کیمیلا ڈنمارکی

ڈنمارکی اخبار جولانڈ پوسٹن اور سیاسی و تہذیبی اداروں کی جانب سے رسول اکرمﷺ کی شان میں گستاخی کی کوششوں کے باوجود دین اسلام کی پُرنور کرنیں دنیا کے کونے کونے میں پہنچ کر روشنی کا پیغام دے رہی ہیں۔ شر میں سے خیر برآمد ہوا کہ نبی اکرمﷺ کی شان میں گستاخی کے واقعے نے بے شمار ڈنمارکیوں کو اسلام اور اس کے تہذیبی و ثقافتی پہلوؤں سے متعارف کرایا جس کے نتیجے میں اکثر لوگوں کو قبول اسلام کی توفیق ملی اور اسلام و پیغمبر اسلام کی حقیقت معلوم ہوئی نیز یہ معلوم ہوا کہ نبی اکرمﷺ تو رحمتِ عالم ہیں۔ کیمیلا ایک معلمہ ہیں۔ ان کی عمر ۳۴ سال ہے۔ انھوں نے بھی اسلام کی دولت کو اسی راستے سے حاصل کیا ہے۔

اسلام سے قبل کی اپنی حالت کے متعلق کیمیلا بتاتی ہیں کہ ’’میری زندگی بے لطف اور گناہوں سے بھری ہوئی تھی۔ میں نے محض ۱۷؍برس کی عمر میں اپنے والدین کے گھر کو چھوڑ دیا تھا۔ میں ہمیشہ رقص گاہوں کے چکر لگاتی رہتی تھی۔ متعدد نوجوان لڑکوں سے میرے تعلقات تھے۔ ان حالات میں جب کہ میری گناہ گارانہ زندگی عروج پر تھی میں نے خود بخود اسلام کا مطالعہ شروع کیا۔ مجھے ایسا شوق ہوا کہ اسلام کے متعلق جو بھی چیز مجھے مل جاتی میں اسے پڑھتی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مجھے اسلام کے اندر ہر چیز مل گئی۔ اسلام نے میرے تمام سوالوں کا جواب دے دیا۔ مجھے اسلام کی اس تعلیم نے سب سے زیادہ متاثر کیا کہ بنیِ آدم آپس میں سب برابر ہیں، نیز اسلام کی عدل اور اخوت کی تعلیم بھی مجھے بہت اچھی لگی۔ اسلام کا مطالعہ کرنے کے بعد ہی مجھ پر یہ منکشف ہوا کہ خالقِ کائنات کے وجود پر اعتقاد کتنا عظیم ہے۔ مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ میرے والدین ملحد ہیں۔ اگر وہ بھی مومن ہوتے تو اس خوشی و سکون کا مفہوم اور حقیقت ان کی سمجھ میں آتی جو اس وقت میری زندگی کا جزو ہے۔

قبول اسلام کے وقت مجھے کس قدر خوشی ہوئی اس کا اندازہ اس سے لگائیے کہ میں نے اس وقت اپنے اندر ایسی عجیب و غریب خوشگواری محسوس کی جو اس سے پہلے مجھے اپنی زندگی میں کبھی محسوس نہیں ہوئی۔ اسلام قبول کرکے جب میں اپنے گھر آئی تو مجھے اپنے والدین کے متوقع ردّ عمل سے خوف آرہا تھا اس لیے میں نے والد صاحب سے اپنے اسلام کو مخفی رکھا حالانکہ میں نے حجاب کا استعمال شروع کردیا تھا۔ جلد ہی انھوں نے اس صورت حال کو کافی حد تک قبول کرلیا۔ البتہ میرے دوستوں اور احباب کو میری اس تبدیلی سے زبردست صدمہ پہنچا جسے کم کرنے کے لیے میں نے آہستہ آہستہ اپنے ارد گرد کے ماحول کو اپنے نئے عقیدے کے سلسلے میں مطمئن کرنے کی کوشش شروع کردی، حجاب پہننے لگی، اسلامی عبادات و اعمال پر عمل پیرا ہوگئی اور نماز وغیرہ کی پابندی کرنے لگی۔ میں جب اسلام کے کسی عمل یا رکن کا التزام کرتی تھی تو میری خوشی میں اضافہ ہوجاتا تھا جب کہ میرے دوست میری اس خوشی و مسرت پر دم بخود رہ جاتے تھے خاص طور سے جب انھیں یہ معلوم ہوتا تھا کہ میری اس خوشی کا مصدر و ماخذ اسلام ہے۔

اسلام قبول کرنے کے بعد میرے والدین نے میری روز مرہ کی زندگی میں بہترین تبدیلیاں محسوس کیں کیونکہ اب میں ان کی اطاعت و فرماں برداری کرنے لگی تھی اور جو وہ چاہتے تھے اس میں ان کی بھر پور مدد کرنے لگی تھی۔ اتنا ہی نہیں میں مادی طور پر بھی ان کی مدد کرنے لگی تھی۔ ان کے لیے کھانا بنادیتی تھی حالانکہ اسلام سے پہلے میں نے کبھی ایسا نہیں کیا تھا۔ میری اس تبدیلی سے والدین کو بے حد خوشی ہوئی، اسی طرح میری دوستوں کو یہ خوشی ہوئی کہ اب میری زندگی میں سکون آگیا ہے۔

ڈنمارک میں مسلمان ہوکر رہنا کیسا ہے، اس کے بارے میں کیمیلا نے بتایا ’’میں نہیں سمجھتی کہ ڈنمارک میں مسلمان کی حیثیت سے رہنا مشکل ہے۔ مجھے ہی دیکھ لیجیے میں ڈنمارکی مسلمان ہوں، اپنے تمام اسلامی فرائض و واجبات کو انجام دیتی ہوں، اپنے سر پر اسکارف لگاتی ہوں اور کام بھی کرتی ہوں۔ میری نظر میں مشکل تو یہ ہے کہ عورت اپنا پردہ/ حجاب اتار پھینکے۔ اگرچہ یہ بات درست ہے کہ میں جب اسلامی لباس پہنے رہتی ہوں تو لوگ مجھے دیکھ کر حیرت اور تعجب کرتے ہیں لیکن میں جب تک اپنے اسلام سے خوش ہوں اس وقت تک یہ ساری چیزیں میرے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ قبول اسلام سے پہلے میں بھی اس مذہب کو اجنبیت کی نظر سے دیکھتی تھی بلکہ میں اسلام اورمسلمانوں کو ہی عجیب سمجھتی تھی۔

اسلام کے سائے میں اپنی زندگی کے اہم مواقع بیان کرتے ہوئے کیمیلا کہتی ہیں: ’’میں نے ایک ایسے خاندان کے صحن میں زندگی گزاری تھی جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتا تھا اور جہاں میں اور میرے والدین کو تباہ ہی ہونا تھا لیکن آج اسلام قبول کرنے کے بعد میری زندگی کے ایام انتہائی خوبصورت، خوشگوار اور اسلام کی عظیم دولت کی بدولت انتہائی شیریں ہوگئے ہیں۔

اپنے پہلے حمل کے دوران میں نے اللہ تعالیٰ سے قرب کی لذت کا مزہ چکھا اس لیے کہ دورانِ حمل میرا بچہ شدید خطرے سے دوچار تھا۔ میں ہر وقت ڈاکٹروں کی نگرانی میں تھی۔ ڈاکٹروں نے مجھ سے کہا کہ حمل غیر فطری ہے اور اس طرح کا حمل اکثر ناکام ہوجاتا ہے لیکن جب بچے کی ولادت فطری انداز میں ہوئی تو ڈاکٹروں نے کہا کہ ’’یہ تو معجزہ ہی ہوا‘‘ لیکن یہ راز ظاہر بیں آنکھوں پر کھلنے والا نہیں تھا۔ میں نے ان سے کہا: ’’میں نے اپنا رخ اس ہستی کی طرف کرلیا تھا جو زندگی بخشتی ہے، یعنی اللہ جلّ جلالہٗ۔ میں اس اللہ کا شکر ادا کرتی ہوں جس نے مجھے اور میرے بچے کو سہارا دیا۔‘‘

میں اب روز صبح نمازِ فجر کے بعد قرآن پڑھنے کی عادی ہوگئی ہوں اور اسلام کے تعلق سے جو چیزیں میرے ذہن میں اٹکی ہوئی تھیں وہ سب ختم ہوگئی ہیں۔ قرآن پڑھنے کے بعد میرے ذہن و دماغ میں اسلام کی صحیح تصویر فٹ ہوگئی۔ میں شادی سے بھی گھبراتی تھی کیوںکہ میں نے یہ سن رکھا تھا کہ اسلام میں مرد عورت کے ساتھ عجیب طرح کا معاملہ کرتے ہیں لیکن الحمدللہ میرا یہ تصور بھی غلط ثابت ہوا۔

میں ایک بات افسوس کے ساتھ کہوں گی کہ بیشتر مغربی حضرات مسلم عورت کو حیرت اور اجنبیت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس کو پاگل سمجھتے ہیں کہ وہ گھر اور اپنے بچوں کی دیکھ بھال کے لیے گھر میں پڑی رہتی ہے۔ یہ لوگ عورت سے یہی چاہتے ہیں کہ وہ بھی مرد بن جائے تاکہ دونوں برابر ہوجائیں۔ عورت کو مرد جیسا بنانے کی اس کوشش نے مغرب میں خاندان کو تباہ کردیا ہے جس کے انتہائی خوف ناک نتائج سامنے آرہے ہیں جبکہ اسلام میں عورت محفوظ اور قابلِ احترام ہے اور اس کے حقوق بھی پوری طرح محفوظ ہیں۔

(گفتگو یحییٰ ابو زکریا، المجتمع ۱۳؍اپریل ۲۰۰۷ء)

شیئر کیجیے
Default image
تنویر آفاقی

Leave a Reply