BOOST

غزل

ایک چہرہ نگاہوں میں ہے آج بھی

ہر قدم اس کی راہوں میں ہے آج بھی

کھینچ لیتی ہے چپکے سے اپنی طرف

ایک لذت گناہوں میں ہے آج بھی

کچھ دیے تو جلے ہیں مگر، روشنی

تیرگی کی پناہوں میں ہے آج بھی

راس آتا نہیں ہے خوشی کا سفر

زندگی غم کی بانہوں میں ہے آج بھی

آسماں لے گا ظلم و ستم کا حساب

کچھ اثر دل کی آہوں میں ہے آج بھی

آستینوں میں ہتھیار رکھتا ہے جو

وہ مرے خیر خواہوں میں ہے آج بھی

گھر سے نکلو نہ خالدؔ، ہر اک آدمی

خوف و دہشت کی بانہوں میں ہے آج بھی

شیئر کیجیے
Default image
خالدؔ رحیم

تبصرہ کیجیے