سیلنگ!

یہ سارے شہر میں ہنگامہ کیسا ہے؟

کیا نادر شاہ یا بُش

بستیاں برباد کرتا

شہروں کو تاراج کرتا

دلّی آپہنچا؟

کہ ہر سو خوف ہے،دہشت سی چھائی ہے

جدھر بھی دیکھئے آفت سے آئی ہے

یہ سیلنگ کرتے دستے رحم کے جذبات سے عاری

جہاں جاتے ہیں دکھ کا کرب کا منظر سجاتے ہیں

بھرے بازاروں کو ویراں بناتے ہیں

سمجھنے سے ہیں سب قاصر ستم کا کیا مداوا ہو

کہاں جائیں یہ فریادی کہ اظہارِ تمنا ہو

کوئی حاکم کوئی منصف نہیں جو کام آجائے!

الٰہی کیا کیا جائے!

بہت ہے مرحلہ مشکل!

کوئی بھی فیصلہ مشکل!

سمجھ میں کچھ نہیں آتا

کہ اس اقدام کا انجام کیا ہوگا!

کیا مدّت میں ہوئی آباد دلّی پھر سے اجڑے گی؟

یہ دلّی پھر سے اجڑے گی؟

شیئر کیجیے
Default image
انتظار نعیمؔ

Leave a Reply