عجیب آدمی

ٹرین گیلے پلیٹ فارم کے ساتھ ساتھ رینگتی رہی، پھر ہلکے سے جھٹکے کے ساتھ رک گئی۔ علی اٹیچی اور ہینڈ بیگ اٹھائے کود کر گرم گرم ڈبے سے باہر آگیا۔ باریک، تیز بوندوں کی سوئیاں کالر کے نیچے اس کی گردن کو چھیدنے لگیں، وہ جلدی سے آہنی چھت کے نیچے ہوگیا۔

ٹرین خاصی لیٹ پہنچی تھی۔ اس نے گزرتے ہوئے ایک قلی کو روکا تو پتہ چلا کہ برانچ لائن کی ٹرین کوئی گھنٹہ بھر پہلے جاچکی ہے۔ اور بس … وہ بھی رات کو … ابھی وہ وہ زندہ رہنا چاہتا تھا۔

اب اسے پورے چودہ گھنٹے اس اجنبی شہر کے اجنبی پلیٹ فارم پر گزرانے تھے اور ان چودہ گھنٹوں میں ایک پوری رات بھی تھی۔ ادھیڑ عمر قلی وہیں سمٹا کھڑا تھا۔ اس کی آنکھیں سوچوں میں گم قلی پر جمی ہوئی تھیں۔ ’’صاحب باہر ہوٹل تک لے چلوں۔ اب رات تو آپ کو یہیں گزارنا ہوگی۔‘‘

علی نے گھبرا کی قلی کی آنکھوں میں جھانکا۔ صاف ستھری آنکھیں۔ ریا کاری کا کہیں شائبہ تک نہ تھا۔ سیدھا سادا آدمی لگتا ہے۔ دیکھنے سے تو ہر انسان سیدھا سادا ہی لگتا ہے لیکن آج کل آنکھیں بھی جھوٹ بولنا سیکھ گئی ہیں۔ چہرے انسان کے دل و دماغ کو فریب دینے پر قادر ہوگئے ہیں۔ اندر سے کچھ باہر نہیں آتا۔ سب کچھ باہر ہی باہر ہے۔ اس کی اٹیچی میں کافی قیمتی سامان تھا اور ہینڈ بیگ تو ایٹم بم تھا۔ زیورات، نقدی، قیمتی کپڑے وغیرہ۔ اس کی سالوں کی کمائی اپنی حیثیت کے مطابق جھپٹی ہوئی چھوٹی موٹی رشوت۔

’’نہیں بھائی، مجھے ہوٹل وغیرہ پسند نہیں ہے۔ بس یہیں لیٹ رہیں گے۔ رات ہی کی تو بات ہے۔‘‘

علی نے پاؤں اٹھا کر بینچ پر رکھ لیے اور کنکھیوں سے اٹیچی کو ٹٹولا۔ اٹیچی بالکل بینچ سے ملی ہوئی تھی اور ہینڈ بیگ اس کی گود میں رکھا تھا۔

قلی ابھی تک وہیں کھڑا تھا۔

’’صاحب رات میں سردی بڑھ جائے گی۔ آپ کے پاس اوپر اوڑھنے کو کوئی کپڑا بھی تو نہیں ہے۔‘‘

علی کو اپنی حماقت کا احساس ہوا۔ ٹرین اگر وقت پر آجاتی تو اس وقت وہ اپنے قصبے تک پہنچنے والا ہوتا۔ وہ الجھن میں پڑگیا۔ ہوٹل جاتا ہے تو اچھی خاصی رقم نکل جائے گی، اور اگر اسٹیشن کے باہر چارپائی لے کر رات گزارتا ہے تو پھر اس کے سامان کا کیا بنے گا۔ کھلے میدان سے کوئی بھی لے کر چلتا بنے۔ کون کون سے جتن سے اتنا ہوپایا ہے کہ اب بہن کی رخصتی کی نوبت آئی ہے۔

قلی ابھی تک وہیں رکا ہوا تھا۔

علی اسے گھورتا رہا۔

’’اس اجنبی کو مجھ میں کیوں اتنی دلچسپی ہے۔‘‘

سردی دھیمے دھیمے چوروں کی طرف اس کے جسم کی طرف اپنے ٹھنڈے ہاتھ بڑھا رہی تھی۔

قلی نے قدم بڑھایا، پھر رک گیا۔

’’صاحب میں چھ نمبر والی گاڑی دیکھ کر ادھر سے گزوں گا۔ سوچ لیجیے گا۔‘‘

علی نے ہینڈ بیگ سرہانے رکھا، ایک ہاتھ اٹیچی پر ٹکایا اور کمر سیدھی کرنے کی غرض سے بینچ پر دراز ہوگیا۔

دور سورج گہرے بادلوں کے آنچل سے شرمایا شرمایا جھانک رہا تھا۔ ابھی وقت زیادہ نہ ہوا تھا لیکن تاریکی اپنے پھن پھیلائے تیزی سے بڑھتی چلی آرہی تھی۔

علی کا ذہن بکھرنے لگا۔

’’صبح اس بینچ پر لوگوں کو ایک اکڑی ہوئی لاش ملے گی، اٹیچی اور ہینڈ بیگ غائب ہوگا۔ ہوسکتا ہے وہ لاش بالکل ننگی ہو، اس کے ارد گرد ہمدردی جتانے والوں میں سے کسی نے اس کے کپڑے اتار لیے ہوں۔‘‘

اسے برہنگی کا احساس ہوا اور وہ چھلانگ لگا کر اٹھ بیٹھا۔ زندگی نہ سہی موت تو کم از کم ڈیسنٹ (Decent) ہونی چاہیے۔ اٹیچی اور ہینڈ بیگ ابھی تک محفوظ تھا اور اس کے جسم پر کپڑے بھی موجود تھے لیکن بینچ کے نیچے سے یخ ہوا اس کی ریڑھ کی ہڈی کو سن کر چکی تھی۔

پلیٹ فارم پر آہستہ آہستہ خاموشی طاری ہونے لگی تھی۔ سودا سلف بیچنے والے اپنی عارضی دکانیں اور ٹھیلے ڈھانپ رہے تھے۔

’’ابھی کچھ دیر میں ہر طرف سناٹا چھا جائے گا اور رات کی مکمل اجارہ داری ہوگی۔ رات بہت خطرناک ہوتی ہے۔ ساری آفتیں اس کے دامن میں پناہ لیے آتی ہیں۔‘‘

اس نے اٹیچی پر اپنی گرفت قدرے نرم کی کیونکہ اس کی انگلیاں سن ہونے لگی تھیں۔

اس کا سہما ہوا ذہن گھر کو پلٹ گیا۔

’’ایک بڑا سا دالان اور اس کے سامنے اتنا ہی بڑا برآمدہ اور آگے صحن۔ برآمدے کے ایک کونے میں بچھی چارپائی پر ابا بیٹھے حقہ گڑگڑا رہے ہوںگے۔ ان کے ماتھے کی گہری جھرّیاں کچھ اور لٹک گئی ہوںگی۔ پریشان ہورہے ہوں گے کہ میں وقت پر نہیں پہنچا۔ اماں کو سڑکوں پر دن دہاڑے قتل و غارت، لوٹ اور ڈکیتی کی وادارتیں سنا سنا کر دہلا رہے ہوں گے۔

ابا کی فکروں سے کلی طور پر آزاد گاؤں کی لڑکیاں ڈھول پر شادی کے گیت گارہی ہوں گی۔ ان کے معصوم کنوارے قہقہوں سے فضا میں رنگ اور خوشبوئیں بکھر رہی ہوں گی اور ان لڑکیوں میں زرینہ بھی ہوگی اور زرینہ …

’’صاحب کیا خیال ہے؟‘‘ قلی اس کے بالکل قریب کھڑا اسے گھور رہا تھا۔

گرم گرم خوابوں میں شدید سردی کے ساتھ ساتھ خوف کی اَنی اتر گئی۔

’’یہاں تو رات گزارنا مشکل ہوگا۔ اگر کہیں سے ایک کمبل یالحاف لا دو تو بہت مہربانی ہوگی۔ میں ضمانتا اس کی قیمت رکھوا دوں گا۔ صبح واپس کردوں گا۔‘‘

قلی نے پورا منہ کھول کر ایک بھر پور زندہ قہقہہ لگایا۔

علی نے اتنا زور دار قہقہہ ایک عرصہ بعد سنا تھا۔ آج کے دور میں قہقہے بھی سہمے سہمے، خوفزدہ سے ہوکر رہ گئے ہیں۔

’’یہ پیچھے ہی میرا کوارٹر ہے۔ میرے ساتھ چلے چلو، ایک رات کی تو بات ہے۔‘‘

علی سہم گیا۔

’’ایک رات… اس سامان کے ساتھ… آج کل تو لوگ خالی ہاتھ رات کو باہر نہیں نکلتے۔‘‘ خوف کی رسیوں نے اس کے ایک ایک انگ کو جکڑ رکھا تھا۔

اس نے ایک بار پر پھر قلی کا جائزہ لیا۔

اتنا بے ساختہ، بچوں جیسا قہقہہ لگانے والا برا آدمی نہیں ہوسکتا۔ اس نے اپنی مجبوری کو سہارا دینے کی کوشش کی لیکن شک اور خوف کسی صورت ہار ماننے کو تیار نہ تھے۔

تعداد میں کم سہی لیکن سب اچھے انسان ابھی ختم تو نہ ہوئے ہوں گے۔ لیکن کسی پر بھروسہ اور وہ بھی اس قاتل دور میں اور وہ بھی رات کو۔ سرد، بے حس اور آفتیں پالنے والی رات… کیا کیا جائے؟

’’تم اکیلے رہتے ہوں؟‘‘

’’نہیں جی… میرے بیوی بچے ہیں… اللہ کا شکر ہے۔‘‘

سردی کی بے رحم لہریں ایک بار پھر علی کی ریڑھ کی ہڈی کے مہروں کے درمیان پنگ پانگ کھیلنے لگی تھیں، اس سے اپنی برہنہ لاش کے چہرے کی بے بسی اور بے حرمتی نہ دیکھی گئی۔

’’اب رسک لینا ہی ہوگا۔‘‘ علی اٹھ کھڑا ہوا۔

’’چلو میرے بھائی۔‘‘

ہینڈ بیگ علی کے ہاتھ میں تھا۔ قلی نے بڑھ کر اٹیچی اٹھالی۔ علی کا بڑھا ہوا ہاتھ واپس آگیا۔

پُل اتر کر، ٹوٹی ہوئی باؤنڈری وال سے نکل کر وہ ریلوے کوارٹروں کے سامنے تھے۔

قلی کی پہلی ہی دستک پر دروازہ کھل گیا۔

وہی صحن، اس کے آگے برآمدہ اور پیچھے ایک کمرہ۔ بالکل اس کے اپنے گھر جیسا۔ صرف سائز میں فرق تھا، یہ شہر تھا، زمین کم تھی۔ روزی کی تلاش میں دربدر انسانوں کے لیے اتنا رقبہ بھی غنیمت تھا۔

قلی نے اٹیچی کیس برآمدے میں ایک کونے میں رکھ دیا۔

چند لمحوں میں بستر تیار تھا اور علی کے جسم میں ہلکی ہلکی گرم لہریں سرسرانے لگیں۔ سردی سے جمے ہوئے ہاتھ پاؤں میں رینگتی ہوئی چیونٹیاں کم ہونے لگیں۔

قلی اس کی پائنتی پر بیٹھ گیا اور خالصتاً گھریلو قسم کی گفتگو ہونے لگی۔ بچے اور ان کی تعداد اور عمر،بیوی کی باربار کی بیماری۔

علی ہوں ہاں کرتا رہا لیکن اس کا ذہن دوسری طرف تانے بانے بن رہا تھا۔

’’رات کسی وقت موقع پاکر مجھے قتل کردیا جائے گا۔ صحن کچا ہے، زمین نرم ہے، کھودنے میں بہت کم وقت لگے گا۔ اڑوس پڑوس میں سے کسی نے مجھے اندر آتے نہیں دیکھا۔ اماں، ابا، بہن اور زرینہ زندگی بھر انتظار کرتے رہیں گے۔‘‘

کھانا کھاتے ہوئے اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے۔

’’اس میں زہر نہ ملا ہو۔ قلی بھی تو ساتھ کھا رہا ہے۔ ایک ہی روٹی سے نوالے لے رہے ہیں، سالن میں کوئی چکر نہ ہو۔‘‘

رات گہری ہونے لگی،قلی نے اسے اصرار سے چائے پلوائی اور شب بخیر کہہ کر اندر چلا گیا۔

علی لیٹ گیا۔ اس نے اٹیچی چارپائی کی پٹّی سے لگا لی اور ہینڈ بیگ تکیے کے نیچے رکھ دیا۔ وہ کافی دیر تک پھیلے ہوئے اندھیرے میں گھورتا رہا۔ نیند اس پر با ربار حملے کررہی تھی لیکن خوف اسے ہر بار جگا دیتا۔ نجانے کب تک یہ آنکھ مچولی جاری رہی۔ اسے حیرانی اس بات پر تھی کہ ایک اجنبی اسے اپنے گھر کیوں لایا ہے؟ اپنے رزق میں اس کا حصہ ڈالا ہے اور اسے اپنے گرم گھر کی پناہ گاہ پیش کی ہے۔ انسان بدل گئے ہیں یا وہ کوئی خواب دیکھ رہا ہے۔

کئی بار اس کی آنکھ لگی۔ بس ایسے کہ سوتے میں جاگ رہا ہو۔ کسی وقت کوئی ٹرین وسل دیتی تو وہ ہڑبڑا کر اٹھ جاتا۔ ہینڈ بیگ کو ٹٹولتا، اٹیچی کیس پر ہاتھ پھیر کر تسلی کرتا اور کھلے دروازے سے اندر کمرے کی تاریکی میں کسی ہلچل، کسی سازش کی بو سونگھنے کی کوشش کرنے لگتا۔

اب وہ پوری طرح سے جاگ رہا تھا، سیاہ رات نے ہر چیز کو ڈھانپ رکھا تھا، اس نے کروٹ لے کر پھر تاریک کمرے کو ٹٹولنے کی کوشش کی۔ ایک جگہ – دو آنکھیں- اندھیرے میں چمکی ہوئی کھلی آنکھیں اسے گھور رہی تھیں۔ اس کے اندر ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ جسم کی ایک ایک نس پھڑکنے لگی۔ کنپٹیوں میں بچھو ڈنک مارنے لگے۔ اس کا ہاتھ ہینڈ بیگ کی طرف بڑھا۔ دوسرا ہاتھ اٹیچی کی طرف۔ وہ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر بھاگ لینا چاہتا تھا۔

’’صاحب- کیا بات ہے؟ کسی چیز کی ضرورت تو نہیں؟‘‘

طوفان تھم گیا۔

’’نہیں سب ٹھیک ہے۔ اجنبی جگہ کی وجہ سے نیند نہیں آرہی ہے۔‘‘

قلی نے ہلکا سا قہقہہ لگایا۔

’’آجائے گی۔ بعض دفعہ زیادہ تھکن کی وجہ سے بھی نیند نہیں آتی۔‘‘

چند لمحوں کے بعد قلی کے خراٹے گونجنے لگے۔

پھر اس کی آنکھ ایسی لگی کہ بس… نیند میں ٹیڑھے ترچھے، الٹے سیدھے خواب اس پر حملہ آور ہوتے رہے لیکن وہ سویا رہا۔

صبح کی کرنوں نے اسے سہلایا تو وہ جاگ گیا۔کمرے سے نکلتی ہوئی چائے کی خوشبو اس کے نتھنوں پر دستک دینے لگی۔ اندر سے بچوں کے بولنے کی آوازیں بھی آرہی تھیں۔

قلی نے آواز لگائی: ’’منھ ہاتھ دھولو صاحب! ناشتہ تیار ہے۔‘‘

اس نے اٹھ کر ایک طرف رکھے لوٹے سے ٹھنڈے پانی کے دوچار چھینٹے مارے اور کرتے کے دامن سے منھ پونچھ لیا۔ قلی ایک ہاتھ میں چائے کا مگ اور دوسرے ہاتھ میں چنگیر میں گرم گرم پراٹھے لیے کھڑا تھا۔، تھوڑی دیر بعد ناشتے سے فارغ ہوکر قلی بھی باہر آگیا۔ اس نے اٹیچی اٹھالی۔

’’چلو صاحب، گاڑی تیا رہوگی۔‘‘

علی ہزار منہ سے قلی کا شکریہ ادا کرنا چاہتا تھا لیکن ہزا رکوشش کے باوجود روایتی جملے اس کی زبان پر نہیں آرہے تھے، اس نے کئی بار جیب میں ہاتھ ڈالا کہ کچھ رقم اسے دے دے لیکن ہاتھ آگے نہیں بڑھ رہے تھے۔

وسل ہوئی۔ علی نے جلدی سے چند نوٹ نکال کر قلی کی طرف بڑھائے۔ قلی نے بڑھا ہوا ہاتھ واپس دھکیل دیا۔

’’نہیں جی! آپ تو ہمارے مہمان تھے۔‘‘

ٹرین سرکنے لگی، قلی ہاتھ ہلا رہا تھا، علی کا ہاتھ بھی ہلنے لگا، پہلے آہستہ آہستہ پھر زور زور سے، آہستہ آہستہ قلی فاصلے اور وقت کی دھند میں اوجھل ہوگیا۔

علی زندگی بھر پریشان رہا اور یہ عجیب آدمی اس کے ذہن کو زندگی بھر کھجاتا رہا۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد احمد

Leave a Reply