لطائف

راشد (حامد سے) اگر ۱۰۰ نمبر کے بجائے ۰۰۱ ڈائل کیا جائے تو کیا ہوگا؟

حامد: پولیس کی گاڑی پیچھے کی جانب رخ کرکے آئے گی۔

٭٭٭

انگریزی کی کلاس کرنے کے بعد جب ۵ سالہ انور گھر آیا تو بے حد خوش تھا۔ شام کو جب اس کے والد گھر پر آئے تو انھوں نے اس کا ٹیسٹ لیا۔

والد: اگر تم کو مجھے بلانا ہو تو کیا کہوگے؟

انور: کم ہیئر

والد: اگر واپس وہیں جانے کے لیے کہنا ہو تو؟

انور: میں وہاں سے جاکر کہوں گا’’کم ہیئر‘‘۔

٭٭٭

ایک جلسہ میں خطاب کے دوران لیڈر نے عوام سے پوچھا: کیا آپ کو مجھ سے مل کر خوشی ہوتی ہے۔

جی ہاں! مجمع میں سے کئی آوازیں ابھریں۔

لیڈر خوش ہوگیا اور دوبارہ سوال کیا: اگر میں کسی وجہ سے یہاں نہ آپاتا تو آپ کو کیسا لگتا؟

’’تب ہمیں مزید خوشی ہوتی۔‘‘ ایک اور آواز آئی۔

٭٭٭

ہوٹل کی دسویں منزل پر رہائش پذیر مسٹر ایڈورڈ نے رات ایک بجے ہوٹل منیجر کو فون کیا: ’’میری بیوی سے میرا جھگڑا ہوگیا ہے۔ وہ خود کشی کرنا چاہتی ہے۔ فوراً ہی کسی کو میرے کمرے میں بھیجئے۔‘‘

منیجر: یہ آپ دونوں کا ذاتی معاملہ ہے، اس میں بھلا ہم کیا کرسکتے ہیں؟

ایڈورڈ: دراصل کمرے کی کھڑکی نہیں کھل رہی ہے۔

٭٭٭

گاہک (دوکاندار سے): کیا آپ کے پاس کاکروچ مارنے کی دوا ہے؟

دوکاندار : جی ہاں۔

گاہک: اچھا یہ تو بتائیے کاکروچ مارنے کا جو گناہ ہوگا وہ آپ کے سر جائے گا یا میرے؟

دوکاندار: کسی کے بھی نہیں۔

گاہک: کیوں؟

دوکاندار: کاکروچ مریں گے تب ہی تو گناہ ہوگا۔

٭٭٭

انصار: میرے والد جب ماچس خریدتے ہیں تو ساری تیلیاں گنتے ہیں کہ کہیں کم تو نہیں ہیں۔

ابرار: میرے ابو کو جب ماچس خریدنی ہوتی ہے تو ساری تیلیاں جلاکر دیکھتے ہیں کہ کہیں کوئی خراب تو نہیں ہے۔

٭٭٭

ارسلان: (فون پر) ہیلو ڈاکٹر صاحب!

ڈاکٹر احتشام: جی ارسلان صاحب فرمائیے

ارسلان: ڈاکٹر صاحب میرے بیٹے نے غلطی سے سر درد کی پانچ گولیاں نگل لی ہیں۔ بتلائیے میں کیا کروں؟

ڈاکٹر احتشام: گھبرائیے نہیں، کچھ ایسا کیجیے کہ اسے سر درد ہونے لگے۔

٭٭٭

ایک راہ گیر (دوسرے سے): ارے بھئی ذرا دیکھ کر چلا کرو، ابھی تم مجھ سے ٹکراتے ٹکراتے بچے ہو۔

دوسرا راہ گیر: میں تو دیکھ کر ہی چل رہا تھا لیکن یہ نہیں معلوم تھا کہ آپ بھی میری ہی طرح چلتے ہیں۔

٭٭٭

شاہد: (اپنے دوست زاہد سے) سنا ہے تمہارے دونوں بیٹے فیل ہوگئے؟

زاہد: تم نے بالکل درست سنا ہے۔

شاہد: وہ تو ٹیوشن پڑھنے جاتے تھے۔ تم نے ماسٹر سے کچھ کہا نہیں؟

زاہد : اس سے کیا کہتا؟ اب انتظام کردیا ہے۔ امید کہ آئندہ سال فیل ہونے کی نوبت نہیں آئے گی؟

شاہد: کیا کوئی دوسرے ماسٹرکا انتظام کرلیا ہے؟

زاہد: نہیں بلکہ اس ماسٹر کے لیے ٹیوشن لگوادی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ

Leave a Reply