5

بریکنگ نیوز

سارا راستہ وہ بوڑھا آدمی میری آنکھوں کے سامنے رہا جس کا گریبان چاک اور داڑھی نسوار سے لتھڑی ہوئی تھی۔ وہ بار بار مجھے پکار رہا تھا۔ ’’دیکھئے جناب … میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا … وہ کالے رنگ کی گاڑی تھی … سرکاری گاڑی تھی … میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا … گاڑی کے شیشے بھی کالے تھے … میں … نے…‘‘

پولیس والے اسے دھکے دے کر مجمع سے باہرنکالنے کی کوشش کررہے تھے مگر وہ ہماری طرف زور لگا رہا تھا۔ وہ اپنی گلوگیر آواز میں کہہ رہا تھا: ’’صبح سویرے … جب میں اپنی دکان کھولنے لگا تھا تو … اس وقت اس کالی گاڑی سے یہ لاش پھینک دی گئی … میں نے دیکھا … وہ سرکاری لوگ تھے ……‘‘

میں نے لوگوں سے یہ بھی سنا ’’یہ بوڑھا آدمی یہاں موچی ہے۔‘‘

میں اپنے صحافی دوست کے ساتھ گاڑی میں بیٹھا اپنے دفتر کی طرف جارہا تھا مگر اس دل خراش منظر نے میرے رونگٹے کھڑے کردیے تھے۔سمجھ میں نہیںآرہا تھا کہ کون سا غم اپنے ساتھ لے کر جارہا ہوں۔ ایک بیش بہا زندگی اور حسین جوانی کے لُٹ جانے کا غم یا اپنی ادھوری رپورٹ کا غم؟ جو جائے واردات تک جانے کے باوجود نامکمل تھی۔

وہ بوڑھا آدمی بار بار میری آنکھوں کے سامنے آجاتا تھا۔ لگتا تھا کہ اس کے پاس واقعہ کے بارے میں کافی معلومات ہیں جو میری رپورٹ کی تکمیل میں معاون ثابت ہوسکتی تھیں۔ میں نے بھر پور کوشش کی کہ اس کی تمام باتیں ریکارڈ کروں۔ لیکن پولیس نے آنکھ جھپکتے ہی اسے وہاں سے غائب کردیا۔ جب میں واپس لاش کے پاس آیاتو وہاں کئی دیگر صحافی بھی اپنے فوٹوں گرافروں کے ساتھ کھڑے تھے۔ معلوم ہوا کہ ہم اور پولیس بہ یک وقت جائے واردات پر پہنچے ہیں۔

لاش ایک جوان لڑکی کی تھی۔ پولیس نے چہرہ دیکھ کر کہا کہ لاش کی شناخت چہرے سے ممکن نہیں ہے۔ لاش پر پڑی ہوئی بوسیدہ چادر سے، جو اس موچی کی لگ رہی تھی، اس کے پاؤں باہر کو نکلے ہوئے تھے جس سے یہ اندازہ لگانا آسان تھا کہ لڑکی کا قد کافی اونچا ہے۔ اس کی برف جیسی سفید پنڈلیوں پر ضرب کے نشان دکھائی دے رہے تھے جن کے اوپر خون کے دھبے سوکھ گئے تھے۔ اس نے بلیورنگ کا کاؤ بوائے پتلون پہن رکھا تھا۔ پولیس کسی کو لاش کا چہرہ دیکھنے کی اجازت نہیں دے رہی تھی۔ نہ کسی کو لاش کے نزدیک جانے دے رہی تھی۔ پولیس والے مسلسل ایمبولینس کو طلب کررہے تھے۔ اسی وقت پولیس کا ایک اعلیٰ افسر وہاں پہنچ گیا۔ تمام صحافیوں نے اس کی طرف دوڑ لگادی۔ اس نے صحافیوں کو اپنی طرف دوڑ لگاتے ہوئے دیکھ کر اپنے کوٹ پر ہاتھ پھیرا اور پوز کے انداز میں کھڑا ہوگیا تاکہ ٹی وی پر تصویر خوبصورت آئے۔ اس کے ساتھ ہی وہ بول پڑا۔ ’’پلیز مجھے زیادہ تنگ نہ کیجیے … پہلے ہمیں اپنی تحقیقات پوری کرنے دیجیے… فی الحال ہمارے پاس بھی زیادہ معلومات نہیں …‘‘

’’یہ جوان لاش پڑی ہے اس کے بارے میں آپ کی معلومات کیا ہیں؟‘‘ کسی نے اس کی وضاحت کے باوجود پوچھ ہی لیا۔

’’مجھے جلدی جلدی بتاؤ‘‘

’’یہ وہی لڑکی ہے جو دو دن پہلے یونیورسٹی سے لاپتہ ہوگئی تھی۔‘‘

’’اسے قتل کس نے کیا ہے؟‘‘

’’پولیس افسر کہہ رہا ہے کہ اس کے خیال میں ڈاکوؤں کے ایک گروپ نے سرکاری گاڑی سے فائدہ اٹھا کر اسے اغوا اور پھر قتل کیا ہے۔‘‘

’’قاتل تو پھر بھی معلوم نہیں ہوسکے؟‘‘

’’انہیں تو ایک سال کی تحقیقات کے بعد بھی کوئی معلوم نہیں کرسکے گا۔‘‘

’’اف… تو میں رپورٹ میں کیا کہوں؟‘‘

’’رپورٹس میں روزانہ ہم کیا کہتے ہیں؟ تم نے کبھی یہ بھی سنا ہے کہ قاتل پکڑے گئے ہیں؟‘‘

’’تو اب میں کیا کروں؟‘‘

’’بس ایک رپورٹ تیار کرو۔ اس میں پولیس کا حوالہ دے کر کہو کہ ڈاکوؤں کے ایک گروپ نے سرکاری گاڑی استعمال کرکے لڑکی کو اغوا اور پھر قتل کردیا ہے۔ تحقیقات جاری ہیں۔‘‘

’’ویسے مجھے یہ تو بتاؤ کے پوسٹ مارٹم کا نتیجہ کیا ہے کہ اسے کیوں قتل کیا گیا ہے؟‘‘

’’پوسٹ مارٹم کا نتیجہ یہ ہے کہ قتل کی گئی لڑکی کے ساتھ دو دن مسلسل اجتماعی زیادتی کی گئی ہے اور گزشتہ آدھی رات کو اسے اذیتیں دے دے کر قتل کردیا گیا ہے۔‘‘

’’بس بس … شکریہ‘‘

موبائیل فون بند کرکے دیکھا تو چیف میرے پاس ہی کھڑا تھا۔ اس نے فوراً پوچھا: ’’صبح والے کیس کا کیا بنا؟‘‘

’’وہ … دو دن پہلے ایک لڑکی کو یونیورسٹی سے اغوا کیا گیا اور گزشتہ رات اسے قتل کردیا گیا ہے۔‘‘

’’نہیں … نہیں، صبح تم کو شہر کے جنوبی علاقے میں بھیجا تھا ایک کیس کی رپورٹ کے لیے۔ اس کا کیا بنا؟‘‘

’’سر!… وہی بتا رہا ہوں۔ وہاں اس لڑکی کی لاش پھینک دی گئی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اغوا کاروں نے سرکاری گاڑی سے فائدہ اٹھا کر اسے اغوا اور اجتماعی زیادتی کے بعد قتل کیا ہے۔‘‘

’’اوہ… یہ تو اتنا اہم واقعہ نہیں جس پر رپورٹ تیار کی جاسکے… کوئی دوسرا موضوع ڈھونڈ لیتے ہیں …‘‘

میں نے دل ہی دل میں اسے کئی گالیاں دیں’’اہم کیوں نہیں سر! میں نے لاش اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے۔ پولیس رپورٹ ہے۔ عینی شاہد ہے۔ پوسٹ مارٹم ہے۔ لڑکی کے رشتہ داروں سے بات کی ہے…‘‘

’’پاگل مت بنو… وہی کرو جو کہتا ہوں … ایسے واقعات تو روزانہ سیکڑوں ہوتے ہیں۔ ہم ریڈیو کے لیے ہر چھوٹے چھوٹے واقعے پر تو رپورٹ نہیں بناسکتے۔ ان واقعات کی خبری اہمیت کوئی نہیں…‘‘

’’او کے سر! تو پھر کیا کروں؟‘‘

’’کوئی نئی خبر آئی تو اس پر کام کرو۔‘‘ یہ کہہ کر وہ دفتر سے نکلنے لگا۔ مگر دروازے سے واپس میری طرف آکر کہا:

’’ہاں … ایک کام ہوسکتا ہے۔‘‘

مجھے اب اس پر بہت غصہ آرہا تھا اس لیے ’’سر‘‘ کے لفظ کے استعمال کے بغیر ہی کہا: ’’کیا ہوسکتا ہے؟‘‘

’’اگر تم کل بھی اس پر کام کرو اور شہر میں گزشتہ ایک ہفتے میں ایسے واقعات پر ایک تفصیلی رپورٹ تیار کرو تو بات بن جائے گی۔‘‘

’’کوشش کرلوں گا۔‘‘ میں نے بے دلی سے کہا۔

’’اب کہیں نہیں جانا۔ کوئی دوسرا مسئلہ پیدا ہو تو اسے فالو کرو۔ میں ایک کام سے چند منٹ کے لیے باہر جارہاہوں … کوئی بات ہو تو فون کرلو۔‘‘ اس کے نکل جانے کے بعد میں نے اپنا غصہ میز پر بکھری ہوئی ان یادداشتوں کو پھاڑ ڈالنے پر نکالا جو میں نے اس رپورٹ کے سلسلے میں لکھی تھیں۔

’’عجیب بات ہے۔ … کہتا ہے اس کی خبری اہمیت نہیں ہے … ایک چنار قد دوشیزہ جو یونیورسٹی کی طالبہ ہے دن دہاڑے اغوا ہوئی ہے۔ اس پر تشدد ہوا ہے۔ وہ مسلسل دو دن اجتماعی زیادتی کا شکار ہوئی ہے۔ اغوا کاروں نے اس واردات میں سرکاری گاڑی استعمال کی ہے۔ یہ تو Breaking Newsہے۔ وہ کہتا ہے اس کی خبری اہمیت نہیں ہے … خبری اہمیت پھر کس چیز کی ہے؟؟؟‘‘ ایک ایک لمحہ گزرنے کے ساتھ میرا غصہ سر کو چڑھ رہا تھا۔

اچانک میرا خیال اس طرف گیا جس طرف عموماً ایسے حالات میں جاتا ہے۔ یعنی میں انٹرنیٹ پر جاب سرچ میں لگ گیا۔ جب بھی کام سے بور ہوجاتا ہوں تو انٹرنیٹ پر جاب کرتا ہوں کہ شاید کوئی موزوں جاب مل جائے۔ اگرچہ مجھے کبھی بھی انٹرنیٹ جاب سرچ سے کوئی جاب ملی نہیں ہے۔

میں تھوڑی دیر اسی کام میں مگن تھا کہ فون کی گھنٹی بج اٹھی۔ ریسیور اٹھایا تو دوسری طرف چیف کی آواز تھی۔

’’جی سر!‘‘

’’سنو ایک ارجنٹ خبر ہے۔‘‘

’’اچھا سر!‘‘

’’اپنا ای میل چیک کرو۔ صدر صاحب کے دفتر سے ایک پریس ریلیز جاری ہوئی ہے۔ وہ تم کو ای میل کردی گئی ہے۔‘‘

’’پریس ریلیز کس بارے میں ہے سر!‘‘

’’دو وزیروں کو ہٹادیا گیا ہے۔‘‘

’’دو وزیر…؟‘‘

’’ہاں … ہاں … جلدی کرو… اس سے ایک مختصر رپورٹ لکھ کر بریکنگ نیوز کے طور پر Liveسناؤ۔‘‘

’’او کے سر!‘‘ میں نے فوراً ای میل چیک کیا۔ پریس ریلیز پڑھی تو لگا کہ بات اہم ہے۔ دو وزیروں کو ہٹا دیا گیا تھا اور ان کی جگہ نئی تقرریاں بھی کردی گئی تھیں۔ فوراً ایک مختصر رپورٹ تیار کی اور اسٹوڈیو جاکر انتہائی تیزی کے ساتھ Liveنشر کی تاکہ ہم سے کوئی آگے نہ ہوجائے۔ جب رپورٹ نشر ہوچکی اور میں واپس اپنے کمرے کے دروازے پر پہنچ گیا تو فون کی گھنٹی انتہائی بے صبری کے ساتھ بج رہی تھی۔ دوڑ کر ریسیور اٹھایا تو دوسری طرف سے چیف اپنی موٹی آواز میں دھاڑ رہا تھا: ’’یہ تم نے ریڈیو پر کیا بکواس کی؟‘‘

’’سر ررر!…… و…ہی… پریس ریلیز…‘‘

’’وزیروں کو کرپشن کی وجہ سے ہٹادیا گیا ہے۔ … انھوں نے کوئی قتل نہیں کیا ہے۔‘‘

’’نہیں سر! میں نے تو قتل کی کوئی بات نہیں کی… میں نے کرپشن کا …‘‘

’’تم نے قتل کہا … اور … دوسری جو بکواس تم نے کی اس کی کیا ضرورت تھی؟‘‘

’’میں سمجھا نہیں سر!… میں نے تو وہی کہا جو پریس ریلیز میں تھا۔‘‘

’’ابھی آتا ہوں میں … وہیں تمہیں سمجھادوں گا۔‘‘ اور فون بند ہوگیا۔

میں نے ایک بار پھر صدر صاحب کے دفتر سے ای میل کیا گیا پریس ریلیز غور سے پڑھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ دو وزیروں کو کرپشن کی وجہ سے ہٹادیا گیا ہے۔ پھر کمپیوٹر میں اپنی ٹائپ کی ہوئی خبر پڑھنے لگا تو مجھے لگا جیسے مجھ پر پاگل پن کا دورہ پڑا ہے۔ میں نے لکھا تھا: ’’صدر مملکت نے آج ایک صدارتی فرمان کے ذریعے دو وزیروں کو قتل کے الزام کی وجہ سے اپنے عہدوں سے برطرف کردیا ہے۔ جناب صدر نے یہ اقدام ایسے وقت میں اٹھایا ہے کہ آج صبح سویرے شہر کے جنوب میں ایک بیس سالہ طالبہ کی لاش پڑی ہوئی ملی جسے دو دن پہلے یونیورسٹی سے گھر جاتے ہوئے سرکاری گاڑی میں اغوا کیا گیا تھا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس کے ساتھ دو دن مسلسل اجتماعی زیادتی کی گئی ہے اور پھر اسے اذیتیں دے کر مارا گیا ہے۔‘‘

میں نے چیف کے آنے تک یہ خبر کئی دفعہ پڑھی مگر یہ بات پھر بھی سمجھ میں نہیں آئی کہ یہ میں نے کیسے لکھ دیا۔ بے شک یہ اس ریڈیو میں میری آخری خبر تھی۔

شیئر کیجیے
Default image
اجمل اند/ ترجمہ: عبدالہادی

تبصرہ کیجیے