زمانے کا تغیر

دکان پر گاہکوں کا ہجوم تھا۔ ہر شخص اپنا راشن کارڈ تھامے چینی چینی کی رٹ لگا رہا تھا۔ دھکم پیل کا یہ عالم تھا کہ نوجوان بوڑھوں کو گرا کر، مرد عورتوں اور بچوں کو پیچھے دھکیل کر اور بچے بڑوں کی ٹانگوں سے گزر کر دکان دار تک پہنچتے اور راشن لے کر انہی راستوں سے لوٹتے تو ان کے چہروں پر فتح مندی کی مسکراہٹ بکھر جاتی، جسے دیکھ کر پیچھے رہ جانے والے ایک زور دار نعرہ مار کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتے۔ یوں راشن کا حصول جنگ و جدال کے منظر میں بدل جاتا۔ دکاندار بار بار انہیں قطار بنانے کی ترغیب دیتا لیکن جوشِ جذبات قطاروں کا پابند کہاں ہوسکتا ہے۔ ہاں ایک شخص اس تمام ہنگامے سے الگ تھلگ ہاتھ میں راشن کارڈ تھامے دکان دار پر نظر جمائے یوں خاموش کھڑا تھا، جیسے دکان دار کو ہپناٹائز کررہا ہو لیکن گاہکوں کے نرغے میں بری طرح گھرے ہوئے دکاندار کو اس کی طرف متوجہ ہونے کی فرصت ہی کہاں تھی۔ میں نے جب اس کے چہرے پر بے بسی اور نگاہوں میں التجا دیکھی تو بڑھ کر پوچھ ہی لیا کہ حضرت آپ حصولِ رزق کی اس تگ و دو سے بے نیاز یوں ایک طرف کیوں کھڑے ہیں۔ کہنے لگا کہ دکاندار کو بھی تو آخر ہر گاہک کی طلب کا احساس ہونا چاہیے۔ میں نے کہا جناب اس وقت تو اس کی آنکھیں اپنے مال پر اور کان گاہکوں کی آواز پر لگے ہوئے ہیں۔ وہ نگاہیں اس وقت اٹھائے گا جب اس کا مال ختم ہوجائے گا اور راشن ختم ہونے کے بعد آپ کی التجائے نگاہ کسی کام نہ آئے گی۔ آگے بڑھئے اور اس ہنگامے کا ایک کردار بن جائیے۔ اس شخص نے بڑے اعتماد سے جواب دیا کہ جو شخص میری نگاہِ التجا کو نہیں سمجھتا میں اس کے سامنے اپنی زبان کو شرمندہ نہیں کرسکتا۔

اس شخص کی یہ بات سن کر میں وقتی طور پر تو خاموش ہوگیا لیکن میرا ذہن سوچ کے تانے بانے بنتا رہا کہ یہ شخص زمانے کی رفتار، وقت کی عادت اور انسانوں کے موجودہ رویوں سے کس قدر مختلف ہے۔ دنیا کی ہر جاندار اور بے جان مخلوق احتیاج اور ضرورت کے چنگل میں گرفتار ہے جس نے حصول و طلب کے مختلف طریقے اپنا رکھے ہیں۔ طاقت بڑھ کر چھین لیتی ہے، خوشامد نہایت خوش اسلوبی سے اپنا کام نکالتی ہے۔ الفاظ کے معنی ڈرامے رچا کر جیبیں خالی کرالیتے ہیں۔ کچھ لوگ انسانیت کے نام پر نقب لگالیتے ہیں۔ بھکاری بھی خدا کے نام پر اپنی گدائی کا بھرم رکھ لیتے ہیں لیکن مفلس اور خود دار لوگ اپنی بے نوائی کو نگاہوں میں سجا کر کسی علامہ الغیوب کے منتظر رہتے ہیں۔ یقینا اس شخص نے خود کو حالات کے خوفناک تھپیڑوں کے حوالے کردیا ہے۔ اسے قدم قدم پر شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہوگا۔ مسلسل ناکامیاں انسان کو زود حس بنادیتی ہے۔ زودِ حسی ایک ایسا محدب عدسہ ہے جو ہر قسم کے طرزِ سلوک کو نمایاں کرکے دکھاتا ہے۔ جو معمولی اشارے کنائے عام انسانوں کی نگاہِ احساس سے پوشیدہ رہتے ہیں انہیں یہ عدسہ خوب بڑا کرکے پیش کرتا ہے۔ زودحس انسان ان پر مزید کڑھتا ہے۔ اس کے زخم دل پر لگنے والی مسلسل چوٹیں اسے پاش پاش کردیتی ہیں اور وہ اپنے پارئہ دل کو سنبھالتے سنبھالتے نڈھال ہوجاتا ہے۔ وہ آپ اپنا تماشائی بن جاتا ہے۔ اپنے بدن پر رنج و ذلت کا لبادہ اوڑھے، عینک چڑھائے ہر کنویں پر پہنچتا ہے لیکن پیاسا ہی لوٹ آتا ہے۔

کسی زمانے میں خاموش فلموں کا دور دورہ تھا۔ لوگ صرف چہرے کے تاثرات، ہاتھوں کی حرکات و سکنات اور نگاہوں کے اشاروں سے دل کی بات سمجھ لیتے تھے۔ وقت کے ساتھ بولنے والی فلموں کا دور آیا، پھر بھی لطیف جذبے تاثرات کی شکل میں ہی اپنا مدعا بیان کرتے رہے۔ الفاظ کم اور اداکاری زیادہ ہوتی لیکن اب یہ حال ہے کہ محبت کا اظہار بھی دہاڑتے ہوئے الفاظ اور لہراتے ہوئے بازوؤں سے کیا جاتا ہے۔ کبھی خاموشی کو نیم رضا تصور کیا جاتا تھا۔ اب اسے انکار کا نام دیا جاتا ہے۔ پہلے لوگ خاموش آدمی کو صاحبِ علم سمجھتے تھے اب گفتار محفل کی زینت بنی بیٹھی ہے۔ پہلے کردار محفوظ کیے جاتے تھے اب تقریریں تاریخ کا حصہ بنتی ہیں۔ آخر کیوں؟ میں نے اس تغیر پر بہت غور کیا تو ایک ہی نتیجے پر پہنچا کہ تب نگاہیں دل کے فیصلے کی محتاج تھیں اور دل نگاہوں کے اشاروں کا منتظر۔ دل کے تقاضے نگاہوں میں رقصاں ہوتے اور نظروں کا تجسس دل کی لیبارٹری میں فیصلہ کن قوت بنتا۔ یہ ربطِ دل و نظر ہی انسان کی کل کائنات تھی۔ آج کے انسان نے آنکھوں کا رابطہ دل سے توڑ کر دماغ سے جوڑ لیا ہے جس میں مصلحتیں اور مفاد پلتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب نگاہوں میں مفاد کی التجا ہوتی ہے جسے دماغ کی مصلحت خاطر میں نہیں لاتی۔ نتیجتاً دلوں کے ساتھ آنکھیں بھی پتھرا کر رہ گئی ہیں اور ہوس نے لوٹ کھسوٹ کے لیے دست و بازو کو اپنا راہنما کرلیا ہے۔

مختلف قوموں نے اپنی آنکھوں پر اپنے اپنے خطوں کے رنگ چڑھا رکھے ہیں۔ کہیں نیلے پانیوں اور سرسبز وادیوں نے آنکھوں کو نیلا اور سبز رنگ عطا کیا ہے، کہیں بھوری، سرخ اور گیروی مٹّی نے آنکھوں کو شربتی، بادامی اور سیاہ رنگ بخشا ہے لیکن التجا کا ایک ہی رنگ ہے جو ان سب رنگوں پر چھا جاتا ہے۔

سچائی صدیوں سے اس عورت کی طرح ہے جس کی عمر بیت چکی ہے، جس کی مانگ اجڑ چکی ہے، جس کی گود ویران ہے اور جس کا کوئی طلبگار نہیں۔ وہ چہرے پر بے بسی اور نگاہوں میں التجا لیے ہر گزرنے والے کو دیکھتی ہے، ہر ایک کا دامن پکڑنے کو دوڑتی ہے، ہر انسان سے اور وقت کے ہر دھارے سے رشتہ جوڑنے کی کوشش کرتی ہے لیکن لوگ اس سے یوں بھاگتے ہیں جیسے وہ کوئی بدروح ہو۔

یہ التجا بھی کیا چیز ہے جو کبھی لبوں سے نکلتی ہوئی فریاد بن جاتی ہے اور کبھی اٹھے ہوئے ہاتھوں کی دعا، یہ کبھی چہرے پر اپنا رنگ جماتی ہے اور کبھی نگاہوں کو اپنا مسکن بناتی ہے۔ مفلس اور قلاش جسموں پر لٹکتے ہوئے چیتھڑے بھی التجا کا اشتہار ہیں۔ التجا اندھوں کی لاٹھی ہے۔ لائبریریوں کی الماریوں میں سجی ضخیم کتابیں،عدالتوں کے کٹہروں میں فیصلے کی امید میں کھڑے ہوئے ملزم، شدید بارشوں میں کھلے میدانوں میں گڑے ہوئے خیمے اور قبروں کے اندر پڑے ہوئے مردہ انسان اپنی اپنی نگاہوں پر التجا کے رنگ لیے کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔

میں التجاؤں کے دیس میں پھرتا پھراتا پھر اسی سنگم پر آگیا جہاں میری ملاقات دوبارہ اسی شخص سے ہوگئی۔ اس دفعہ اس کے چہرے پر سلوٹیں کچھ اس انداز سے پھیل چکی تھیں جیسے کینوس پر کسی اناڑی مصور کا عمل۔ میں نے اس سے پوچھا کہ حضرت اب آپ کیسے ہیں؟ سوال سن کر اس کے چہرے پر کرب کا رنگ مزید گہرا ہوگیا۔ کہنے لگا کہ زمانے کی ٹھوکروں میں ہوں۔ میں چاہتا ہوں کہ مجھے ہر چیز بے طلب مل جائے لیکن طلب کرنے والے وہی چیز اڑالے جاتے ہیں اور میں دیکھتا رہ جاتا ہوں۔ لوگ میرا مذاق اڑاتے ہیں، دوست مجھ پر ہنستے ہیں، میں نے کہا کہ آپ نے خود ہی تو اپنی زندگی کے کھیت میں خاموشی کا بیج بویا ہے۔ اب محرومیوں کی فصل کاٹیے۔ کہنے لگا کہ میں نے تو کتابوں میں پڑھا ہے کہ اشکوں کی پکار پر دلوں کی دنیا دگر گوں ہوجایا کرتی تھی۔ آپ قدیم زمانے کی بات کرتے ہیں۔ میں نے کہا، اب تو آوازوں کے شور نے خاموشیوں کا دامن تار تار کردیا ہے۔ اپنا حق بھی وہی وصول کرسکتا ہے جو سب سے بلند آواز ہو، اس ماحول میں آپ معاشرے کے لمبے کانوں اور بند آنکھوں کے سامنے التجائے نگاہ کے دیپ روشن کیے محوِ سفر ہیں۔ اس نے نہایت مایوس کن لہجے میں جواب دیا کہ میرا عمل غلط نہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ دور کائنات کا دورِ شام ہے۔ زندگی کے ٹھوس حقائق اور روشن اقوال غفلت کی گرد میں یوں پناہ گزیں ہوچکے ہیںجیسے سرِ شام پرندے اپنے اپنے گھونسلوں میں دبک جاتے ہیں۔ دن کے اجالے میں لوگ نگاہوں میں تیرنے والے تاثر کو بھی دیکھ لیتے ہیں لیکن جب رات کی سیاہی آنکھوں کو اندھا کردیتی ہے تو آوازیں کانوں سے اپنا ربط بڑھا لیتی ہیں۔ نہ جانے کب صبحِ نو کی ولادت ہوگی۔ لوگ خواب گراں سے جاگیں گے اور نگاہوں کو روشنی اور التجاؤں کو پذیرائی نصیب ہوگی۔

شیئر کیجیے
Default image
اقبال انجم

Leave a Reply