آئس کریم کی کہانی

گرمیوں کے موسم میں ٹھنڈی ٹھنڈی آئس کریم کا لطف الگ ہی ہوتا ہے۔ بچے، بڑے، بوڑھے، جوان سبھی اس کا یکساں لطف لیتے ہیں۔ آئس کریم کی ابتداء کے بارے میں مختلف باتیں کہی جاتی ہیں۔ ایک خیال تو یہ ہے کہ کسی نے دودھ سے بھرا پیالہ غلطی سے سردی کے موسم میں گھر سے باہر رکھ دیا ہوگا جو درجہ حرارت کم ہونے سے جم گیا ہوگا۔ جب علی الصبح اسے کھا کر انوکھا لطف ملا ہوگا تو اس نے اپنے پڑوسیوں کو پیش کیا ہوگا۔ اس طرح یہ تیزی سے مقبول ہوگئی ہوگی۔ بارہویں صدی کے وسط میں اہلِ یورپ برف کو پتھر یا چمڑے کے برتن میں رکھ کر اس پر گائے، بھینس یا بھیڑ کا دودھ انڈیل دیتے تھے۔ پھر وہ ان برتنوں کو بند کرکے برف میں دبا دیتے تھے۔ چند گھنٹوں بعد اسے نکالا جاتا تو برف اور دودھ یکجا ہوجاتے تھے۔ اسی ملاوٹ کو وہ شہد ملا کر بڑے شوق سے کھاتے۔ ایک دوسری روایت کے مطابق چوتھی صدی میں روم کے بادشاہ نیرو نے پہاڑوں سے برف منگواکر اس میں پھلوں کو ملاکر پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ البتہ یہ کہا جاتا ہے کہ سب سے پہلے آئس کریم بنانے کا نسخہ روم نے پیش کیا۔ یہ ایک فوجی تھا جس کا نام کونٹس میکسیمس تھا۔ رومی سلطنت کے زوال کے بعد یہ نسخہ بھی تاریخ کے صفحات میں گم ہوگیا۔ اسی وقت چین میں بھی اس کی مقبولیت نمایاں رہی۔

تیرہویں صدی میں مارکوپولو نے چین کی راجدھانی بیجنگ کا سفر کیا۔ وہاں اس نے برف اور دودھ ملاکر ایک نئی ڈش کی ترکیب بھی سیکھی۔ ۱۳۹۵ء میں وہ خاموشی سے اسے اپنے ملک لے آیا۔ ۱۵۳۳ء میں اٹلی کی شہزادی کیتھرین دی مدچی نے فرانسیسی شاہزادے ہنری دوم سے شادی کی تو جہیز میں آئس کریم بنانے کا سازوسامان اور ترکیب بھی لے آئی۔ اس طرح آئس کریم اٹلی سے فرانس پہنچی۔ ۱۶۸۵ء میں فرانس کے بادشاہ ہنری چہارم کی بیٹی نے انگلینڈ کے شہزادے چارلس سے شادی کی تو یہ ترکیب انگلینڈ بھی پہنچ گئی۔ ۱۶۶۰ء میں ہی اٹلی کے باشندے کیل ٹیلی نے مصنوعی برف بنانے کی مشین تیار کرلی تھی۔ نینسی جانسن نے ۱۸۴۶ء میں اس میں مزید اصلاحات کیں۔ ۱۷۷۵ میں پہلا آئس کریم پارلر نیویارک میں کھل گیا تھا۔ ۱۸۵۱ء میں جیکب کسیل نے اپنے بیلٹی مورملک پلانٹ کو پہلی آئس کریم فیکٹری کی شکل دی اور اس تجارت کو فروغ دیا۔

ہندوستان میں آئس کریم عہد مغلیہ میں ہمیں ملتی ہے۔ اس وقت مخصوص حضرات ہی اس کا لطف اٹھاسکتے تھے۔ اکبر اعظم ہمالیہ کی چوٹیوں سے برف منگوا کر آئس کریم بنواتا تھا۔ عہدِ حاضر میں آئس کریم بنانے کی تکنیک نے کافی ترقی کرلی ہے اور تمام اقسام کے فلیور بازار میں موجود ہیں۔ امریکہ میں تو اس کے ۲۵۰ سے بھی زائد ذائقے ہیں۔ وہاں تین لوگوں میں سے ایک کی پسند ونیلا ہوتی ہے۔ کون والی آئس کریم سب سے پہلے ۱۹۰۴ء میں امریکہ کے آئس کریم فروش نے بنائی۔ دراصل بات یہ تھی کہ اس کے پاس بولس ختم ہوگئے تھے۔ وہ بیکری والے کے پاس گیا اور اس سے ویفرس کے رول میں آئس کریم بھرنے کو کہا۔ یہ چیز اتنی پسند آئی کہ چند ہی دنوں میں ہر خاص و عام اس کا دیوانہ ہوگیا۔

آئس کریم فلیور مزاج کے بھی آئینہ دار ہوتے ہیں۔ ونیلا پسند کرنے والے بے صبر اور ذمہ داریاں اٹھانے والے ہوتے ہیں تو چاکلیٹ والے زندہ دل اور تخلیقی ذہن کے مالک ہوتے ہیں۔ اسٹرابیری شرمیلے لوگوں کی چاہت تو کافی زندہ دل افراد کی تمنا ہوتی ہے۔ چاکلیٹ چپ محنتی لوگوں کی پسند ہوتی ہے تو بٹر اسکاچ محتاط رویہ کو ظاہر کرتی ہے۔ ٹھنڈی ٹھنڈی آئس کریم سے فروزن برین سینڈروم ہوجاتا ہے۔ یہ عارضی بیماری ہے جس سے تالو کے اندر نسیں سکڑ جاتی ہیں اور پھر تھوڑی دیر بعد اپنی اصلی حالت میں لوٹ آتی ہیں۔ آئس کریم زیادہ نہ کھائیے کیونکہ یہ نقصان دہ ہوسکتی ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
سعید اختر اعظمی

Leave a Reply