرنے کی تلقین کی ہے۔‘‘

میں نے کہا: تمہارا خیال ہے کہ لاپرواہ لوگوں کی صحبت کا بھی اثر پڑتا ہے۔ میں تو سوچتا ہوں کہ جو خود لاپرواہ ہیں وہ دوسروں پر کیا اثر ڈالیں گے؟‘‘

اس نے کہا: ’’ارے نادان! دھواں کھانا جلاتا نہیں لیکن اسے بدمزہ ضرور کردیتا ہے۔‘‘

میں نے پوچھا: کیسے معلوم ہوا کہ دل لاپرواہی میں مبتلا ہے؟‘‘

اس نے جواب دیا: جب تم کسی کو دیکھو کہ تمہارے سامنے اللہ اور رسول کی نافرمانی کررہا ہے، برائی کے کام کررہا ہے۔ اور تمہارے ٹوکنے پر بھی نہیں رکتا تو سمجھ لو کہ اس کے دل میں اللہ کے لیے کوئی جگہ نہیں اور وہ اپنی آخرت سے لاپرواہ ہوگیا ہے۔ اس کی نشانی یہ ہے کہ آدمی نماز سے غافل ہوجاتا ہے۔ قرآن کی تلاوت میں اسے دلچسپی نہیں ہوتی اور دینی کتابوں اور دینی مجلسوں سے اس کا دل اچاٹ ہوجاتا ہے۔ لاپرواہی کی ایک اور شکل بھی ہے۔

میں نے بے چینی سے پوچھا وہ کیا ہے؟

اس نے کہا: ’’جب آدمی دوسروں کا مذاق اڑاتا ہے اور ان کے عیبوں کو تلاش کرتا ہے اور خود اپنے عیبوں پر اس کی نظر نہیں ہوتی۔ تو یہ بھی لاپرواہی ہے۔ ‘‘

اس کی باتیں سن کر مجھے شدت سے احسا ہوا میں نہایت گناہ گار شخص ہوں۔ میرا دل بیٹھا جارہا تھا۔ میرا حلق اور ہونٹ خشک ہوگئے تھے اور ماتھے پر ندامت کے پسینے کی ننھی ننھی بوندیں نمودار ہوگئی تھیں۔ میں بمشکل کہہ سکا: ’’تم نے میری آنکھیں کھول دیں، میں اس ’’لاپرواہی‘‘ سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ اس کے لیے مجھے کیا کرنا ہوگا؟‘‘

ا س نے مجھے نصیحت کی کہ اپنا محاسبہ کرو۔ گناہوں سے تہہ دل سے توبہ کرو اور آئندہ گناہوں اور برے کاموں سے بچنے کے لیے جدوجہد بھی کرتے رہو۔ اللہ کا حق اور ساتھ ہی بندوں کے حقوق کی ادائیگی کا ہر حال میں پورا پورا خیال رکھو۔ انشاء اللہ تعالیٰ تم جلد ہی لاپرواہی کی اس آزمائش سے نکل آؤ گے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمہارا شمار فرمانبردار بندوں میں ہونے لگے گا۔ اس لفظ نے اتنا ہی کہا تھا کہ ہوا کا ایک جھونکا کمرے میں آیا اور وہ لفظ اڑ کر جانے لگا۔ میں نے اسے روکا اور بڑے احترام سے اٹھا کر اسی پرانی کتاب میں رکھ دیا۔ میں اس لفظ ’’لاپرواہ‘‘ کا شکر گزار ہوں کہ ا س نے مجھے لاپرواہی کے گڑھے نکال دیا۔

شیئر کیجیے
Default image
شیخ رحمن آکولوی

Leave a Reply