گردش ایام

راجندر شکلا اور ہرچرن سنگھ بڑار کی دوستی ایک مثالی دوستی تھی۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ ان دونوں فرقوں کے درمیان رسہ کشی چل رہی تھی اور جس کی وجہ سے پوری فضا روز بروز بوجھل سے بوجھل تر ہوتی چلی جارہی تھی۔ یہ دونوں ایک ہی مکان میں دو بھائیوں کی طرح رہ رہے تھے۔ راجندر اور ہرچرن پچھلے آٹھ دس برس سے ایک بڑی موٹر گیرج کے مشترکہ مالک تھے۔ کہا جاتا ہے کہ پہلے احمد آباد کی ایک مشہورسڑک پر ہرچرن سنگھ بڑار کی ایک چھوٹی موٹر پارٹس کی دکان تھی اور راجندر شکلا اس دوکان میں ملازم تھا۔ البتہ مالک اور ملازم ہونے کے باوجود دونوں باہمی دوستوں کی طرح جی رہے تھے جس کا واحد سبب ان کا شغل ناؤ نوش اور عیش پرستی تھی۔ پھر یہ ہوا کہ احمد آباد جو مہاتماگاندھی کا مادرِ وطن تھا فرقہ وارانہ منافرت کا مرکز بننے لگا۔ ہندوستان کی تنگ نظر تنظیم نے اسے اپنا مرکز توجہ اور مستقر بنالیا۔ پھر اس تنظیم نے اپنے بال و پر نکالنے شروع کردیے۔نتیجہ یہ ہوا کہ احمد آباد کمزوروں کے لیے ایک آزمائش گاہ بن گیا۔ آئے دن مکانات جلنے لگے، دوکانیں لٹنے لگیں، کاروبار مندا پڑنے لگا، جانیں ارزاں ہوگئیں۔ عصمتوں کا کوئی مول نہ رہا۔ اور عزت و آبرو نیلام ہونے لگی۔ ہر شریف النفس الامان والحفیظ پکارنے لگا۔ انہی حالات میں ہرچرن سنگھ نے یہ فیصلہ کرلیا کہ اب احمد آباد سے نکل کر دہلی کو زندگی کا مرکز بنایا جائے۔ راجندر شکلا نے بھی اس کی تائید کی اور دونوں اپنی دوکان ختم کرکے احمد آباد سے دہلی منتقل ہوگئے۔

یہ نقل مکانی ہرچرن کے لیے بہت سود مند ثابت نہ ہوئی۔ اس نے محسوس کیا کہ اس کے لیے دونوں جگہیں کمیاں ہیں۔ البتہ راجندر شکلا کی پانچوں انگلیاں گھی میں چلی گئیں۔ دہلی پہنچ کر اس نے خود کو اور زیادہ مضبوط کیا۔ اس کے کئی رشتہ دار پہلے ہی سے اس شہر میں مختلف دھندوں سے لگے تھے اور خوشحال تھے۔ ہرچرن نے حالات سے فوری سمجھوتہ کیا اور شکلا کو اپنا شریک تجارت بنالیا۔یہی نہیں بلکہ دونوں نے دوکان کے بجائے گیریج کھول لیا۔

دراصل گیریج کھولنے کا یہ ارادہ دونوں کا احمد آباد ہی میں تھا جہاں رمضان علی خان کی شاندار گیریج صرف ہرچرن کی دوکان ہی کو نہیں کئی اور دکانوں کو بھی فیڈ (Feed) کررہی تھی۔ہرچرن اور شکلا نے پہلے تو احمد آبادمیں اس بات کی بھر کوشش کی کہ کسی نہ کسی طرح رمضان علی خان کو زک کرکے گیریج کا بھٹہ بٹھادیں اور تب دونوں مل کر اپنا گیریج کھول لیں۔ جب ان کی یہ سازش کامیاب نہ ہوسکی تو پھر دونوں نے رمضان علی خاں سے بھر پور دوستی کرلی۔

اس دوستی نے رمضان علی خاں سے کیا قیمت وصول کی یہ تو کچھ رمضان علی کا دل ہی جانتا ہے۔ بہر حال یہ دوستی خوب خوب پروان چڑھی۔ احمد آباد کے حالات پر ہرچرن سنگھ اور راجندر شکلا کے ساتھ رمضان علی خاں بھی بیٹھ کر خون کے آنسو بہایا کرتا تھا۔ تینو ںکی آنکھوں سے رواں ہونے والے آنسوؤں کا رنگ ایک تھا لیکن غموں کی نوعیت جدا جدا تھی۔ ہرچرن سوچتا تھا کہ حالات ناگفتہ بہ ضرور ہیں لیکن ہوا کا رخ میرے خلاف نہیں۔ رمضان علی یہ دیکھتا تھا کہ طوفان کی زد میں صرف اسی کا نشیمن ہے اور طوفان کی شدت ہر روز بڑھتی جارہی ہے۔ اور شکلا ان کا دل رکھنے کے لیے ان دونوں کا ساتھ دیا کرتا تھا۔

ہرچرن اور شکلا کے دہلی چلے آنے کے بعد رمضان علی خود کو اور بھی تنہا محسوس کرنے لگا تھا۔ اس لیے کچھ ہی دنوں کے بعد اس نے بھی دہلی آمد ورفت شروع کردی اور بہت جلد دونوں دوستوں کی رائے سے اتفاق کرلیا کہ دہلی بہرحال دارالسلطنت ہے۔ یہاں غنڈہ گردی پنپ نہیں سکتی اور کبھی سراٹھائے گی بھی تو آہنی ہاتھوں سے کچل دی جائے گی۔

اس مشورہ کے کچھ ہی دن بعد رمضان علی خان اینڈ سنز موٹر گیریج کا سائن بورڈ دہلی میں ’’ہرچرن شکلا موٹر گیریج‘‘ کے سامنے سڑک کے پار آویزاں ہوگیا۔ زندگی معمول کے مطابق چلنے لگی۔ تینوں کی دوستی بھی قائم رہی۔ البتہ ہر چرن شکلا گیریج نے اپنے وجود کی برقراری کے لیے رمضان علی اینڈ سنز کو ہمیشہ ایک چیلنج سمجھا اور اسی حیثیت سے اسے قبول بھی کیا۔ یہاں تک کہ وہ دن بھی آگیا جب احمد آباد کی اس تنظیم کے کارکنوں نے اپنی لاٹھی کے ساتھ ہندوستان کے مرکز کا رخ کیا اور دہلی بھی شہر اماں سے شہر خرابی میں تبدیل ہونے لگی۔ رمضان علی نے اپنی تقدیر کے ستارہ کو ایک بار پھر گردش میں دیکھا۔ تاروں کی گردش تیز سے تیز تر ہوتی گئی اور جہانِ دہلی دگرگوں ہوتا چلا گیا۔ پھر وہ منحوس دن بھی آگیا کہ جب رمضان علی نے اپنی دو جوان بیٹیوں کو ہرچرن شکلا کے یہاں اس کے گھر کو دارالامان سمجھ کر بھیج دیا اور خود اپنی بیوی اور بیٹوں کے ساتھ کیمپ میں منتقل ہوگیا۔

پورے ایک ہفتہ بعد جب حالات مکمل طور پر پُرسکون ہوئے اور رمضان علی کو کیمپ سے باہر نکلنے کا موقع ملا تو بیک وقت دو دل دوز خبروں نے اس کا استقبال کیا۔ ایک یہ کہ اس کا پورا گیریج لٹ گیا اور دوسری یہ کہ اس کی دونوں بیٹیوں نے ہرچرن کے گھر میں ہی خود کشی کرلی۔

سبب —؟ کس کی مجال تھی کہ جاکر ہرچرن سے پوچھے؟ اب تو ہرچرن اور راجندر شکلا کی موٹر گیریج بھی نہایت شاندار ہوچکی تھی۔ مال و اسباب کا انبار تھا۔ نئی نئی مشینوں کا اضافہ ہوچکا تھا اور بورڈ کی لمبائی چوڑائی کئی گنا بڑھ گئی تھی۔ رمضان علی نے اچھی طرح محسوس کیا کہ ’’رمضان علی اینڈ سنز‘‘ کے بورڈ نے اپنا وجود کھوکر ’’ہرچرن شکلا‘‘ کے بورڈ کو وسعت عطا کردی ہے۔

رمضان علی اس کرفیو سے پہلے تک خدا ترسی کا زبانی دعویدار تھا لیکن اس شدید حادثہ نے اسے مکمل طور پر خدا کے حضور خود سپردگی پر مجبور کردیا۔

رمضان علی کو یاد آیا کہ اس کے ابا جان اس سے ہمیشہ کہا کرتے تھے: دیکھو بیٹا! خدا زمانے کو انسانوں کے درمیان ہمیشہ پلٹتا رہتا ہے۔ اس دنیا کا عروج اور زوال ہمیشہ عارضی رہا ہے۔ اس لیے نہ اس کی ترقی پاکر مغرور بنو اور نہ اس کے زوال سے دل برداشتگی اختیار کرو۔ بلکہ ہر حال میں شکر وسپاس کا طریقہ اختیار کرو کہ اسی سے صبر و توکل تمہیں نصیب ہوگا اور یہی صبر و توکل سب سے بڑی دولت ہے۔

رمضان علی اس زمانہ میں جب اس کے گھر میں خوشیوں کا ڈیرہ تھا اپنے والد کی ان باتوں پر اتنی توجہ نہیں دیتا تھا، البتہ یہ باتیں وہ سنتا ضرور تھا۔ اور اتنی دیر کے لیے وہ سنجیدہ بھی بنا رہتا تھا۔ اس کا ایک خوشگوار اثر اس کے کردار پر اس طرح نظر آتا تھا کہ وہ کبھی بدنیتی اور گمراہی کی طرف مائل نہیں ہوا۔ ہفتے میں کم از کم ایک دن وہ ضرور پورے اہتمام سے مسجد جایا کرتا تھا۔ اپنے دونوں بیٹوں کو بھی ساتھ لے جایا کرتا تھا اور دونوں بیٹیوں کو بھی اس کی تاکید کیا کرتا تھا۔

یہی وجہ ہے کہ آج اتنے سنگین حادثے سے دوچار ہونے کے بعد وہ صبر کا سہارا لے سکا، اس وقت جبکہ اس کی لاکھوں روپئے کی گیریج اس کے دوست کی دوکان میں سما جاگئی اور اسے چشمِ زدن میں مفلسی کے غار میں دھکیل دیاگیا۔ جن دوستوں پر اس نے سب سے زیادہ اعتماد کرکے اپنی دو جوان بیٹیوں کو ان کی عصمت کے تحفظ کی خاطر ان کے گھر میں پہنچادیا تھا اور جہاں پہنچ کر اس کی دونوں بیٹیوں نے موت کو گلے لگالیا تھا۔

رمضان علی خاں چونکہ خود بھی موٹر مکینک تھا اور یہ کام اس نے کچھ کچھ اپنے دونو ںبیٹوں کو بھی سکھا رکھا تھا اس لیے اس نے اپنی زندگی نئے انداز سے پھر شروع کردی۔ ایک مسلم محلہ میں ایک چھوٹا کرایے کا مکان لے لیا اور تینوں باپ بیٹوں نے مل کر ایک گیریج میں ملازمت کرلی۔ البتہ یہ ضرور ہوا کہ اب اس نے نہ صرف یہ کہ اپنے والد کی ہدایت پر عمل کرنا شروع کردیا بلکہ اس نے اپنے بیٹوں کو بھی اپنے تجربات کی روشنی میں نئی زندگی اختیار کرنے پر آمادہ کرلیا۔ اب وہ ہر وقت خدا اور اس کے رسول کی ہدایت کو پیش نظر رکھنے لگا اور انہی خطوط پر اپنے پورے معاشرہ کو منظم و مستحکم کرنے کی کوشش میں مصروف ہوگیا۔ یہاں تک کہ پورے دس برس گزر گئے ان دس برسوں میں رمضان علی کو جب اپنی بیٹیوں کی یاد آتی تو وہ ہر چرن شکلا کے گھر تک چلا جاتا۔ جہاں اس کی بیٹیاں رمضان علی سے بڑے تپاک سے ملتیں اور رمضو چچا، رمضو چچا کی رٹ لگادیتیں۔ ہرچرن سنگھ اور راجندر شکلا بھی اگر کبھی مل جاتا تو تکلفا کچھ دم دلاسہ کی بات کرلیتا۔ حالانکہ اب اسے رمضان کے کسی دم دلاسے کی ضرورت نہیں تھی کہ ہر وقت اس کے لبوں پر اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ کے الفاظ رہتے۔

پورے دس برس بعد رمضان علی نے ایک پار پھر دہلی کی سڑکوں پر فوجی گاڑیوں کی بھاگ دوڑ دیکھی۔ بار بار گولیوں کی گڑگڑاہٹ اور بموں کے دھماکوں کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرانے لگی اور بار بار کرفیو کا اعلان ہونے لگا۔ لیکن اس بار زمانہ نے دوسری کروٹ بدلی تھی۔ اس بار بندوق کی گولیوں کا نشانہ رمضان علی کا گھر نہیں تھا بلکہ ہرچرن سنگھ اور راجندر شکلا کے لوگ ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے اور دونوں ایک دوسرے کو نشانہ بنارہے تھے۔ رمضان علی کو اپنے والد کی نصیحت یاد آرہی تھی۔ بیٹا خدا انسانوں کے درمیان زمانہ کو پلٹتا رہتا ہے۔ دس سال پہلے رمضان علی کی دوکان اور اس کی بیٹیوں کی زندگی داؤ پر لگی تھی اور دس سال بعدہر چرن شکلا کھلے طور پر ہرچرن بڑار اور راجندر شکلا نظر آرہا تھا۔

کسی سنگھ نے کسی بڑے شکلا کو گولی ماردی تھی۔ پورا شہر ایک ہفتہ سے کرفیو کی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ ریڈیو لگاتار حالات قابو میں ہیں کا اعلان کررہا تھا۔ پھر بھی ہر طرف سے اکا دکا قتل کی خبریں آرہی تھیں۔ لیکن ایسے وقت میں بھی ہرچرن شکلا اینڈ کمپنی کے مالکان ہرچرن سنگھ اور راجندر شکلا ایک دوسرے کے دوست بنے ہوئے تھے۔ ایک ہی بڑے مکان میں اپنے اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ رہ رہے تھے۔ دونوں کی ایک ایک بیٹی تھی، دونوں جوان ہوچکی تھیں۔ دونوں کے ہاتھ پیلے کرنے کی فکر اب ان کے والدین کو دامنگیر تھی۔ ہرچرن سنگھ اور شکلا دونوں بیٹھ کر بڑے بڑے منصوبے بنایا کرتے تھے۔ کرفیو جاری تھا اور آج کرفیوں کا ساتواں دن تھا۔ ہرچرن اور شکلا حسب معمول اپنے ڈرائنگ روم میں بیٹھے شغل ناؤ نوش میں لگے تھے اور دونوں میں گرما گرم بحث ہورہی تھی۔

یہ بحث ان کا روز کا معمول تھی۔ کبھی کبھار جب بحث میں گرما گرمی بڑھ جاتی تھی تو دونوں کی بیویاں اور بیٹیاں آکر بیچ بچاؤ کرادیا کرتی تھیں۔ لیکن یہ بیچ بچاؤ بھی کبھی کبھی عجیب تیور رکھتا تھا۔ جب یہ دونوں کچھ زیادہ چڑھا لیا کرتے تھے تو پھر اپنی بیویوں کو دیکھ کر ان کا نشہ اور چڑھ جاتاتھا۔ اور وہ دونوں اپنا اپنا نشہ اپنی اپنی بیویوں پر اتارا کرتے تھے۔ جس کی وجہ سے بیٹیاں ایسے ہنگامہ کے موقع پر جانا ترک کرچکی تھیں اور بیویاں بھی فطری شرم و حیا کے سبب کترانے لگی تھیں۔

آج بھی دونوں بحث کررہے تھے۔ ملی جلی آوازیں کچھ اس طرح کی تھیں— ’’سارا قصور تمہارے فرقہ والوں کا ہے — نہیں تمہارے فرقے والوں کا ہے — نہیں تمہارے — نہیں تمہارے‘‘ نہیں تمہارے کی صدا بتدریج بلند ہوتی جارہی تھی، پورے گھر کے لوگ ان کی یہ رٹ سن رہے تھے کہ اچانک ایک زور دار چیخ ابھری — یہ چیخ بھیانک بھی تھی اور مختلف بھی۔ چیخ سن کر تمام عورتیں بھاگ کر ڈرائنگ روم تک پہنچیں تو ایک دلدوز منظر سامنے تھا۔ دونوں کا ہاتھ ایک دوسرے کے گلے پر تھا اور دونوں کی زبانیں باہر نکلی ہوئی تھیں۔ گردوپیش میں کئی بوتلیں گری پڑی تھیں۔ یہ منظر عورتوں کے لیے حوصلہ شکن تھا۔ چنانچہ سب کی سب چیخ چیخ کر رونے لگیں یہ سوچے بغیر کہ کرفیو نافذ ہے اور سڑک پر پولیس گشت کررہی ہے۔

اسی چیخ و پکار میں لگاتار دروازہ پیٹنے کی آواز آنے لگی۔ تب ان عورتوں کو دوسرا خوف سمایا، قبل اس کے کہ وہ سنبھل پاتیں دروازہ توڑ کر پولیس کے لوگ اندر داخل ہوچکے تھے اور یہ سارا تماشا ان کی نگاہوں کے سامنے تھا۔

آہستہ آہستہ پولیس کا ہجوم بڑھنے لگا۔ مختلف گاڑیاں دروازہ پر جمع ہونے لگیں۔ لاش اٹھائی گئی۔ کمرے کی اور اس کے گردوپیش کی تصویریں لی گئیں اور گھر کے سارے لوگوں کو لاشوں کے ساتھ پولیس والے پولیس اسٹیشن لے آئے۔ گھر میں تالا لگ گیا۔ پولیس اسٹیشن تک آنے والوں میں ہرچرن سنگھ اور راجندر شکلا کی بیویاں، دو جوان بیٹیاں اور دو کم عمر بیٹے شامل تھے۔ رات بارہ بجے پولیس کی جیپ نے دونوں بیویوں اور کم عمر لڑکوں کو ان کے گھر پہنچادیا اور لڑکیوں کو روک لیا کہ ان سے ’’تفصیلی بیان‘‘ لینا باقی تھا۔

رات کے بارہ بجے سے صبح چار بجے تک تقریباً ایک درجن لوگوں نے دونوں جوان لڑکیوں سے جو بیان لیا وہ ناقابلِ بیان ہے۔ صبح کے چار بجے دونوں کو چھوڑ دیا گیا اس ہدایت کے ساتھ کہ اب وہ سیدھی اپنے گھر چلی جائیں۔ اگر کوئی دوسری بات کہیں کہی گئی تو پھر آج ایک درجن مردوں نے ’’بیان‘‘ لیا ہے کل ان کی تعداد کئی درجن ہوسکتی ہے۔

یوں پولیس اسٹیشن سے باہر نکل کر دونوں لڑکیاں چکرا کر بیٹھ گئیں اور انہیں وہ چیخ یاد آئی جو آج سے دس برس پہلے انھوں نے اپنے گھر میں رمضو چچا کی بیٹیوں کی سنی تھی۔ صبح ہونے سے پہلے جب ان کے درندہ صفت باپوں نے ان عفت مآب بیٹیوں کو آرام کرنے کے لیے چھوڑا تھا تو ان دونوں نے دنیا میں مزید کچھ لمحہ جینے کی مہلت چاہنے کے بجائے آرام گاہ کی جانب رخصت ہوجانا پسند کرلیا تھا۔

ان مرحوم بچیوں کی چیخیں آج ان دونوں لڑکیوں کے کانوں کے پردوں کو پھاڑ رہی تھیں اور دونوں پولیس اسٹیشن سے باپر سر پکڑ کر بیٹھی ہوئیں اپنے ریزہ ریزہ وجود کو دیکھ رہی تھیں کہ اچانک پولیس والا چیخا’’بھاگتی ہو یا نہیں؟‘‘ یہ ڈانٹ سن کر رات کی خوفناکی کا تصور ان کے دماغ میں پھر ابھر آیا اور دونوں نے اکھڑے اکھڑے قدموں سے گھر کی راہ لی۔ لیکن چوراہے پر پہنچ کر انہیں یاد آیا کہ اس سڑک پر جہاں ان کا گھر ہے کرفیو نافذ ہے۔ پولیس کی گاڑیاں وہاں اب بھی دندنا رہی ہوں گی۔ دوسرے ہی لمحہ دونوں کے قدم اس جانب اٹھ گئے جہاں رمضو چچا کا گھر تھا۔

صبح کی اذان ہوچکی تھی۔ سفیدی آہستہ آہستہ سیاہی کو شکست دے کر اپنا تسلط فضاؤں پر قائم کررہی تھی کہ رمضان علی کے دروازہ پر ہلکی ہلکی دستک ہوئی۔ رمضان علی اب اپنے بیٹوں کے ساتھ مسجد جانے ہی والے تھے کہ اس دستک نے ان کو متوجہ کیا۔ رمضان علی نے آکر دروازہ کھولا تو حیرت سے اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ہرچرن سنگھ اور راجند شکلا کی جوان بیٹیاں بہار کی نورس کلیاں اچانک خزاں رسیدگی کے عالم میں گل پژمردہ کی طرح دامن صد چاک لیے مبہوت کھڑی تھیں۔

رمضان علی نے کہا: آؤ بیٹیو! اندر آجاؤ!

بیٹیو کا لفظ سننا تھا کہ ان دونوں لڑکیوں کا کلیجہ پھٹ گیا۔ دونوں رمضان علی کے کلیجہ سے لپٹ کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگیں اور کہنے لگیں۔ ’’رمضو چچا آپ کی بیٹیاں غیرت والی تھیں کہ ہمارے درندہ صفت باپوں کی بے غیرتی کو چھپا کر دنیا سے چلی گئیں اور ہم لوگ اس غیرت سے محروم ہیں کہ سپاہیوں کی درندگی کا شکار ہونے کے بعد بھی آپ کے سامنے کھڑی ہیں۔ رمضو چچا! ہمارے باپوں نے جو حرکت آپ کی معصوم بچیوں کے ساتھ کی وہی حرکت آج ہمارے ساتھ ہمارے منحوس باپوں کی لاشوں کے سامنے پولیس والوں نے کی۔

’’رمضو چچا! اب ہم بھی اس دنیا میں زندہ نہیں رہنا چاہتیں۔ صرف اطلاع دینے آپ کے پاس آئی تھیں۔‘‘ اور یہ کہہ کر دونوں دروازہ کی طرف واپس ہونے لگیں۔

رمضان علی کی بیوی اور ان کے بیٹے یہ واقعات سن کر لرز اٹھے اور ان کی آنکھیں چھم چھم برسنے لگیں۔ رمضان علی نے بڑے عزم اور پورے اعتماد کے ساتھ کہا : ’’بیٹیو! دروازہ میں داخل ہونے سے پہلے ہی میں نے تمہیں بیٹی کہا ہے۔ اب ہماری بیٹیاں دوسری بار ہم سے کیسے جدا ہوسکتی ہیں؟ تم یہ سمجھو کہ اب میری عصمت جہاں اور عفت جہاں تم ہی ہو اور وہ لڑکیاں جو خود کشی کرگئیں وہ ہرچرن کی آشا اور راجندر کی ابھیلاشا تھیں۔‘‘

’’بیٹی! تمہارے دادا مجھ سے کہا کرتے تھے کہ خدا انسانوں کے درمیان زمانہ کو پلٹتا رہتا ہے۔ بیٹی! میں بھی تم سے یہی کہتا ہوں۔‘‘ اتنا کہہ کر رمضان علی نے ایک بارپھر ان دونوں لڑکیوں کو گلے سے لگا لیا۔ اور تب وہ بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔ صبح کی نماز کا وقت تو ختم ہوگیاتھا۔ لیکن رمضان علی کو لگا کہ نئی صبح کا نیا سورج طلوع ہوچکا ہے اور شاید اس روشنی میں سارے لوگوں کو یہ معلوم ہوجائے گا کہ زمانہ کبھی یکساں نہیں رہتا خدا اسے انسانوں کے درمیان ادل بدل کرتا رہتا ہے!!!

شیئر کیجیے
Default image
گردش ایام

Leave a Reply