BOOST

غزل

نہ پیروں کو، نہ وہ سر کاٹتا ہے

وہ بلبل کے فقط پر کاٹتا ہے

دھواں، آہیں، لہو، فریاد و نالہ

مرے شہروں کا منظر کاٹتا ہے

بجا یہ آہ و گریہ یہ مناجات

مگر خنجر کو خنجر کاٹتا ہے

رہو بیدار حزب اللہ والو

کہ ’’بش‘‘ غصے میں چکر کاٹتا ہے

اسامہ ہو کہ بش، صدام ، ہر ایک

سہیلؔ اپنا مقدر کاٹتا ہے

شیئر کیجیے
Default image
سہیل احمد اعظمی

تبصرہ کیجیے