کچھ گوشت کے بارے میں!

گوشت اور اس کی اقسام

گوشت ہماری غذا کا اہم عنصر ہے۔ لیکن اس کا زیادہ اور غیر متوازن استعمال انسانی صحت پر برے اثرات مرتب کرتا ہے۔ قابل حکیموں کا کہنا ہے کہ بالغ مرد و عورت کے لیے آدھا پاؤ گوشت کافی ہے۔ اس سے زیادہ گوشت مسلسل کھاتے رہنے سے صحت کے مسائل پیدا ہونے کا امکان ہے۔ آئیے اس سلسلہ کی اہم معلومات حاصل کریں۔

گوشت اور ان کی خصوصیات

اونٹ کا گوشت نمکین اور سخت ہوتا ہے۔ دیر سے ہضم ہوتا ہے۔ بٹیر کا گوشت لاغر اور کمزور لوگوں کے لیے مفید ہے۔ معدہ کو قوت دیتا ہے۔ بکری کا گوشت زود ہضم ہے۔ چھوٹی بکری کا گوشت مریضوں کے لیے بہتر ہے۔ بھینس کا گوشت گرم خشک ہوتا ہے۔ دیر سے ہضم ہوتا ہے۔ بچھڑے کا گوشت بہتر ہے۔ بھیڑ کا گوشت چکنا ہوتا ہے۔ بدن کو موٹا کرتا ہے۔ گاڑھا خون پیدا کرتا ہے۔ تیتر کا گوشت معدے کو طاقت دیتا ہے۔ دماغ کے لیے بہتر ہے۔ جلدی ہضم ہوتا ہے۔ چڑیا کا گوشت بھی بدن کو موٹا کرتا ہے۔ بلغمی امراض میں مفید ہے۔ خرگوش کا گوشت خون گاڑھا کرتا ہے۔ کالی کھانسی، فالج، لقوہ میں اچھا ہے۔ دنبہ کا گوشت ذرا دیر سے ہضم ہوتا ہے مگر جسم کو قوت دیتا ہے۔

گائے کا گوشت دیر سے ہضم ہوتا ہے۔ مسوڑھوں میں ورم پیدا کرتا ہے۔ زیادہ کھانے سے خراب خون بنتا ہے اور امراض پیدا ہوتے ہیں۔ اس کے دودھ میں شفا ہے۔ کبوتر کا گوشت گرم ہے فالج لقوہ میں استعمال کرتے ہیں۔ مرغی کا گوشت خون پیدا کرتا ہے۔ چوزے کا گوشت معدے کی سوزش میں مفید ہے۔ مرغی کا شوربہ زیادہ مفید ہے۔ ہرن کا گوشت کھانے سے خشکی ہوتی ہے۔ سرد بیماریوں میں مفید ہے اس کے کباب لذیذ ہوتے ہیں۔

گوشت پکانے کے لیے

ہمیشہ تازہ گوشت لیں اور صاف کرکے دھوکر پیکٹ بناکر فریج میں رکھیں گوشت فریج میں سے نکال کر دوگھنٹہ پہلے باہر رکھیں۔ تاکہ اس کی بوٹیاں علیحدہ ہوجائیں۔ پھر اسے پکائیں ورنہ گوشت سخت ہوجائے گا۔

گوشت گلانے کے لیے

۱- خربوزے کے چھلکے سکھا کر پیس کر محفوظ رکھیں، دو تین چٹکی سفوف گوشت میں ڈالنے سے جلدی گل جاتا ہے۔

۲- پان میں کھانے والا چونا ڈھکن پر لگا کر اوپر وزن رکھیں۔

۳- کچا پپیتا چھلکے سمیت سکھالیں۔ اس کا سفوف ڈالیں۔

۴- پکانے سے پہلے اگر تھوڑی سی کچری پیس کر گوشت پر لگادیں اور ایک دو گھنٹے بعد پکائیں تو گوشت جلدی گل جائے گا اور چانپوں پر لگانے سے خستہ پن آجاتا ہے۔

۵- چھالیہ کے موٹے دو چار ٹکڑے کاٹ کر سالن میں ڈال دیں۔

۶- گوشت ہلکی آنچ پر گلائیں۔ اس کا مزہ کچھ اورہی ہوگا اور جلدی گل جائے گا۔

۷- فریج میں سے گوشت کا پیکٹ نکال کر کسی پیالے میں رکھ دیں۔ اب اس گوشت کو دھونے کی ضرورت نہیں۔ دھونے سے غذائیت بھی ضائع ہوگی اور گوشت بھی نہیں گلے گا۔

گوشت خراب ہونے سے کیسے بچائیں

٭ گوشت میں نمک ڈال کر آدھی پیالی پانی ڈال کر جوش دے لیں۔ چوبیس گھنٹے کے بعد پھر ایک بار گرم کرلیں۔ اس طرح تین چار دن بقرعید کے موقع پر گوشت بغیر فریج کے رہ سکتا ہے۔

٭ گوشت کے ٹکڑے کرکے نمک اور سرکہ لگائیں۔ چھری یا کانٹے سے گہرا کٹ لگائیں۔ پھر ہلکا سا تیل لگا کر رکھیں۔ اس سے گوشت پر جو پپڑی سی جم جاتی ہے وہ نہیں جمے گی۔

٭ پہاڑی علاقے میں گوشت کے پارچے پہاڑیوں پر سکھا کر محفوظ کرتے ہیں۔ ان پر نمک ضرور لگاتے ہیں۔ سوکھا ہوا یہ گوشت لذیذ ہوتا ہے۔

مرغی کا گوشت

مرغی ہمیشہ چھوٹی عمر کی لیں۔ وہ بہت جلدی گل جاتی ہے۔ بڑی عمر کی مرغی کاگوشت سخت ہوتا ہے۔ ذائقہ نہیں ہوتا۔ بڑی مرغیوں کے ٹکڑے اگر سفیدسرکہ اجینو موٹو اور نمک کے ساتھ بھگوکر رکھے جائیں تو فرائی کرتے کرتے گل جاتے ہیں۔ ویسے بھی مرغی کو مسالہ لگا کر رکھیں اور آدھے گھنٹے بعد تلیں بہت لذیذ بنے گی۔

مچھلی کی بو دور کرنے کے لیے

۱- مچھلی کو بغیر دھوئے نمک لگا کر دو گھنٹے کے لیے رکھ دیں۔ پھر آٹے سے دھوکر مسالہ لگائیں۔ اس طرح بو ختم ہوجاتی ہے۔

۲- بیسن اور نمک ہاتھ سے ملیں اور مچھلی کے ٹکڑوں پر خوب ملیں۔ پانی سے اچھی طرح دھولیں۔ مچھلی کی بو ختم ہوجائے گی۔

۳- آٹے اور نمک سے مچھلی کو دھوکر پسا ہوا لہسن لگا کر رکھ دیں۔

۴- مچھلی پر نمک اور سرکہ لگادیں۔ دس منٹ بعد بیسن سے دھوئیں۔

۵- مچھلی دھوکر چھاچھ میں ڈال دیں اور پھر نکال کر کسی بھاری پتھر یا سل کے نیچے دبادیں۔ مچھلی کی بو ختم ہوجائے گی۔

۶- مچھلی تلتے وقت گھی میں تھوڑی سی اجوائن ڈال دیں۔ اجوائن کی خوشبو مچھلی کی بو کو ختم کردے گی۔ ویسے بھی اجوائن سے تلی ہوئی مچھلی کا ذائقہ اچھا ہوتا ہے۔ چٹکی بھر اجوائن مچھلی کے مسالہ میں شامل کردیں۔

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

Leave a Reply