محبت کی کنجی :عبادت

اس کنجی کے مطالعے کے بعد توقع کی جاتی ہے کہ حسب ذ یل فائدے حاصل ہوں گے ۔

٭ دل کی پاکیزگی ٭سینے کی کشادگی ٭روح کی شفافیت

٭محبت ورحمت کے فرشتے ٭شیطانوں کا فرار

اللہ کی عبادت کا مطلب ہر وہ کام ہے جو اللہ کو راضی کرنے کے لیے کیا جائے ۔ خواہ وہ قول ہو یا عمل ظاہر ہو یا پوشیدہ ۔انہیں عبادتوں میں نماز روزہ اور اذکار وغیرہ ہیں ۔ یہ عبادتیں شوہر اور بیوی کے دل کو اللہ سے وابستہ کردیتی ہیں ، یہی وہ کنجی ہے جس سے بندہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرلیتا ہے ۔ جس کے بعد اس کے دل میں سچی محبت کا پودا لگ جاتا ہے ۔ دل تو رحمن کی انگلیوں کے بیچ ہوتے ہیں ۔ گویا میاں بیوی کا قلبی تعلق خود ان کے ہاتھ میں نہیں ہوتا ہے ۔ بلکہ اللہ کے ہاتھ میں ہوتا ہے ۔ اگر ہم اللہ کو راضی کرلیں ۔تو اللہ اپنے بندوں کو ہم سے راضی کردے گا ۔

قرآنی دلیلیں

اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:

وَأَلَّفَ بَیْْنَ قُلُوبِہِمْ لَوْ أَنفَقْتَ مَا فِیْ الأَرْضِ جَمِیْعاً مَّا أَلَّفَتْ بَیْْنَ قُلُوبِہِمْ وَلَـکِنَّ اللّہَ أَلَّفَ بَیْْنَہُمْ إِنَّہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ (الانفال۶۳)

’’اور ان کے دلوں میں الفت پیدا کر دی اگر تم دنیا بھر کی دولت خرچ کرتے تب بھی ان کی دلوں میں الفت پیدا نہ کر سکتے مگر اللہ ہی نے ان میں الفت ڈال دی ۔‘‘

دوسری جگہ ارشاد فرمایا

وَأَصْلَحْنَا لَہُ زَوْجَہُ إِنَّہُمْ کَانُوا یُسَارِعُونَ فِیْ الْخَیْْرَاتِ وَیَدْعُونَنَا رَغَباً وَرَہَباً وَکَانُوا لَنَا خَاشِعِیْن (الانبیاء ۹۰)

’’اور اُن کی بیوی کو اُن کے (حسن معاشرت کے) قابل بنا دیا یہ لوگ لپک لپک کر نیکیاں کرتے اور ہمیں اُمید اور خوف سے پکارتے اور ہمارے آگے عاجزی کیا کرتے تھے۔‘‘

سچے واقعات

٭دونوں نے شادی کی مسرت بھری ساعت میں ایک عہد کیا کہ وہ دونوں مل کر قرآن کریم کے ذریعہ اللہ کی رحمت کا دروازہ کھٹکھٹائیں گے۔روز شوہر ایک چوتھائی پارے کی تلاوت کرے گا بیوی سنے گی ، پھر بیوی ایک چوتھائی پارہ پڑھے گی اور شوہر اسے سنے گا ۔ پھر دونوں مل کرقرآن کے پیغام رحمت کو سمجھیں گے ۔دونوں اس عہد پر صبر واستقامت سے جمے رہے ۔ان کی زندگی سعادت ومحبت اور الفت ومودت کی شاندار تصویر ہے ۔ خوشیوں سے مالامال زندگی کی بیس بہاروں میںوہ مل کر سو سے زیادہ مرتبہ قرآن مجید ختم کر چکے ہیں ۔

٭میں جب امریکہ میں تھا تو ایک آدمی میرے پاس آیا وہ اپنی بیوی کوطلاق دینا چاہتا تھا ۔ اس کے تین بچے تھے ۔ اس سے پہلے وہ جدہ میں سات سال ساتھ رہ چکے تھے ۔ ان کے درمیان اختلافات اس قدر بڑھے کہ ایک دن بیوی نے شوہر کے سر پر کرسی کھینچ ماری ۔ و ہ شوگر اور بلڈپریشر کا مریض ہو گیاتھا ۔ ایک دن بہت نازک حالت میں اسے آفس سے اسپتال میں بھرتی ہونا پڑا ۔ جب وہ دیر سے گھر لوٹا تو بیوی کے طعنے اس کے منتظر تھے ، گھر کی کوئی فکر نہیں بچوں کی کوئی پرواہ نہیں ۔ اس نے جب بتایا کی وہ تو اسپتال میں بھرتی تھا تو بیوی کی زبان سے دعائے صحت کے بجائے یہ جملہ نکلا کہ کیا لائف انشارنس کرالیاہے ؟ بالآخر اس نے بیوی کو طلاق دینے کا فیصلہ کرلیا ۔ میں نے اس سے پوچھا جب تم مکہ سے بہت قریب جدہ میں رہ رہے تھے تو کتنی مرتبہ مکہ یا مدینہ میں حرم کی زیارت کی تھی ۔ معلوم ہوا ایک بار بھی نہیں ۔ تم دونوں نماز پڑھتے ہو ؟ نہیں ۔ میں نے کہا تم لوگوں نے تو محبت کی سب سے خاص کنجی غائب کردی ۔ اب سب سے پہلا کام یہ کرو کہ تم دونوں عمرہ کی نیت کرکے مکہ جائو وہاں اللہ سے پچھلی کوتاہیوں کے لیے معافی مانگو ، عہد کرو کہ اب سے نما ز تلاوت اور اذکار غرض ہر عبادت کی پابندی کرو گے ۔ ایک ماہ بعد دونوں لوٹ کر آئے ۔ شکر وسپاس سے ان کے دل معمور تھے ۔ انہوں نے کہا اب ہم بالکل بدل گئے ہیں ۔اور واقعی دونوں بدل چکے تھے ۔ انہیں محبت کی کھوئی کنجی مل گئی تھی اور وہ بے حد مسرور تھے ۔سچ کہا اللہ پاک نے:

فَمَنِ اتَّبَعَ ہُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَلَا یَشْقَی وَمَنْ أَعْرَضَ عَن ذِکْرِیْ فَإِنَّ لَہُ مَعِیْشَۃً ضَنکاً وَنَحْشُرُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَعْمَی(طہ۱۲۳-۱۲۴)

’’تو جو شخص میری ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ گمراہ ہو گا اور نہ تکلیف میں پڑے گا اور جو میری نصیحت سے منہ پھیرے گا اُس کی زندگی تنگ ہو جائے گی اور قیامت کو ہم اُسے اندھا کر کے اٹھائیں گے۔‘‘

کلیدعبادت حاصل کرنے کے عملی طریقے

٭نیکی میں مسابقت ٭ایک ساتھ دعا مانگنا

٭ایک ساتھ تہجد پڑھنا ٭ایک سا تھ ر وزانہ تلاوت کرنا

٭ایک ساتھ ذکر و اذکار کرنا

مشق :درج ذیل میں تمہارے دل کو جو سب سے زیادہ مرغوب عبادتیں ہوں ان پر صحیح کا نشان لگادو ۔پھر دیکھو تمہاری بیوی یا شوہر میں اور تم میں کن کن پر اتفاق ہوجاتا ہے ۔ ایسی عبادتوں کو ایک ساتھ انجام دو ۔

نماز روزہ

تلاوت کلام پاک صدقہ وخیرات

دعوت دین ذکر وتسبیح

تہجد دعا

یتیموں کی سرپرستی علم دین کا حصول

بری عادتوں سے چھٹکارہ پائیں

اچھی عادتیں اپنائیں

٭فجر کی نماز کے وقت سوتے رہنا

٭، قرآن کے نور سے لاپرواہی

٭، یاد الہی سے غفلت،

٭ کنجوسی اور حرص ،

٭خواہشات نفس کی غلامی

٭فجر کے وقت اٹھ جانا،

٭قرآن کی روزانہ تلاوت ،

٭یاد الہی ،

٭دل کی فیاضی ،

٭ نفس کے ساتھ مجاہدہ ۔

محبت کے باغ میں ایک پکنک

اس کے پیدا ہونے سے پہلے ہی میری روح اس کی عاشق ہو چکی تھی ۔ اوراس وقت بھی جب ہم ماں کی گود میں تھے ۔ ہم بڑھتے گئے اور محبت بھی پروان چڑھتی رہی ۔ ہم مریں گے تب بھی عہد محبت ختم نہیں ہوگا یہ محبت سدا باقی رہے گی ۔ قبر کی تاریکی میں بھی یہ ہم سے ملنے آئے گی ۔ کیونکہ یہ امر محبت ہے

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر صلاح سلطان ترجمہ: محی الدین غازی

Leave a Reply