2

شرک

شرک، اللہ کی ذات اور اس کی صفات میں کسی دوسرے کو شریک کرنا اور ساجھی یا حصہ دار ٹھہرانا ہے۔ خدا کے علاوہ کسی اور کے آگے سر کو جھکانا، کسی اور سے فریاد کرنا، کسی سے مدد مانگنا قرآن کریم میں اسے سب سے بڑا اور ناقابل معافی گناہ قرار دیا گیا ہے۔

مگر افسوس کی بات ہے کہ آج کے معاشرے میں لوگ شرک میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ اللہ کو چھوڑ کر دوسروں سے مرادیں مانگتے ہیں، مردوں کے آگے سجدہ کرتے اور پیڑپودوں کی پرستش کرتے ہیں۔ انسان اپنے اوپر اس سے بڑا ظلم اور اپنی اس سے بڑی ذلت و رسوائی اور کیا کرسکتا ہے کہ وہ مخلوق کے آگے سجدہ کرے جبکہ خالق کی ذات ہی اس قابل ہوسکتی ہے کہ اس کو سجدہ کیا جائے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اگر آسمان اور زمین میں اللہ کے علاوہ کوئی خدا ہوتا تو ان کا نظام بگڑ جاتا۔‘‘ (قرآن)

اور ایک جگہ فرماتا ہے کہ ’’کیا وہ نہیں دیکھتے جنھوں نے کفر کیا کہ آسمان اور زمین ایک روز ملے ہوئے تھے تو ہم نے انہیں پھاڑ کر الگ کردیا اور ہر چیز کو ہم نے پانی سے زندہ کیا تو وہ ایمان کیوں نہیں لاتے۔‘‘

اسی لیے شرک کو قرآن نے ’’سب سے بڑا ظلم‘‘ قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ ’’خدا کے یہاں ہر گناہ کی معافی ہے مگر شرک کی معافی ممکن نہیں۔‘‘

’’ابو الہیاج اسلامی سے روایت ہے کہتے ہیں کہ مجھ سے حضرت علیؓ نے کہا میں تمہیں اس کام پر بھیجتا ہوں جس کام پر مجھے رسول اللہ ﷺ نے بھیجا تھا کہ جہاں کوئی تصویر دیکھو اسے مٹادو اور جہاں کوئی اونچی قبر دیکھو اسے برابر کردو۔‘‘

آدمی خدا کو چھوڑ کر پتھر کی پوجا کرتا ہے، پیڑ پودوں کی پوجا کرتا ہے، مزاروں کے پاس جاکر منتیں مانگتا ہے، ہوا، پانی، چاند، سورج یہاں تک کہ کیڑوں مکوڑوں کو بھی پوجتا ہے۔ نہ جانے کتنی ہی مخلوقات کے سامنے سجدہ ریز ہوتا ہے۔ یہ ایک طرف اللہ کی حق تلفی ہے دوسری طرف خود انسان کی اپنی توہین ہے۔ تہواروں کے موقعوں اور مختلف انداز سے کسی کے بھی سامنے سجدہ کرنا دراصل خدا کے ساتھ ان کو شریک کرنا ہے۔ انسان عظیم اور اللہ کی بلند مرتبت مخلوق ہے اس کے شایان شان صرف یہ بات ہے کہ وہ اپنے خالق کے سامنے ہی سر جھکا ئے۔ اس کی بارگاہ کے علاوہ کسی اور کی چوکھٹ پر انسان اگر اپنی پیشانی جھکاتا ہے تو وہ انسانیت کی توہین کرتا ہے۔

وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے

ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

شیئر کیجیے
Default image
حسنیٰ سرور

تبصرہ کیجیے