اداریہ۔گوشۂ نو بہار

پیاری بہنو!

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

بورڈ کے امتحانات کا نتیجہ آچکا ہے یہ بات خوشی کی ہے کہ مختلف ریاستوں میں مسلم طالبات نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ بعض جگہ مسلم طالبات نے ٹاپ بھی کیا ہے۔ یہ ایک اچھی علامت ہے کہ مسلم طالبات اپنی تعلیم کے سلسلہ میں کافی سنجیدہ ہیں اور آگے بڑھنے کی جدوجہد کررہی ہیں۔ اس میں خوشی کا ایک اور پہلو بھی ہے کہ ان نمایاں طالبات میں کئی طالبات ایسی ہیں جو دین دار اور حجاب کی بھی پابند ہیں۔ یہ ان لوگوں کے لیے اچھا جواب ہے جو لوگ یہ الزام لگاتے ہیں کہ پردہ تعلیم و ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

پیاری بہنو! لڑکیوں میں تعلیم بڑھ رہی ہے۔ مگر کیا دین داری بھی بڑھ رہی ہے؟ اکثر تو دیکھنے میں یہی آتا ہے جو لڑکیاں زیادہ اور اعلیٰ تعلیم حاصل کرلیتی ہیں وہ عام عورتوں کی طرح ’’ماڈرن‘‘ بن کر بے حجاب ہوجاتی ہیں۔ ہمیں اس سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔

حقیقت یہ ہے کہ آج کل تعلیمی اداروں کا ماحول ہی ایسا بگڑتا جارہا ہے کہ اگر آپ ہر وقت دھیان نہ رکھیں تو قدم پھسلنے کا ڈر رہتا ہے۔ اب دیکھئے کچھ اسکولوں میں ڈانس پارٹیاں ہوتی ہیں۔ کہیں کہیں عجیب عجیب ڈرامے اسٹیج ہوتے ہیں، کہیں سنگنگ کمپٹیشن میں گانے گائے جاتے ہیں۔ اگر آپ دھیان نہ دیں تو کیا ہوگا۔

ایک بات اور ہے اور وہ یہ ہے کہ بہت سی مسلم لڑکیاں یہی نہیں جانتیں کہ اسلام کیا ہے؟ مسلم کو کیسا ہونا چاہیے؟ توحید کسے کہتے ہیں؟ رسول کیا ہیں؟ وہ کیوں آئے اور ان کی کیا تعلیم تھی؟ اگر وہ خود یہ سب نہیں جانیں گی تو کسی کو کیا بتاسکیں گی۔

اس سلسلے میں آپ کو اپنا بھی جائزہ لینا چاہیے کہ دینی معلومات کتنی ہیں اور اگر کوئی غیر مسلم یا مسلم لڑکی ہی آپ سے اسلام کے بارے میں کچھ پوچھ لے تو کیا آپ اس کا جواب دے سکیں گی۔ یاد رکھئے کہ ہم اپنی دنیا بنانے کے لیے کتنی محنت سے علم حاصل کرتے ہیں، مگر کیا آخرت بنانے کے لیے دین کا علم اسی محنت اور لگن سے حاصل کرتے ہیں۔ اگر نہیں تو یاد رکھئے ہم کچھ بھی بن جائیں اور دنیا میں کتنی ہی کامیابیاں اور اونچے عہدے حاصل کرلیں اگر اچھے مسلمان نہیں بنے تو تو سب بے کار ہے۔ کیونکہ اصل کامیابی تو آخرت کی کامیابی ہے۔

آپ کی بہن

مریم جمال

شیئر کیجیے
Default image
مریم جمال

Leave a Reply