اعلیٰ تعلیم میں پسماندہ مسلم خواتین

حال ہی میں وزیر اعظم منموہن سنگھ نے اقلیتی کمیشن کے صوبائی صدور اور ممبران کو خطاب کرتے ہوئے مسلم طبقہ کی تعلیم، خاص طور پر لڑکیوں کی تعلیم پر زور دیا تھا۔ انھوں نے مسلم اکثریتی بلاکوں اور ضلعوں میں مسلم لڑکیوں کے لیے سکنڈری او رہائر سکنڈری اسکول کھولنے کی تجویز پر عمل آوری کے ساتھ ساتھ ان کے لیے میڈیکل اور انجینئرنگ جیسی پیشہ وارانہ تعلیم کے دائرہ کو بڑھانے کی ضرورت کو وقت کا تقاضا بتایا۔ مسلم خواتین، غیر مسلم خواتین سے تعلیم کے میدان میں کتنی اور کیوں پسماندہ ہیں اس بات کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔

ڈاکٹر گوپال سنگھ کی صدارت میں ۶ ممبران پر مشتمل کمیٹی نے ۱۹۹۳ء میں اقلیت کے سلسلہ میں ایک رپورٹ تیار کی تھی۔ اس رپورٹ میں مسلمانوں کی پسماندگی کا ذکر کرتے ہوئے تعلیم میں ان کی مایوس کن صورتِ حال، ابتر سماجی اور معاشی حالت، خاص طور پر مسلم خواتین کے سلسلے میں تعلیم کے ابتدائی مرحلے میں اسکول چھوڑنے (ڈراپ آؤٹ) اعداد و شمار پر غوروخوض کیا گیا تھا۔ رپورٹ نے واضح کیا تھا کہ نویں اور دسویں پانچ سالہ منصوبے کے دستاویزات کے مطابق ہندوؤں اور مسلمانوں کے بیچ تعلیم کا ایک بہت بڑا فاصلہ ہے۔

نیشنل فیملی ہیلتھ سروے ۹۹-۱۹۹۸ کے مطابق عیسائیوں اور سکھ طبقے کے خاندانوں میں 32.9غیر تعلیم یافتہ عورتیں تھیں جبکہ مسلم معاشرے میں یہ تعداد 60.5فیصد تھی۔ سروے کے ۲۰۰۱ء کے اعداد و شمار اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ تعلیم کے اعداد شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سبھی مذاہب کے مقابلے مسلمانوں میں تعلیم سب سے کم ہے ملک کی 46فیصد غیرمسلم خواتین لکھنا جانتی ہیں جبکہ مسلم خواتین میں محض 41فیصد ہی پڑھ لکھ پاتی ہیں۔ جیسے جیسے تعلیم کا مرحلہ بڑھتا جاتا ہے، ویسے ویسے مسلم خواتین کی صورتِ حال اور بدتر ہوتی چلی جاتی ہے۔

جواہر لال نہرو یونیورسٹی سینٹر فار پولیٹیکل اسٹڈیز کے 2000-2001میں ہوئے ایک سروے میںملک بھر کے ۴۲ ضلعوں کی دس ہزار مسلم و ہندو خواتین سے بات چیت کی گئی۔ اس سروے میں قریب ۶۰ فیصد مسلم خواتین نے خود کو ان پڑھ بتایا۔ دیہاتی علاقوں میں ۸۸ فیصدی مسلم خواتین ان پڑھ ہیں۔ پورے ملک میں مسلم لڑکیوں کے اسکول میں داخلہ کا تناسب 40.6فیصد ہے۔ جبکہ اعلیٰ ذات ہندوں میں یہتناسب 63.2فیصد ہے۔ دیہی علاقوں میں مسلم بچیوں کے داخلہ کی شرح 13.5فیصد ہے۔

داخلوںو تعلیم کی شرح میں مسلم لڑکیاں اور لڑکیوں سے کیو ںپیچھے ہیں اس کی بنیادی طور پر تین وجوہات ہیں۔ ان کا ابتر طرزِ زندگی، شادی جلدی ہونا اورمسلم لڑکوں کا کم پڑھا لکھا ہونا۔ معاشی دباؤ کا صاف اثر مسلم لڑکیوں کی تعلیم پر نظر آتا ہے۔ غریب مسلم خاندانوں کی محض 16.1فیصد لڑکیاں ہی اسکول جاتی ہیں۔ یہ فرق اس بات کو مزید پختہ کرتا ہے کہ غریبی اور مفلسی ایک اہم وجہ ہے مسلم لڑکیوں کے کم پڑھے لکھے ہونے کی۔

جامعہ ہمدرد کے چانسلر سید حامد کا خیال ہے کہ اعلیٰ تعلیم میں مسلم لڑکیوں کی حصہ داری ابتر ہونے کی وجہ گھر کی معاشی پریشانیاں ہیں۔ مسلم خاندانوں کی اوسط آمدنی کافی کم ہے۔ مسلم معاشروں میں لڑکیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بجائے اپنے روایتی پیشے یا کسی چھوٹی نوکری سے وابستہ ہوجاتی ہیں۔ اس کا اثر لڑکیوں کی تعلیمی سطح پر بھی پڑتا ہے۔ ماں باپ فکر مند رہتے ہیں کہ زیادہ تعلیم یافتہ لڑکی کے لیے زیادہ تعلیم یافتہ شوہر نہیں ملے گا۔ اس لیے لڑکیوں کو مڈل یا دسویں کے بعد پڑھنے سے روک ریا جائے، اس لیے مسلم لڑکیوں کے درمیان اعلیٰ تعلیم کی سطح کو بڑھاتے وقت مسلم لڑکوں کی اعلیٰ تعلیم کی سطح کو بھی بلند کرنا ہوگا۔

مولانا آزاد ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے پاس مسلم لڑکیوں کے لیے اسکول، تکنیکی ادارے کھولنے اور ہاسٹل وغیرہ قائم کرنے کے لیے ستر کروڑ کی رقم ہے۔ لیکن اس اسکیم کا مغربی بنگال، آسام اور اترپردیش جیسے صوبوں میں کوئی اثر نہیں دکھائی دے رہا ہے۔ کیوں کہ اس کے تحت حکومت سے دی گئی رقم کا پورا استعمال ہوا ہی نہیں ہے۔ مسلم لڑکیاں تو پڑھنا چاہتی ہیں لیکن انھیں تعلیم حاصل کرنے کے وہ مواقع فراہم نہیں کیے گئے جن کی وہ حق دار ہیں۔ اور حوصلہ افزائی کے لیے جو پروگرام شروع کیے گئے ہیں ان کے کارگر نتیجے اس لیے سامنے نہیں آئے کیونکہ ان کی عمل آوری کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔

شیئر کیجیے
Default image
الکا آریہ / ترجمہ: عمار انس

Leave a Reply