معاشرہ، نکاح اور تقریبات

میں اکثر سوچا کرتا ہوں کہ ہماری قوم کا زیادہ بڑا مسئلہ سیاسی ہے یا معاشرتی؟ ہم سیاسی لحاظ سے پسماندگی کا شکار ہیں۔ معاشرتی لحاظ سے دیکھئے تو حالات بد سے بد تر ہوتے جارہے ہیں۔ اپنی اقدار ہم گم کرچکے ہیں اور غیروں کی نقالی میں اپنی چال بھی بھول گئے ہیں۔ ہماری سوسائٹی آدھا تیتر اور آدھا بٹیر ہوکر ایک مضحکہ خیز صورت اختیار کرچکی ہے۔ اپنے لباس اور کلچر پر ہمیں شرمندگی ہوتی ہے اور ہم خود کو بیک ورڈ ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔ اپنی تہذیب کو ہم خیر باد کہتے جارہے ہیں اور غیروں کی تہذیب سے بھی محض لچرپن لے کر ہم ترقی کی منازل طے کرنا چاہتے ہیں۔ احترامِ آدمیت اور مخلوق سے محبت کے جذبات سرد ہوتے چلے جارہے ہیں اور اس کی جگہ اپنے خول میں مست رہنے کا جدید نظریہ فروغ پاتا جارہا ہے۔ تعلیم کے نام پر علم و ادب رخصت ہوتا چلا جارہا ہے۔ اور معرفتِ الٰہی کا تو گویا اب کوئی تعلق ہی تعلیم و تربیت سے باقی نہیں رہا اور یہ اب محض ازکار رفتہ ہے جس پر بات کرنا گویا کہ وقت کا زیاں ہے۔ چنانچہ تقویٰ، پرہیز گاری اور خدا خوفی کا تو اب شمار ہی معاشرتی اقدار میں نہیں ہوتا۔ پہلے لوگ کسی شخص کی خوبیاں بیان کرتے تھے تو کہتے تھے کہ فلاں شخص بڑا متقی، پابندِ شرع اور نیک آدمی ہے۔ اب یہی بات لوگوں کو کچھ پسند نہیں آتی اور وہ اپنے منہ سے کہہ تو نہیں پاتے ورنہ ان کے انداز سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ جیسے وہ کہنا چاہ رہے ہوں ’’ان باتو ںمیں اب کیا دھرا ہے۔‘‘ اب تو اگر کسی شخص کی خوبیاں بیان کرنی ہوں تو کہیے کہ فلاں شخص بڑا پیسے والا ہے، کاروبار پھیلا ہوا ہے یا یہ کہ خاندان بہت بڑا ہے اور بڑے مرتبے کا مالک ہے۔ یہ پیسے، مرتبے اور جاہ و حشمت والی تہذیب ہماری نہیں تھی۔ ہماری تہذیب کا اصول تو حجۃ الوداع کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے طے کیا تھا کہ ’’کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر، کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پر کوئی فضیلت نہیں بجز تقویٰ کے۔‘‘ لہٰذا برسوں تک اسلامی معاشروں میں فضیلت کا معیار تقویٰ ہی رہا۔ لیکن اب صورت حال کیا ہے؟ ناگفتہ بہ!

فضیلت کے اس معیار کو ترک کرنے کا نتیجہ ہے کہ ہم ’’اخلاق‘‘ کے ایسے سنگین بحران کا شکار ہوگئے ہیں جس نے ہماری قومی زندگی کے ہر شعبے کو تہس نہس کردیا ہے۔ ہماری معاشرت میں احترام نہیں، سیاست میں خدمت نہیں، حکومت میں رحم نہیں، عدالت میں عدل نہیں، معیشت میں مساوات نہیں اور تعلیم میں تربیت نہیں۔ کیا خوبی ہے جو ہم میں باقی رہ گئی ہے! غیر ملکی کلچر کی نقالی کے چکر میں ہم اپنی ایک ایک خوبی گنواتے چلے آرہے ہیں، لیکن ہمارے ہاتھ ذلت کے سوا کچھ نہیں آرہا۔ اقبالؒ نے کہا تھا کہ:

اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب کو نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی

چنانچہ محض نقالی مسئلے کا حل نہیں۔ ہمیں اپنے دین ا ور اپنی تہذیب کے اجزائے ترکیبی کو مدنظر رکھتے ہوئے دورِ جدید میں اپنی ترقی کے اصول طے کرنا ہوں گے۔ جہاں ہر نقشِ کہن کو مٹا دینا ہی ترقی اور روشن خیالی کی علامت قرار پایا ہے، اور جدید تہذیب کے بدبودارگندے انڈوں پر بھی خوشبو چھڑک چھڑک کر شاندار پیک میں بڑے تزک و احتشام کے ساتھ عوام کے ہاتھوں بیچا جارہا ہے اور ہمارے سادہ لوح عوام خوشی خوشی انہیں خرید رہے ہیں، اس بدبودار تہذیب کی ہنڈیا کو چوراہے پر پھوڑنے کا عزم مصمم کرنا ہوگا تاکہ لوگ اس کے اندر کلبلاتے کیڑوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کرسکیں۔

بات ذرا دور نکل گئی ہم معاشرے میں فضیلت کے معیار کی بات کررہے تھے۔ آج کل شادیوں کا موسم ہے۔ اور شادیاں ہمارے سماج میں کیا صورت اختیار کرگئی ہیں اس سے آپ واقف ہیں۔ شادی کی تقریبات پر کس طرح شان و شوکت کے اظہار میں بے دریغ دولت صرف کی جاتی ہے اس کا بھی آپ نے مشاہدہ لازماً کیا ہوگا۔

بہر حال ہمارے نزدیک شادی کی ہر قسم کی تقریبات ہی پر ایک طرح کی سماجی اور پھر قانونی پابندی لگادینی چاہیے اور مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے نکاح کی تقریب کو مسجد میں منعقد کیا کریں اور ولیمہ کی تقریب کے لیے ون ڈش کی سادگی کو ملحوظ رکھیں۔ اس طرح لڑکی والے اضافی بوجھ سے آزاد بھی رہیں گے اور سنتِ رسول ﷺ کا تقاضا بھی پورا ہوجائے گا۔ نیز خوش خوراکوں کو بھی تسلی رہے گی۔

نکاح کی تقریب کا مسجد میں انعقاد ہمارا مذہبی شعار رہا ہے۔ نجانے کیوں یہ روایت کمزور پڑگئی ہے۔ شاید یہ بھی ’’کھانوں‘‘ کا نتیجہ ہے۔ کیونکہ لڑکی والوں کو کھانا دینا ہوتا ہے اس لیے وہ سہولت کی خاطر شادی ہال میں ہی نکاح کے بعد لڑکے والوں کو ’’کھانا دے دیتے ہیں۔‘‘ اگرشادی کی ایسی تقریب پر پابندی لگادی جائے تو نکاح کے انعقاد کی مسجد والی روایت خود بخود مضبوط ہوسکتی ہے۔ یہ کوئی رجعت پسندانہ بات نہیں، مغربی معاشروں میں بھی نکاح کی تقریب چرچ میں منعقد کی جاتی ہے اور پھر محض ایک ریسپشن دیا جاتا ہے جس میں مہانوں کی تواضع کا انتظام ہوتا ہے اللہ اللہ خیر صلاَّ۔ لہٰذا ہمارے ہاں بھی نکاح کی تقریب کا مسجد میں انعقاد اور بعد ازاں صرف ایک ولیمہ ریسپشن ’’جدید تقاضوں کے عین مطابق ہوگا۔‘‘

نکاح کے موقع پر جو خطبہ دیا جاتا ہے اسے اگر ہم سن اور سمجھ لیں تو وہی ہمارے معاشرے کی اوور ہالنگ کے لیے کافی ہوجائے۔ اس خطبہ میں بار بار تقویٰ کو اختیار کرنے، معاملات کو درست رکھنے اور سیدھی اور سچی بات کہنے کی تاکید کی گئی ہے۔ بدقسمی سے یہ ساری چیزیں ہمارے معاشرے سے مفقود ہوچلی ہیں۔ جن لوگوں کو یہ باتیں سنائی جارہی ہوتی ہیں وہ رسماً انہیں سنتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ گویا یہ صرف برکت کے لیے پڑھی جارہی ہیں یا یہ صرف دلہا دلہن کے لیے ہیں۔ اگر ہم ان پر عمل کریں تو واقعتا ان کی برکت پورے معاشرے میں پھیل جائے۔

معاشرے میں جب ایک نیا رشتہ قائم کیا جاتا ہے تو یہ گویا ایک نئی نسل کی بنیاد ہوتا ہے۔ یہ ایک نئے معاشرے کی اکائی بنتاہے جس سے بعد ازاں معاشرے کے پھلنے پھولنے کی امید ہوتی ہے۔ اس قدر سنجیدہ عمل اور اتنی بڑی ذمہ داری کو نئے جوڑے سمیت پورا معاشرہ ہنسی ٹھٹّے میں اڑا دیتا ہے۔ تقویٰ، معاملات کی درستی اور سیدھی سچی بات کی اہمیت اس وقت واضح ہوتی ہے جب یہ رشتے پیچیدگی اختیار کرتے ہیں۔ دیکھا یہ گیا ہے کہ ایسے موقع پرلوگ رائے اور مشورہ دیتے ہوئے یا معاملے میں اپنا کردار ادا کرتے وقت فریقین سے اپنی رشتہ داری یا معاشی و معاشرتی مرتبے کا لحاظ کرتے ہیں اور ان رہنما اصولوں کو بھول جاتے ہیں جس کا ذکر انھوں نے اس نئے رشتے کا گواہ بنتے وقت نکاح کے خطبے کی صورت میں سنا تھا۔ نتیجتاً خدا خوفی کی بنیاد پر معاملات درست ہوپاتے ہیں نہ سیدھی اور سچی بات کی اہمیت واضح ہوپاتی ہے اور لوگوں کی زندگیاں جہنم بن جاتی ہیں۔

میں سوچتا ہوں یہ تو معاشرے کا اپنا بویا ہوا پھل ہے جو وہ کاٹتا ہے۔ ہم غلط معاملہ کرتے ہیںاور اس کی سزا بھگتتے ہیں۔ اسے کون سی سیاسی و شرعی حکومت درست کرے گی؟ کون سا حسبہ یا شریعت بل ان معاملات کو درست کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔اسے تو بہر حال خود ہمیں ہی درست کرنا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر طارق فرمان

Leave a Reply