غزل

آوازوں کے صحراؤں پر اتری کالی رات

بھرے شہر کے ہنگاموں پر چھا گئی کالی رات

رات درختوں کی چھاؤں میں اونگھ رہی تھی رات

رات تو جیسے پی کر آئی مَد کی پیالی رات

پھیل گئی گہرے سایوں میں روشنیوں کی لہر

جب اس نے اپنے بالوں میں مانگ نکالی رات

پھول کھلے تھے اِک اِک شاخ پہ رنگ برنگے پھول

باغ کے آنگن میں روشن تھی ڈالی ڈالی رات

آؤ من کی جھولی میں بھر لو یہ روپ انوپ

ہاتھ پہ رکھ کر نکلی ہے مہتاب کی تھالی رات

دھیان کے کنج سے باہر مت جا کھڑی ہے تیرے دوار

لمبی لمبی، کالی کالی باہوں والی رات

ناصرؔ ساری عمر رہا ہے اپنا تو یہ جمال

کاٹ دیا جل جل کے دن، رو رو کے بتالی رات

شیئر کیجیے
Default image
ناصر ؔشہزاد

Leave a Reply