غزل

جتنا تڑپے گی، ہمیں اور بھی تڑپائے گی

وقت کی موج ہے سر سے بھی گزر جائے گی

شام سے تا بہ سحر راہ تو دیکھوں گا تری

جاں سمٹ کر مری آنکھوں میں چلی آئے گی

تجھ کو معلوم بھی ہے عشق کی ایذا طلبی!

تجھ کو دیکھے گی تو کترا کے نکل جائے گی

آشیانوں میں سمٹنے سے تھمے گا طوفاں؟

ابر چھایا ہے تو پھر برق بھی لہرائے گی

کبھی دیکھیں بھی تو اس شوخ کو سرمستِ خرام

یوں تو ہم نے بھی سنا ہے کہ بہار آئے گی

شیئر کیجیے
Default image
جمیل ملک

Leave a Reply