غزل

رعنائی وہ گل میں ہے نہ برنائی سحر میں

’’اک بات‘‘ ہے جو آپ کی دُزدیدہ نظر میں

معلوم یہ ہوتا ہے نہیں منزلِ مقصود!

محسوس یہ ہوتا ہے کہ دنیا ہے سفر میں

قیمت میں مہ و مہر سے بڑھ کے ہوں مگر قدر!

اِک سنگ ہوں ٹھکرایا ہوا راہگذر میں

اِک پھول ہوں جانِ چمن و روحِ بہاراں

اِک خار ہوں رہ رہ کے کھٹکتا ہوں نظر میں

وہ نغمہ طرازی ہے کہ ثانی نہیں رکھتا!

پامالِ حوادث ہوں کہ یکتا ہوں ہنر میں

دِل مرکزِ آلام! تجھے چاہیے خلوت

رکھّا ہے الگ سب سے تجھے دیدئہ تر میں

کیا عرض کروں وادیٔ غربت کے مصائب

رہنے نہ دیا اپنوں نے جب اپنے ہی گھر میں

گفتار کے آئینہ میں کردار ہے روشنؔ

کچھ فرق نہیں مجھ میں تراشیدہ گہر میں

شیئر کیجیے
Default image
روشن نگینوی

Leave a Reply