نوجوان اور عورت مغرب کے نشانے پر

کسی قوم کا سرمایہ اس کے نوجوان ہوتے ہیں۔ نوجوانانِ قوم ہی اس قوم کی قوت وطاقت کی علامت ہوتے ہیں۔ آج کے نوجوان کل کے قائد، رہنما اور قوم کا مستقبل ہیں۔

عورت کا روپ ماں، بہن، بیوی، ہم سفر اور شریک حیات کا ہوتا ہے۔ عورت ہی ایک ایسی مربی کاروپ لیتی ہے جو اپنی اولاد کو اپنے آغوش میں لے لیتی ہے، اپنی مامتا اس پر لٹا دیتی ہے، اور اس کے لیے انتہائی شفیق و مہربان ہوتی ہے، یہ عورت ہی ایسی بیوی کا روپ لیتی ہے جو عزت و آبرو کی محافظ ہوتی ہے اور مامتا اور محبت لٹانے والی ماں ہوتی ہے۔ یہی عورت اپنی درس گاہ سے نوجوانوں کو تربیت دے کر کارگاہِ حیات میں عمل کے لیے تیار کرتی ہے۔

میرے بھائی! شاید آپ کو نوجوان اور عورت کی اہمیت کا اندازہ ہو گیا ہوگا۔نیز آپ کو یہ بھی اندازہ ہوگیا ہوگا کہ ہمارے معاشرے کے انھی دو بنیادی ارکان پر دشمنوں نے اپنی سازشوں کے تیر تان رکھے ہیں۔ اس امت کے دشمنوں نے یہ جان لیا ہے کہ ہماری اچھائیوں، ہماری قوتوں صلاحیتوں اور ہمارے فیصلوں پر قابض ہونے اور ہمارے ممالک پر حملہ آور ہونے کے لیے اس سے زیادہ کارگر ہتھیار کوئی نہیں ہے۔ انھوں نے اس مقام کو دریافت کرلیا ہے جہاں فیصلہ کن ضرب لگائی جاسکتی ہے۔ انھوں نے ہمارے حال کو تباہ کرنا چاہا تو اس کے لیے انھوں نے ہماری عورتوں کو نشانہ بنایا تاکہ عورت کو تباہ کرکے وہ ہمارے مضبوط ترین ادارے، خاندان کو تباہ و برباد کردیں۔ ہمارے مستقبل کو تباہ کرنا چاہا تو ہمارے نوجوانوں کو نشانہ بنایا کیونکہ نوجوان ہی ہمارا مستقبل ہیں۔

علمائے کرام نے بھی نوجوانوں کی اہمیت اور ان کی قدر کو جانا اور سمجھا ہے۔ چنانچہ امام شافعیؒ کا شعر ہے:

’’جو اپنی جوانی میں علم حاصل نہیں کرسکا، اس کی نماز جنازہ پڑھ لو کیونکہ وہ مردہ ہے۔‘‘

بعض لوگ اس غلط خیالی کا شکار رہتے ہیں کہ نوجوانوں میں ذمہ داریاں سنبھالنے کی استطاعت و قدرت نہیں ہوتی۔ یہ خیال ہی نوجوانی پر حاشیہ آرائی کانقطۂ آغاز ہے۔ اس کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ نوجوان ناتجربہ کارہوتے ہیں یا ان میں حکمت و دانائی اور بردباری نہیں ہوتی۔ حالانکہ بات اس کے بالکل برعکس ہے۔ چنانچہ ہمارے رسول کریمﷺ نے تجربہ کار، دانش مند بزرگوں کی موجودگی میں قیادت کی ذمہ داریاں نوجوانوں کو سونپی ہیں۔ مثال موجود ہے کہ عظیم صحابہ کرام کی موجودگی میں آپؐ نے فوج کی کمان حضرت اسامہ بن زیدؓ کے حوالے کی۔ کسی شاعر نے نوجوان کا دفاع ایک شعر میں اس طرح کیا ہے:

’’نوجوانی یا کم عمری بردباری کے لیے آڑ نہیں ہے۔ یہ وصف بوڑھوں اور جوانوں دونوں میں پایا جاتا ہے۔‘‘

ہمارا دشمن یہ بات جانتا ہے کہ ہمارے نوجوان ہی ہمارا مستقبل ہیں چنانچہ وہ نوجوانوں کو تباہ کرکے ہمارے مستقبل کو تباہ کردینا چاہتا ہے۔ وہ یہ بات بھی جان گیا ہے کہ جنسی خواہش انسان کی سب سے شدید اور باغی خواہش ہے خاص طور سے جب کہ مرحلہ نوجوانی کا ہو۔ چنانچہ ہمارے دشمن نے نوجوانوں کے خلاف سازشیں رچنے میں دن رات ایک کررکھے ہیں۔ ان کا ہدف خاص طور سے بڑھتی ہوئی عمر کے بچے ہیں کیونکہ انسانی زندگی کا یہ مشکل ترین اور نازک ترین مرحلہ ہوتا ہے۔ اسی مرحلے میں اسے زندگی کے تلخ و شیریں معاملات سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ اس کی زندگی کا یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جب میں اس پر جسمانی و نفسانی حقائق کا انکشاف ہوتا ہے۔

مغرب، جنس اور رذالت کے گڑھے میں سرتا پا ڈوب چکا ہے۔ مختلف جائزے اور تحقیقات یہ اشارہ کرتے ہیں کہ امریکی معاشرے میں ۹۵ فیصد نوجوان جنسی برائیوں میں ملوث ہیں۔ نشہ خوری، چوڑی ڈکیتی اور قتل و غارت گری جیسی اخلاقی برائیاں اس پر مستزاد ہیں۔

مغربی قوم کا ارادہ یہ ہے کہ وہ ہمیں بھی انہی برائیوں میں غرق کردے جس میں وہ خود غرق ہے۔ نیز ہماری جو تھوڑی بہت بنیاد باقی ہے، اسے بھی تہہ و بالا کردینا چاہتا ہے۔ ہماری نسل کے بہت سے فرزند اب مغرب کی اسی کشتی پر سوار بھی ہوچکے ہیں۔ اب اگر آپ اپنے نوجوانوں پر ہونے والی اس یورش سے محفوظ و مامون ہونا چاہتے ہیں تو ان مناظر پر نگاہ ڈالیں جو خاص طور پر ہمارے نوجوانوں کے لیے تیار کیے گئے ہیں اور جن مناظر میں عورت کو متاع رخیص بناکر پیش کیا گیا ہے۔

وہ بھی ہمارے ہی ابنائے امت ہیں جو خود بھی تضاد کا شکار ہیں۔ یعنی خود کے ساتھ تو کسی غیر عورت کی رفاقت کو درست سمجھتے ہیں لیکن اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ کوئی غیر مرد ان کی بیوی یا بیٹیوں کے ساتھ وقت گزارے۔ گویا وہ جس چیز کی دعوت لوگوں کو دے رہے ہیں خود اس پر عمل کرنے کی ان میں ہمت نہیں ہے۔

مجھے یاد آیا کہ ایک صاحب نے جو ’’آ زادی نسواں‘‘ کے حامی اور اس تعلق سے خواتین کے ’’نجات دہندہ‘‘ سمجھے جاتے تھے، اپنی کسی کتاب میں لکھا ہے کہ ’’کسی بھی شخص کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ کسی بھی عورت کے ساتھ جب اور جہاں چاہے چلا جائے۔‘‘ چنانچہ ایک روز رات کے وقت ایک عقل مند داعی ان کے گھر گیا۔ دروازہ کھٹکھٹایا، حضرت ’نجات دہندئہ نسواں‘ باہر تشریف لائے، دروازہ کھٹکھٹانے والے سے پوچھا ’’کیا بات ہے؟‘‘ اس نے جواب دیا’’آپ کی بیوی چاہیے۔‘‘ حضرت بولے ’’پاگل ہو کیا؟‘‘ اس نے کہا: ’’نہیں۔ کیا آپ وہی صاحب نہیں ہیں جنھوں نے اپنی کتاب میں ایسے ایسے لکھا ہے؟ یہ رہی آپ کی کتاب؟ ’’یہ سن کر وہ مغربیت زدہ حضرت ہکا بکا اور پریشان ہوگئے۔

اس ضمن میں دشمنوں کی کوششوں اور سرگرمیوں پر نگاہ رکھنے والا یہ بات جانتا ہے کہ وہ ہمارے نوجوانی اور خواتین کو ایک ہی ہتھیار سے ہلاک کرنا چاہتے ہیں اور وہ ہے’ جنس‘ کا ہتھیار۔ اس جنسیت پرستی کو عام کرنے میں انھوں نے اپنی پوری قوت صرف کردی ہے، ٹی وی، رسائل وجرائد، کانفرنسیں وغیرہ سب اس ’مشن‘ کے لیے وقف ہیں۔

مغرب میں آزادی کا مطلب یہ ہے کہ لڑکا جب سولہ برس کا ہو جائے تو وہ جس لڑکی کے ساتھ چاہے رہے اور اسے جہاں لے جانا چاہے آزادی سے لے جائے۔ اگر اس پر اس کے والد نے کوئی اعتراض کیا تو گویاوہ مغربی قانون کی نظر میں نوجوان لڑکے اور لڑکی کی آزادی پر قدغن لگا رہا ہے۔ ایسی صورت میں اگر لڑکا پولیس کی مدد کا طالب ہو تو وہ اس لڑکے کی مدد کرے گی اور لڑکے کے والد کو گرفتار کرلے گی۔ اس پر الزام ہوگا لڑکے کی آزادی چھیننے کا۔

دوسری طرف جنس کے تعلق سے اسلام کا جو موقف ہے وہ انتہائی عظیم موقف ہے۔ یہ موقف انسانی فطرت کی بھر پور رعایت کرتا ہے۔ یہ موقف انسان کے نفس کو سیدھے راستے پر لے آتا ہے۔ وہ اپنے ماننے والوں کے لیے یہ پسند نہیں کرتا کہ وہ جنسیت کے گڑھے میں جاگریں اور نہ ہی وہ اس جذبے کو دبا کر ختم کردینا چاہتا ہے بلکہ اسے راہ راست پر لانا چاہتا ہے۔ اس کے لیے اس نے ایک طریقہ متعین کیا ہے اور وہ ہے نکاح۔ ایسا اس لیے ہے کہ جنسی خواہشات کا معاملہ انسان کی دوسری خواہشات کے برعکس کچھ خاص ہے۔ قرآن کریم نے ہمارے لیے ایک ایسے نوجوان کا نمونہ پیش کیا ہے جو اپنی عفت کی حفاظت کرنا جانتا تھا اور نفسانی خواہشات کے مقابلے میں اس کا ارادہ مضبوط تھا۔ یہ نمونہ یوسف علیہ السلام کے قصے میں آیا ہے۔ جب انھوں نے اپنے آپ کو ایسی گمراہ کن عورتوں کے درمیان پایا، جنھوں نے ان کے عشق میں اپنی انگلیاں تک کاٹ ڈالیں تو انھو ںنے کہا:

’’اے میرے رب! مجھے قید منظور ہے، بہ نسبت اس کے کہ میں وہ کام کروں جو یہ لوگ مجھ سے چاہتے ہیں۔ اور اگر تو نے ان کی چالوں کو مجھ سے دفع نہ کیا تو میں ان کے دام میں پھنس جاؤں گا اور جاہلوں میں شامل ہوجاؤں گا۔‘‘ (یوسف: ۳۳)

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر سمیہ یونس / ترجمہ: تنویر آفاقی

Leave a Reply