لفافہ

حجاب کے نام!

(قارئین! ہمیں ہر ماہ کافی خطوط موصول ہوتے ہیں جن کی اکثریت ہی نہیں بلکہ تمام تعریف و توصیف پر مبنی ہوتے ہیں۔ بہت سے خطوط ہم صفحات کی تنگی اور خطوط کی طوالت کے سبب شائع نہیں کرتے مگر ان کی تجاویز کو ہمیشہ سامنے رکھتے ہیں۔ قارئین کے خطوط کسی رسالہ کی مقبولیت کو ناپنے کا پیمانہ اور اسے بہتر سے بہتر بنانے کا بہترین ذریعہ ہوتے ہیں۔

ہم اپنے قارئین کے جذبات احساسات اور تاثرات کی قدر کرتے ہوئے یہ گزارش کرتے ہیں کہ حجاب کے باذوق اور اہل علم قارئین اس رسالہ پر تنقید و جائزہ کی نظر بھی ڈالیں اور اپنے تاثرات ہمیں تحریر کریں تاکہ ہم آپ کی خدمت میں اور زیادہ خوبصورت بہتر اور مفید حجاب پیش کرسکیں۔ایڈیٹر)

سچر کمیٹی کا سچ

ماہنامہ حجاب اسلامی اردو کے رسالوں میں منفرد رسالہ ہے۔ اس حیثیت سے کہ خواتین و طالبات کے لیے مفید اور معلومات افزا مواد پیش کرتا ہے۔ یہ دوسرے رسالوں سے ممتاز ہے۔ اپنی تمام خصوصیات اور خوبیوں کے باوجودرسالہ کو اور زیادہ معیاری بنانے کی ضرورت ہے۔

آج کل مارکیٹ میں رسالوں کا جو معیار ہے اور قارئین کو جو معیار مطلوب ہے اس سے رسالہ ابھی کافی پیچھے ہے۔ مسلم سماج کے کئی اہم اشوز جیسے مسلم معاشرہ میں پھیلی جہالت، بے دینی، غربت اور تعلیمی پسماندگی وغیرہ پر اس انداز میں لکھنے کی ضرورت ہے کہ مسلم معاشرہ میں تبدیلی اور زندگی کی لہر پیدا ہو۔

سچر کمیٹی کی رپورٹ نے جن تاریک حالات سے پردہ اٹھایا ہے انہیں مسلم سماج تک لے جانے کی اور لوگوں کو اصلاح حال کی طرف متوجہ کرنے کی ضرورت ہے۔ سچر کمیٹی نے جو چشم کشا حقائق پیش کیے ہیں ان میں سب سے کڑوی حقیقت اور سب سے تاریک گوشہ مسلم خواتین میں تعلیم کی صورت حال ہے۔ سچر کمیٹی کے ذریعہ پیش کیے گئے حقائق مسلم معاشرہ کے لیے بہت بڑا چیلنج ہیں۔ لیکن معاشرہ میں ان پر خاطر خواہ توجہ کی کمی محسوس ہوتی ہے۔حکومت کی طرف سے جو وعدے وعید ہوتے رہے ہیں ، ہوسکتا ہے وہ آئندہ بھی محض سیاسی کوشش ہوکر رہ جائیں اور اگر حکومت سنجیدگی سے کچھ کرتی بھی ہے تب بھی حالات اس وقت تک بہتر نہیں ہوسکتے جب تک خود مسلم معاشرہ خود کو بہتر بنانے کی کوشش نہ کرے کیونکہ:

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بھی صاف اعلان کردیا ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ اس وقت تک کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود کو نہ بدلے۔‘‘

تو کیا آج کا مسلم معاشرہ ان حقائق کو جاننے کے بعد حالات کو بدلنے اور وقت کے چیلنج کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے؟

ڈاکٹر رخسانہ نکہت، لکھنؤ

قلم کاروں کے پتے

میں آپ کی بہت ہی مشکور ہوں کہ آپ نے میری تحریر کو مؤقر جریدہ ’’حجاب‘‘ میں جگہ دی۔ ماہِ نومبر کا رسالہ میرے ہاتھوں میں ہے۔ تمام تر مضامین کا مطالعہ کرچکی ہوں۔ شائع شدہ مضامین میں محترم تنویر عالم فلاحی کا ترجمہ کردہ بعنوان ’’فنونِ اسلامی نقطہ نظر سے عاری ہوچکے ہیں‘‘ ، محترمہ حلا شیحا ’’اک ایسی روشنی ہیں جو ہمارے ذہن کو منور کررہی ہیں۔ ہمارے معاشرے کی خواتین کے لیے مشعل راہ ہیں ان کے ذاتی تاثرات و خیالات پڑھ کر ایک طرح حیرت بھی ہوئی کہ ’’اداکارہ‘‘ ہوکر پردہ؟ ایک مشکل مرحلہ تھا جسے انھوں نے اپنے عزم مصمم سے سرکیا۔ مذکورہ بالا مضمون کے علاوہ اور بھی شامل شدہ مودا میں سے محترم ومحتشم ضیا شبنمی کی غزل ’’ماں کی شفیق چھاؤں سے کردے مجھے دور، تقدیر ایسا دستِ حنائی نہ دے مجھے‘‘ بہت پسند آئی۔

سرورق پر شائع شدہ عنوان ’’مسلم سماج کی شادیاں —ایک لمحۂ فکریہ‘‘ کاش! یہ مضمون ہمارے معاشرے کے بیمار ذہن رکھنے والے افراد پر کچھ اثر کرے۔

افسانہ ’’خبیث‘‘ حفیظ الرحمن خاں کی ایک عمدہ تخلیق ہے، مصنف نے ایک عالمی مسئلہ کو اپنے فن کے ذریعے قاری کے ذہن تک پہنچایا ہے۔ موضوع بڑا ہی فکر انگیز ہے۔ دیگر شامل شدہ مضامین نظمیں، غزلیں و تمام تر مواد قابلِ مطالعہ ہے۔

آپ حجاب میں شائع ہونے والے افسانے، غزلیں، نظمیں یا دیگر مضامین کے تخلیق کاروں کے پتے شائع نہیں کرتے، برائے کرم ان کے پورے پتے شائع کریں کہ ہم شائع شدہ تخلیق کے حوالے سے ذاتی تاثرات ان تک پہنچا سکیں۔

قمر سلطانہ ، سہارنپور

[آپ کا مضمون شائع ہوگیا، مگر کیا صرف شکریہ کافی ہے؟ شکریہ کی بہترین شکل یہ ہے کہ اس سے زیادہ اچھا اور اس سے زیادہ محنت و مطالعہ کے بعد آپ ایک نیا مضمون حجاب کو ارسال کریں اور یہ سلسلہ جاری رہے یہاں تک کہ آپ ایک معروف قلم کار اور اچھی لکھنے والی کی حیثیت سے جانی جائیں۔]

ظاہری و باطنی خوبصورتی

دسمبر ۲۰۰۶ء کا شمارہ ظاہری و باطنی خوبصورتی کے ساتھ نظر نواز ہوا۔ ماشاء اللہ تمام شعری و نثری مشمولات بہت خوب ہیں بالخصوص نثری مشمولات میں ’’قرآن کی ایک ایک آیت پر غور کریں‘‘ (شہباز عالم صاحب) ’’میں بہت مصروف ہوں‘‘ (ثمینہ تسنیم صاحبہ) ’’ہم اور ہمارا خاندانی نظام‘‘ بے حد پسند آئے اور شعری مشمولات میں دو نظمیں بہت پسند آئیں۔ ایک انتظار نعیمؔ صاحب کی ’’بالی ووڈ کی فنکارہ سے…‘‘ آزاد نظم اور دوسرے عبدالماجد نثارؔ صاحب کی ’’اے بنتِ حرم جاگ!‘‘

الحمدللہ! حجاب میں کافی نکھار آرہا ہے۔ شہر کورٹلہ میں اس کی مقبولیت بڑھتی جارہی ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی کوششوں کو بار آور کرے (آمین) صفحہ ۹۹ پر حضرت ابوالمجاہد زاہدؔ صاحب کی ناساز طبیعت کا ذکر ہے اللہ تعالیٰ موصوفِ محترم کو صحتِ کاملہ عطا فرمائے۔(آمین!)

اظہر کورٹلوی، کورٹلہ، ضلع کریم نگر

حجاب اسلامی میں مقناطیسی کشش ہے

میں حجاب اسلامی کی نئی خریدار ہوں، باوجود کوشش کے آپ کی بزم میں تعلیمی مصروفیت کی بنا پر کافی دن بعد شریک ہورہی ہوں۔ دراصل اردو لٹریچر میرا پسندیدہ مضمون ہے۔ اس لیے اردو کا کوئی رسالہ ہو یا میگزین ہو وہ میری نگاہوں کی ’’رینج‘‘ میں رہتا ہے۔ ماہِ نومبر کا حجاب ملا،پڑھ کر خوشی ہوئی۔ ایسا محسوس ہوا کہ جسم میں زندگی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ایسے وقت میں جبکہ لوگ اردو کے دشمن بنتے جارہے ہیں۔ ہر طرف سے دین اسلام کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے اور امت مسلمہ ہر طرف سے مصائب کا شکار ہے، ایسے پریشان کن حالات میں آپ نے حجاب اسلامی جیسا صاف و شفاف رسالہ نکال کر دین کی خدمت اور اسلام کو پھیلانے کی جو ذمہ داری اٹھائی ہے۔ وہ قابلِ تحسین ہے۔ ماہِ نومبر کے حجاب میں محترم حفیظ الرحمن کی کہانی ’’خبیث‘‘ نئی نسل کے لیے کافی سبق آموز ہے یوں تو حجاب اسلامی اسم بامسمیّٰ ہے۔ اس کی جتنی بھی تعریف کروں کم ہے۔ گوشۂ نوبہار میں مریم آپی اپنے اداریہ میں جو باتیں لکھتی ہیں، وہ میری فیملی کو کافی پسند آتی ہیں۔ اسٹاف کے تمام لوگوں کے لیے دعا گو ہو ںکہ اللہ تعالیٰ اس کارخیر میں آپ لوگوں کی مدد فرمائے۔ آمین! ثم آمین

ڈاکٹر ترنم درخشاں خان بگھرا ، اعظم گڑھ

سیرت کوئز

میں حجاب کا مطالعہ کچھ دنوں سے کررہی ہوں یہ رسالہ مجھے بہت پسند آیا کیونکہ اس رسالے میں کافی تنوع نظر آتا ہے اور نئے نئے موضوعات زیرِ بحث آتے ہیں۔ یہ تنوع اور موضوعات کی کثرت قارئین کو بور نہیں کرتی اور نہ وہ اس سے اکتاتے ہیں۔

حجاب ہی ایک واحد رسالہ ہے جو عورتوں میں تیزی سے پھیلتی ہوئی عریانیت و فحاشیت کو دور کرنے کے لیے حتی المقدور کوشش کررہا ہے۔

آنچل حیا کا ڈال کے کرتا ہے پرورش

دنیا سے بے حیائی مٹاتا ہے یہ حجاب

میری آپ سے ایک درخواست ہے کہ اگر آپ ہم لوگوں سے کچھ دینی سوالات یعنی نبی کریمﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں کریں تو یہ ہمارے حق میں مفید ثابت ہوگا۔

کلثوم نظام الدین، چاند پٹی، اعظم گڑھ

[کلثوم صاحبہ! ہم انشاء اللہ جلد ہی سیرت اور اسلامک کوئز کا کالم شروع کرنے والے ہیں، آپ انتظار کریں جلد آپ کا مطالبہ پورا ہوگا۔]

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء

Leave a Reply