3

جہیز نہیں دلہن

ہمارے معاشرے میں جہیز کو ایک اہم رسم بنادیا گیا ہے۔ ہر امیر باپ اپنی بیٹی کو جہیز کے نام پر زیادہ سے زیادہ سامان دیتا ہے تاکہ اس کی شان ظاہر ہو۔ اس کا نام ہو۔ لوگ دیکھیں تو واہ واہ کریں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دوسرے امراء بھی اس کا جواب دیتے ہیں۔ وہ اس سے بھی زیادہ اور بڑھ چڑھ کر جہیز دینے میں اپنی شناخت بناتے ہیں۔ پھر وہ ایسی چیزیں دیتے ہیں جن سے گھر کی آرائش و زیبائش ہو اور ان کا بھی سماج میں بول بالا ہو۔ لیکن غریب کی بیٹی کا تو اللہ ہی ہے۔ اس کا باپ جب جہیز کے بارے میں سوچتا ہے تو وہ بے چارہ قرضوں کے تلے دب جاتا ہے۔ وہ سود پر پیسہ لیتا ہے اور اپنے داماد کا گھر اور منھ دونوں بھرتا ہے۔ اس جہیز سے سود جیسی لعنت کا بھی کاروبار بڑھ رہا ہے۔ اور وہ مسلم سماج جو معاشی اعتبار سے پہلے ہی سے پسماندہ ہے مزید پسماندگی کی طرف بڑھ ہا ہے۔اس طرح آپس میں محبت، رشتوں میں مٹھاس اور گرم جوشی ختم ہورہی ہے۔ رشتوں ناطوں کا اعتبار اٹھ رہا ہے اور شادی کے ذریعہ دو خاندانوں کے ملن کی جو کیفیت ہے اس میں تعلقات کی گرم جوشی کے بجائے محض رسمی تعلق رہ جاتا ہے۔ بیٹی والے،داماد اور بیٹی کی سسرال والوں کے دباؤ میں بھی رہتے ہیں اور بیٹی کے مستقبل کو لے کر خوف زدہ اور فکر مند بھی۔

ہمارے مذہب میں جہیز کی کوئی دلیل نہیں ملتی۔ خود رسول اللہ ﷺ نے جتنی بھی شادیاں کیں ان سے یہ کہیں نہیں معلوم ہوتا کہ آپ کو کسی شادی میں کوئی چیز جہیز کے نام پر دی گئی ہو۔ خود شہنشاہ کونین نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہؓ کو جو چیزیں دیں وہ بان کی چارپائی، چمڑے کا گدا جس کے اندر روئی کے بجائے کھجور کے پتے تھے، ایک چھاگل، ایک مشکیزہ، دو عدد چکیاں اور دو مٹی کے گھڑے وہ بھی اس لیے اور انہی کی رقم سے خریدوا کر دیے گئے حضرت علیؓ پانچ برس کی عمر سے ہی رسول اللہ ﷺ کے گھر میں پرورش پارہے تھے۔ لیکن آج معاشرے میں دولہا اور اس کے ماں باپ ایک فرمائشی چٹھی لے کر آجاتے ہیں جو ایک لمبی فہرست ہوتی ہے۔ جس میں وہ تمام چیزیں لکھی ہوتی ہیں جن سے ان کے گھر بھی بھر جائیں۔ دلہن سے انھیں کوئی سروکار نہیں اگر کسی چیز کی کمی ہوجائے تو وہ اس معصوم لڑکی کو زندگی بھر طعنے دیتے ہیں جس کا نتیجہ آپ سماج میں دیکھ رہے ہیں جو دین اسلام کے بالکل منافی ہے۔ اس صورت میں یا تو لڑکا اسے طلاق دے دیتا ہے یا پھر لڑکی خود سوزی کرلیتی ہے۔ سماج کا یہ بگاڑ تو اس وقت دور ہوسکتا ہے جب لڑکی والے ایسے مانگنے والوں سے کنارہ کشی کرلیں یا پھر اس دور کے نوجوان یہ قدم اٹھائیں کہ ہم جہیز کو لعنت سمجھتے ہیں۔ شادی ہمارے رسول محمدﷺ کی سنت ہے۔ جہیز کی یہ رسم نہ تو قبل اسلام عربوں میں رائج تھی اور نہ اسلام آنے کے بعد حضورﷺ نے اس کو جاری کیا۔ چنانچہ ہم بھی اسے لعنت سمجھتے ہیں۔ ہمیں کسی قسم کا جہیز نہیں چاہیے۔ اس سے نہ صرف جہیز جیسی لعنت ختم ہوگی بلکہ تمام خرافات اور دوسرے بگاڑ بھی ختم ہوجائیں گے کیونکہ مسلم معاشرہ میں جہیز کی یہ رسم حضور کی سنت پر عمل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ پیدا کرتی ہے۔ ادھر لڑکے کے ماں باپ یہ دیکھتے ہیں کہ کہاں سے زیادہ سے زیادہ جہیز مل سکتا ہے تو ادھر غریب ماں باپ دولت کی کمی کے سبب یہ سوچتے ہیں کہ اتنا روپیہ کہاں سے لائیں؟ گویا یہ سنت نبویؐ پر عمل کرنے کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ہے جب تک اسے ختم کرنے کا بیڑہ نہ اٹھائیں گے یہ لعنت ہمارے معاشرے کو تباہ کرتی رہے گی۔

جہیز وہ زہر ہے جو سارے سماج میں پھیل رہا ہے اسے ختم کرنے کے دو ہی راستے ہیں۔ ایک لالچی لڑکے والوں کے ساتھ اپنی بیٹیوں کا رشتہ ہرگز نہ کریں۔ دوسرا راستہ نوجوانوں کو اپنانا ہے وہ یہ ہے کہ ہم جہیز نہیں لیں گے کیونکہ ان کے گھروں میں بھی بہنیں ہیں لہٰذا وہ طے کرلیں کہ ہم نہ تو جہیز لیں گے اور نہ دیں گے۔ اس وقت واقعی ہمارا معاشرہ، ہماراسماج بدل سکتا ہے تو آؤ ہم یہ عہد کریں کہ جہیز جیسی لعنت کو ختم کرکے سماج کو بدل ڈالیں گے۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر فیض احمد انصاری

تبصرہ کیجیے