تزکِ ایّام

پروفیسر عبداللہ کی باتوں کا موضوع زمانہ تھا۔

وہ ایک ترنگ میں آکر زمانے کا شیوہ، زمانے کے مزاج، زمانے کی چال، زمانے کی تبدیلی، زمانے کے بگاڑ، زمانے کے دباؤ اور زمانے کے اثرات پر بولے جارہے تھے ان کے سامعین ان کے طالب علم تھے، جن کی تعداد اس وقت گیارہ بارہ کے قریب تھی اور ان میں فرسٹ ایئر سے لے کر فورتھ ایئر تک کے طالب علم شریک تھے۔

اس روز کچھ بات ہی ایسی بنی تھی کہ انھیں طلباء کے ایک مطالبے کے تحت بولنا پڑا تھا اور بولنے کے لیے موضوع کاانتخاب انھوں نے خود کیا تھا۔ اس روز ہوا یہ تھا کہ صبح صبح ہی موسلا دھار بارش شروع ہوگئی اور اس موسلا دھار بارش میں لوگوں کے لیے گھروں سے نکلنا محال ہوگیا تھا،چند لوگ ہی گھروں سے باہر نکل پائے تھے۔ اسی لیے کالج میں بھی بہت ہی کم لڑکے آئے تھے وہ بھی ایسے لڑکے تھے جن کے گھروں اور کالج میں فاصلہ برائے نام ہی تھا اور قریباً یہی حال اساتذہ کا بھی تھا۔

پروفیسر عبداللہ نے تمام لڑکوں کو ایک کمرے میں جمع کرلیا تھا اور لڑکوں نے جمع ہوکر ان سے یہ گزارش کی تھی

’’سر ہم آپ کو چائے پلاتے ہیں اور آپ ہمیں کوئی کہانی سنائیں۔‘‘

معلوم نہیں کہ عبداللہ ان کا یہ مطالبہ تسلیم کرتے یا نہیں لیکن لڑکوں کے اصرار اور مسلسل اصرار پر انھوں نے ان کے ساتھ چائے پینے اور کہانی کہنے سنانے کا مطالبہ تسلیم کرلیا۔

پروفیسر عبداللہ خود کوئی ادیب یا شاعر نہیں تھے، وہ تو ریاضیات کے استاد تھے۔ تاہم کثرتِ مطالعہ نے ان کے اندر ایک ادبی ذوق کو بھی پروان چڑھایا تھا۔ مثنوی مولانا روم سے تو گویا انہیں عشق تھا۔ پھر جب انھوں نے کچھ کہنا شروع کیا تو سننے والے، ریاضیات کے استاد کی زبان سے مثنوی کی حکایات سن رہے تھے، اور خلافِ توقع بور بھی نہیں ہورہے تھے بلکہ بڑے شوق اور دھیان سے سن رہے تھے، اس شوق اور دھیان کا ایک اثر یہ تھا کہ خود عبداللہ پر ایک جوش کی کیفیت طاری ہوگئی تھی۔

وہ ایک حکایت سناتے، اس کی تشریح کرتے، پھر اس کے بارے میں بچوں سے سوال کرتے۔ اور ان کے جوابات سنتے، اور جوابات سن کر کسی کو شاباش دیتے، کسی کے مبہم جواب کو درست کرتے، کسی کے جواب کو مسترد کرتے اور اس کا درست جواب خود فراہم کرتے، کسی کو سوچنے کے لیے کہتے اور کسی کو پڑھنے کی ترغیب دیتے۔ عبداللہ حکایات سنا رہے تھے اور حکایات کی تفہیم اور تنقید کے اصول ذہن نشین کررہے تھے اور خوش تھے اور خوش اس لیے تھے کہ نہ تو ان کا وقت ضائع ہورہا تھا اور نہ ہی لڑکوں کا وقت بے مصرف جارہا تھا۔

پھر کچھ اساتذہ بھی ان کے کمرے میں آکر بیٹھ گئے۔

پھر انہیں سیدنا امیر معاویہؓ کا ایک واقعہ یا دآیا۔

ایک بار سیدنا امیر معاویہؓ نے احنف بن قیس سے پوچھا:

’’زمانے کا کیا حال ہے؟‘‘

احنف بن قیس نے جواب دیا: ’’اگر آپ ٹھیک ہیں تو زمانہ ٹھیک ہے ، اگر آپ ٹھیک نہیں تو زمانہ بھی خراب ہوجائے گا۔‘‘

اس سے قبل وہ بچوں کو کوئی درجن بھر حکایات و روایات سنا چکے تھے اور جب یہ حکایت سنائی تو انھوں نے محسوس کیا کہ خود ان کے اندر ایک شور بپا ہوگیا ہے اس شور کو سنتے ہوئے انھوں نے بچوں سے سوال کیا۔

’’آج کل زمانے کا کیا حال ہے؟‘‘

’’سر، زمانے کا حال بہت برا ہے۔‘‘

’’کیسے برا ہے، کیا برائی ہے؟‘‘

’’معلوم نہیں، سر! لیکن لوگ یہی کہتے ہیں کہ زمانہ بہت برا ہے۔‘‘

’’تو کیا تمہارے خیال میں لوگ ٹھیک کہتے ہیں؟‘‘

’’معلوم نہیں، سر! لیکن ہر ایک یہی کہتا ہے کہ زمانہ بہت خراب ہے۔‘‘

’’کیا حکومتیں خراب ہیں جو زمانہ خراب ہے۔‘‘

’’سر! شاید یہی بات ہو۔‘‘

’’اگر حکومتیں ٹھیک ہوجائیں تو کیا زمانہ بھی ٹھیک ہوجائے گا۔‘‘

’’ہوسکتا ہے اور ہونا بھی چاہیے۔‘‘

’’اچھا دیکھو اس زمانے میں ہمارے پاس کیا کچھ نہیں ہے، بجلی ہے، برقی روشنیاں ہیں کارخانے ہیں، چھاپہ خانے ہیں، ریڈیو ہے، ٹیلی ویژن ہے، وی سی آر ہے، کمپیوٹر ہے، موٹر ہے، موٹر سائیکل ہے، گھڑیاں ہیں، ہوائی جہاز ہے، سمندری جہاز ہے، ہیلی کاپٹر ہے، ٹریکٹر ہے، تھریشر ہے، ٹائپ رائٹر ہے، واکی ٹاکی ہے، ٹیلی فون ہے،الیکٹرانکس ہیں، آبدوزیں ہیں، نت نئی ایجادات کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ ہے، بڑے بڑے ڈیم ہیں، ریل گاڑیاں ہیں، آلات و اوزار کا کوئی شمار نہیں ہے، پٹرول کے ذخائر ہیں، معدنیات کے ذخائر ہیں، کولر ہے، ہیٹر ہے، ریفریجرٹر ہے، کرین ہیں، جدید ترین ادویات ہیں، ایسی چیزوں نے ہمیں بے حد آرام دیا ہے، بے شمار آلام ختم کردیے ہیں، کئی مشکلات خواب و خیال کردی ہیں، کئی آسانیاں فراہم کردی ہیں تو اب بتاؤ کہ زمانہ اچھا ہے یا برا ۔‘‘

’’سر! یہ ساری چیزیں تو اچھی ہیں لیکن پھر بھی ہر وقت یہی سنتے ہیں کہ زمانہ خراب ہے۔‘‘

عبداللہ کو اندازہ تھا کہ لڑکے اس سے زیادہ کچھ نہیں بتائیں گے ابھی وہ طالب علم تھے کوئی ڈاکٹر اقبال اور مولانا مودودی تو نہیں تھے کہ ایسے سوال کا کوئی مسکت جواب دیتے جو کسی ذہن کو سیراب کردیتا کسی ایسے جواب کی تو خود انہیں ضرورت تھی اور ایسا جواب لڑکوں کی جانب سے ان پر قرض تھا اور واجب الادا قرض تھا، پھر عبداللہ کچھ دیر توکچھ سوچتے رہے اس کے بعد لڑکوں سے پوچھا:

’’دیکھو زمانہ تو ہمیشہ بدلتا رہتا ہے اگر وہ نہ بدلے تو پھر وہ زمانہ نہیں ہوتا۔ کہتے ہیں کہ ایک صدی بھر میں زمانہ اتنا بدل جاتا ہے کہ اس کے ددنوں سروں میں ایک نمایاں فرق ہوجاتا ہے۔ مثلاً دیکھو کہ اس صدی کے شروع میں مشہور تھا کہ سلطنتِ برطانیہ میں سورج کہیں غروب نہیں ہوتا لیکن اب ایسا غروب ہوا ہے کہ طلوع ہونے کا نام نہیں لیتا۔ اچھا تو اب یہ بتاؤ کہ سو برس پہلے کا زمانہ کیسا تھا؟‘‘

’’سر! اس وقت تک تو ہم پیدا بھی نہیں ہوئے تھے اس لیے کیا بتائیں۔‘‘

’’تو کیا تاریخ بھی نہیں پڑھی، تاریخ میں گذشتہ زمانوں کے احوال مل جاتے ہیں۔‘‘

’’نہیں وہ زمانہ بھی اچھا نہیں تھا ہم پر انگریزوں کی حکومت قائم ہوگئی تھی اور دیگر مسلمان ملکوں پر بھی مغربی تہذیب کی یلغار شروع ہوگئی تھی۔ غلامی کا زمانہ کبھی اچھا زمانہ نہیں ہوتا لہٰذا وہ زمانہ بھی اچھا نہیں برا تھا۔‘‘

’’سر تو پھر کیا اس سے سو برس پہلے کا زمانہ اچھا تھا؟‘‘ ایک اور طالب علم نے سوال کردیا۔

’’نہیں وہ بھی ایک خراب زمانہ تھا، انتشار اور طوائف الملوکی کا زمانہ تھا۔‘‘

’’تو کیا اس سے سو برس قبل کا زمانہ اچھا زمانہ تھا؟‘‘

’’نہیں، وہ بھی کوئی اچھا زمانہ نہیں تھا پھر بھی آج کے زمانے سے بہتر تھا۔‘‘

’’اور اس سے پہلے جو برس کا زمانہ تھا کیا وہ اچھا نہیں تھا؟‘‘

’’آج کے زمانے سے تو اچھا ہی تھا۔‘‘

پھر اس کے بعد یوں ہوا کہ لڑکوں کے پاس یہی ایک سوال تھا کہ اس سے قبل سو برس کا زمانہ کیسا تھا اور پروفیسر عبداللہ اس کا یہی جواب دیتے کے وہ زمانہ آج کے زمانے سے اچھا اور بہتر ہی تھا لیکن اس کے ساتھ وہ بتاتے وقت یہ بھی گزارش کردیتے کہ فلاں زمانہ اکبر کے دینِ الٰہی کے کارن برا ہوا تھا اور فلاں زمانے کو چنگیز خانیوں کی غارت گریوں نے خراب کردیا تھا، فلاں زمانہ بت پرستی نے اور فلاں زمانہ شاہان عرب و عجم کی نفس پرستیوں اور عاقبت نا اندیشی نے خراب کیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی اشارے کردیتے کہ کس زمانے کو اس کے کس براہیم نے ٹھیک کردیا تھا۔

سوال و جواب کا یہ سلسلہ چل رہا تھا اور باہر بارش بھی چھما چھم ہورہی تھی۔

یہ ہورہا تھا کہ ایک لڑکے کی زبان سے یہ سن کر کہ اس سے سو برس پہلے کا زمانہ کیسا تھا پروفیسر پہلے تو کچھ چونکے، پھر گھبرائے پھر تھرائے پھر توسکتے میں آگئے اور اس کے جواب کے لیے انھوں نے انگلیوں پر کچھ حساب کیا اور جواب میں ان کا لہجہ بدل گیا، احساسات بدل گئے، طرزِ بیان بدل گیا، الفاظ اور جملے بدل گئے اور ایک سرشاری اور اندرونی سرشاری کے ساتھ رواں دواں انداز میں کہنا شروع کیا۔

’’ہائے کیا زمانہ تھا کہ لوگ اس وقت جہنم سے ایسے دامن بچا کر چلتے تھے جیسے آج لوگ جنت سے پہلو بچا کر چلتے ہیں، وہ خیرو القرون تھا۔ اس وقت ذرات کی ترتیب اور آئینہ خانے بدل گئے تھے۔ کیا زمانہ تھا کہ گذشتہ اور آئندہ زمانوں کی شناخت ہی اس نے تبدیل کردی تھی۔‘‘

لوگ کیا بدلے تھے کہ زندگی، بندگی ہوگئی تھی انسان، دنیا اور زمانہ اب کوئی نہ تھا جو سنسنان اور بیابان راستوں پر کسی ضعیفہ کا سونا چھین کر چمپت ہوجائے کوئی نہیں تھاجو کسریٰ کے کنگن بیچ کھائے۔

کیا زمانہ تھا کہ شب بیداری بھی عبادت تھی اور کاشتکاری بھی، حب ہمسائیگی بھی عبادت تھی اور عیادت بھی، مزدوری بھی عبادت تھی اور مساکین پروری بھی، مسجد بھی عبادت گاہ تھی اور میدانِ جنگ بھی، چادر بھی عبادت تھی اور چار دیواری میں قیام بھی، شجر کاری بھی عبادت تھی اور نفس کشی بھی عبادت تھی۔ تقلید بھی عبادت تھی اور اجتہاد بھی، مشورہ بھی عبادت تھی اور جھکتا ہوا تولنا بھی۔ بت شکنی بھی عبادت تھی اور جابر سلطان کے رو برو حق گوئی بھی، شمشیر زنی بھی عبادت تھی اور شمشیر سازی بھی، علم بھی عبادت تھا اور تفکر بھی۔ ذکر بھی عبادت تھا اور فکر بھی۔ قرض دینا بھی عبادت تھا اور قرض کی ادائیگی بھی۔

ابھی پروفیسر عبداللہ کا بیان پُرجوش جاری تھا کہ ایک اور پروفیسر پرویز نے اٹھ کر کہا:

’’عبداللہ تمہاری باتیں تمہارے پریس رپورٹروں کی سمجھ میں بھی آرہی ہیں یا تم مست ہوکر اپنا شہد کیچڑ میں گھول رہے ہو۔‘‘

پروفیسر سلیم نے کہا:

’’عبداللہ تمہارا ڈکشن جو بلاشبہ بہت خوبصورت اور اچھوتا ہے، اور ذہن کشا بھی ہے وہ ان بچوں کے لیے نہیں، یقین نہیں آتا تو ان سے پوچھ لو۔ اگر تمہیں پوچھنے میں کوئی عار ہے تو میں ہی پوچھے دیتا ہوں۔ (لڑکوں سے مخاطب ہوکر) کیوں بھائی لطیف کاشمیری! تمہیں اور تمہارے دوستوں کو سر عبداللہ کی باتیں سمجھ آرہی ہیں یا نہیں۔‘‘

’’سر! سمجھ تو کم آرہی ہیں، لیکن مزہ بہت آرہا ہے۔‘‘

’’لو، بھئی عبداللہ تم تو تل گئے ہو۔‘‘ پروفیسر سلیم احمد نے عبداللہ سے مخاطب ہوکر کہا۔

تب اس گھڑی تلے ہوئے عبداللہ نے تلملا کر کہا:

’’سلیم احمد! آپ نے یہ کیسے فرض کرلیا ہے کہ یہ باتیں بچوں کے لیے ہیں۔‘‘

’’تو پھر کیا جنّوں اور بھوتوں کے لیے ہیں؟‘‘

’’نہیں یہ تو بھوتوں کو بھگانے کے لیے ہیں۔‘‘

’’تو پھر کیا وہ بھاگ گئے ہیں۔‘‘

’’نہیں، بلکہ انھوں نے بولنا شروع کردیا ہے۔‘‘

’’اچھا، خوب! گویا ہم جن بھوت اور خنّاس ہیں۔‘‘

’’جی ہاں! مجھے تو اس میں کوئی شک نہیں ہے۔‘‘

’’لیکن آپ نے یہ کیسے فرض کرلیا ہے کہ ہم خنّاس ہیں۔‘‘

’’آپ بچوں کو ایسی باتیں جو نہیں بتاتے اور دوسرے یہ کہ آپ نے یہ فرض کرلیا ہے کہ یہ باتیں محض بچوں کے لیے ہیں، تیسرے یہ کہ جب آپ کے یہاں آنے سے قبل میں بچوں سے باتیں کررہا تھا تو میرا ڈکشن کچھ اور تھا اور جب آپ لوگ تشریف لائے تو پھر میں نے تھوڑی دیر بعد اپنا ڈکشن تبدیل کردیا، یہ ٹھیک ہے یا نہیں؟‘‘

’’یہ بات تو ٹھیک ہے۔‘‘

’’لیکن اس کے ٹھیک ہونے کی وجہ کیا ہے؟‘‘

’’معلوم نہیں۔‘‘

’’لیکن نامعلوم کو معلوم ہونا چاہیے۔‘‘

’’ہاں، ہونا تو چاہیے۔‘‘

’’اچھا تو سنو کہ تم لوگوں کے آنے کے بعد میرے مخاطب تم لوگ تھے بچے نہیں تھے۔‘‘

’’ہم لوگ کیوں مخاطب تھے؟‘‘

’’یہ سوچنا میرا نہیں تمہارا کام ہے۔‘‘

شیئر کیجیے
Default image
اعجاز احمد فاروقی

Leave a Reply