نئی جہت

سوچ کو نئی جہتیں دیجیے!

بہت سی باتیں ہم دوسروں سے سیکھتے ہیں۔ ان میں سے بعض بالکل بے سروپا ہوتی ہیں۔ ان کو قبول کرنے کا کوئی معقول جواز نہیں ہوتا۔ پھر بھی ہم آنکھیں بند کرکے دوسروں کی پیروی میں ان پر زندگی بھر عمل کرتے رہتے ہیں۔

میری ایک جاننے والی خاتون نے تین نسلوں تک جاری رہنے والے ایسے ہی ایک سلسلے کی کہانی سنائی تھی۔وہ کہتی ہے کہ ایک بار ’’میں نے اپنی ایک سہیلی کو کھانا پکاتے ہوئے دیکھا تھا۔ مرغی کو دیگچی میں ڈالنے سے پہلے اس نے ایک چھوٹا سا ٹکڑا کاٹ کر ٹوکری میں پھینک دیا۔ میں نے سبب پوچھا تو کہنے لگی کہ اس کی ماں مرغی پکاتے وقت ہمیشہ یہی کرتی تھی۔ مجھے یہ سن کر بہت تعجب ہوا۔ اپنا تجسس ختم کرنے کی خاطر میں نے اپنی سہیلی کی ماں کو فون کیا اور اس عادت کی وجہ پوچھی۔ جواب میں انھوں نے بھی کیا’’میں نے اپنی ماں کو ہمیشہ ایسا ہی کرتے دیکھا تھا۔‘‘

’’یہ جواب سن کر میری تسلی نہ ہوئی، چنانچہ میں سہیلی کی نانی سے ملنے اسی شام اس کے گھر چلی گئی۔ وہ بزرگ خاتون ٹیلی ویژن سے دل بہلا رہی تھیں۔ مجھے دیکھ کر بہت خوش ہوئیں، بلائیں لینے لگیں۔ میں نے کہا پہلے مجھے یہ بتائیے کہ آپ مرغی پکاتے وقت اس کا ایک ٹکڑا کیوں کاٹ کر پھینک دیا کرتی ہیں۔

’’میری بات سن کر وہ ہنسیں۔ کہنے لگیں اصل میں بات یہ ہے کہ میں ایک چھوٹی دیگچی میں کھانا پکایا کرتی تھی۔ مرغی اکثر اس میں پوری نہ آتی تھی۔ لہٰذا میں اس کا ایک آدھ ٹکڑا الگ کردیتی تھی۔‘‘

یہ محض ایک واقعہ ہے۔ آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ زندگی کے کئی معاملات میں ہم اندھا دھند دوسروں کی پیروی کرتے ہیں۔ کبھی ایک پل رک کر یہ نہیں سوچتے کہ جو کچھ ہم کررہے ہیں، اس کا جواز کیا ہے؟ اور کبھی کبھی یہ باتیں اندھا عقیدہ تک بن جاتی ہیں جس سے نکلنا دشوار ہوتا ہے۔

دوسروں سے ملنے والی معلومات کو بلاتامل قبول کرنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ ہم نے اپنی فہم و فراست سے کام لینا چھوڑ دیا ہے۔اس کے برخلاف ہم اپنی سوجھ بوجھ سے کام لیں، اپنے ذہن کو اچھی طرح استعمال کریں تو زندگی کے بہت سارے امکانات ہمارے سامنے آتے ہیں اور زندگی میں نکھار پیدا ہوجاتا ہے۔

لکیر کی فقیری

کئی سال پہلے ہم نے یہ دیکھنے کے لیے ایک تجربہ کیا کہ لوگ اپنے مسائل کا رد عمل کس طرح دیتے ہیں۔ ہم نے اپنے ایک ساتھی کو بازار میں کھڑا کردیا۔ اس نے ایک راہگیر خاتون کو متوجہ کیا اور کہنے لگا کہ اس کے گھٹنے میں موچ آگئی ہے اور مدد کی ضرورت ہے۔ اس نے خاتون سے درخواست کی کہ وہ قریبی میڈیکل اسٹور سے اس کو گھٹنے پر باندھنے کے لیے الاسٹک پٹی لادے۔

اسٹور والے کو ہم نے پہلے ہی سمجھا رکھا تھا کہ جو کوئی پٹی لینے آئے تو اس سے کہے کہ الاسٹک پٹیاں ختم ہوگئی ہیں۔ یکے بعد دیگرے میرے ساتھی نے پچیس راہ گیروں کو میڈیکل اسٹور سے الاسٹک پٹیاں لانے بھیجا۔ دکاندار نے ان سب کو وہی جواب دیا اور وہ سب کے سب منہ لٹکائے واپس آگئے۔ ان میں سے کسی نے بھی میڈیکل اسٹور والے سے یہ نہ پوچھا کہ بھئی الاسٹک پٹی دستیاب نہیں تو کیا کسی اور پٹی سے کام چل جائے گا۔ گویا ان سب کے ذہن میں مسئلے کا ایک ہی حل تھا۔ ان کا ذہن متبادل سوچنے پر آمادہ نہ تھا۔ یہ تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ جب لوگ ایک ہی حل پر ساری توجہ صرف کردیں تو پھر وہ دوسرے حل تلاش کرنے میں ناکام رہتے ہیں جو زندگی میں ناکامی کا سبب ہوتا ہے۔

سوچ کا جال

میں بچپن میں دادی اماں کی یہ شکایت سنا کرتا تھا کہ ان کے سر میں کوئی سانپ پھنس گیا ہے اور وہ سردرد کا باعث بنتا ہے۔ ان کو کئی ڈاکٹروں کے پاس لے جایا گیا۔ سب ڈاکٹروں کی ایک ہی رائے تھی کہ دادی اماں کی بات بالکل نامعقول ہے اور وہ بڑھاپے کو اس کی وجہ قرار دیتے تھے۔

دادای اماں کی عین وفات کے وقت طبی معائنے سے معلوم ہوا کہ ان کے دماغ میں رسولی تھی۔ ہمارا سارا خاندان یہ سن کر بہت پریشان ہوا، لیکن ان ڈاکٹروں کو کون پوچھ سکتا تھا، جو ایک ہی راگ الاپے جارہے تھے کہ سر میں سانپ نہیں گھس سکتا۔ دادی اماں بوڑھی ہوگئی ہیں، اس لیے بہکی بہکی باتیں کررہی ہیں۔

اس واقعہ کے برسوں بعد تک میں سوچتا رہا کہ ہم کس طرح ایک جال میں پھنس جاتے ہیں اور پھر اس سے نکلنے سے انکار کرتے ہیں۔ ایک عمر رسیدہ خاتون جب کھوپڑی میں سانپ ہونے کی شکایت کررہی تھی تو ڈاکٹروں نے بس یہی سوچا کہ بڑھیا کا دماغ چل گیا ہے۔ اپنے طور پر ہم بھی سمجھتے رہے کہ یہ ڈاکٹر صاحبان اپنے شعبے کے ماہر ہیں لہٰذا ان کی تشخیص ہی درست ہے۔ نہ تو ڈاکٹروں کا خیال کسی اور طرف گیا اور نہ ہی ہم نے ڈاکٹروں کی اہلیت پر شک کیا اور اذیت دادی اماں اٹھاتی رہیں۔

عادت کی غلامی

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہم جن معاملات کے عادی ہوجائیں، ان میں سوچ وچار بند کردیتے ہیں۔ ایک مرتبہ میں نے ایک اسٹور میں کیشئر کو اپنا کریڈٹ کارڈ دیا۔ اس نے دیکھا کہ کارڈ پر میرے دستخط نہ تھے۔ دستخطوں کے لیے اس نے کارڈ مجھے واپس دیا۔ پھر اس نے کارڈ لے کر مشین میں ڈالا اور مشین سے نکلنے والا فارم مجھے دستخط کرنے کے لیے دیا۔ میں نے دستخط کردیئے۔ کیشئر دستخط ملانے کے لیے کارڈ اور فارم کو دیکھنے لگا۔ یہ احمقانہ حرکت تھی۔ میں نے دونوں دستخط اس کے سامنے کیے تھے لیکن وہ غریب دستخط ملا کر دیکھنے کا اس قدر عادی ہوچکا تھا کہ اس نے یہ سوچنے کی تکلیف بھی گوارا نہ کی کہ دستخط تو ابھی اس کے سامنے ہی کیے گئے تھے۔

مانوس امور میں سوچ وچار معطل کرنے کی عادت آج کی دنیا میں بہت خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ جنوری ۱۹۸۲ء میں ائیر فلوریڈا کا ایک طیارہ واشنگٹن میں گر کر تباہ ہوا تھا۔ اس حادثے میں ۷۸ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ طیارہ واشنگٹن سے فلوریڈا تک معمول کی پرواز پر تھا۔ اس کا عملہ تجربہ کار تھا۔ پھر غلطی کہاں ہوئی؟ جب اس حادثے کے اسباب کی تحقیقات ہوئیں تو پتہ چلا کہ پرواز سے پہلے پائلٹ اور اس کے معاون نے معمول کے مطابق چیک لسٹ کا عمل کیا تھا۔ بظاہر انھوں نے یہ کام دھیان سے کیا تھا، مگر بعد میں شہادت ملی کہ اس معاملے میں ان سے کوتاہی ہوئی تھی۔ چنانچہ انھوں نے طیارے کے انجن کا انٹی آئس سسٹم اچھی طرح نہ چیک کیا تھا۔ وہ جنوب کے گرم علاقے کی طرف پرواز کرنے والے تھے مگر راستے میں برفباری ہورہی تھی۔ برف طیارے کے پروں پر جمع ہوتی رہی۔ چنانچہ ٹیک آف کے وقت طیارے کے کریش ہونے کی وجہ یہ تھی کہ پائلٹ اور اس کا معاون انٹی آئس سسٹم چالو کرکے برف کے مسئلے سے نہ نمٹ سکے تھے۔

اسباب کی تہ تک پہنچیں

اکثر لوگوں کو عمومی بیانات کی عادت ہوتی ہے۔ پسند وناپسند اور اپنے مسائل کی وضاحت بھی وہ اسی طور پر کرتے ہیں۔ مثلاً کوئی دوست اعلان کردیتا ہے کہ سردیوں کا موسم اس کو پسند نہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بہت عمومی سا بیان ہے۔ ممکن ہے کہ کسی قدر جزئیات سے کام لینے پر اس کو معلوم ہوجائے کہ دراصل سرد موسم اس کو ناپسند نہیں، بلکہ سردی کی وجہ سے ڈھیر سارے کپڑوں کا بوجھ لادنے پر اس کو کوفت ہوتی ہے۔ چنانچہ اس کی موٹر میں اچھا سا ہیٹر لگ جائے یا وہ زیادہ گرم کپڑے پہننا شروع کردے تو ممکن ہے کہ اس کا رویہ بدل جائے اور سردیوں کے دن اس کو اچھے لگنے لگیں!

ایک اور مثال لیجیے۔ میاں بیوی ایئر کنڈیشنرخریدنے کے مسئلے پر گفتگو کررہے ہیں۔ بیوی کہتی ہے کہ وہ گرمی سے تنگ ہے، لہٰذا ائیر کنڈیشنر خریدنا بہت ضروری ہے۔ میاں کا موقف یہ ہے کہ دفتر میں ایئر کنڈیشنر کی وجہ سے اس کو زکام ہونے لگتا ہے اس لیے وہ گھر کے لیے ایئر کنڈیشنر خریدنے سے ہچکچا رہا ہے۔

شاید اس جوڑے کے مسئلے کا مناسب حل یہ ہے کہ میاں دفتر میں ہلکا سا سویٹر پہننا شروع کردے اور گھر کے لیے وہ کولر خرید لیں۔

جس بات پر ہم زور دے رہے ہیں، وہ یہ ہے کہ جب کبھی آپ بے اطمینانی کی کیفیت سے دوچار ہوں تو اس کا خصوصی سبب تلاش کرنے کی کوشش کریں۔ اس طرح آپ اس مسئلے سے زیادہ موثر انداز میں نمٹ سکیں گی۔

نئی جہتوں کی تلاش

لوگ اکثر اوقات خواہشات کی دلدل میں پھنس جاتے ہیں۔ وہ اس شے کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں جو ان کی رسائی سے باہر ہے اور جو کچھ حاصل ہوسکتا ہے اس کو بھول جاتے ہیں۔

چند روز پہلے میرے ایک موسیقار دوست نے مجھے اپنے ان گیتوں کے بارے میں بتایا جن کو وہ طویل عرصے سے مکمل نہیں کرسکا تھا۔ وہ احساس زیاں کا شکار تھا۔ پھر اس نے اپنے مسئلے پر دوبارہ غور کیا۔ پہلے اس کا خیال تھا کہ وہ ادھورے گیت مکمل کرنے کے نااہل ہے لیکن اب اس نے اعتراف کیا کہ وہ نئی دھنیں بنانے کی شاندار صلاحیت کا مالک ہے۔ اس اعتراف کے بعد اس نے ایک دوسرے موسیقار دوست کو ساتھ ملایا۔ دونوں مل کر بہت سا کام کرنے لگے۔

مسئلے کو ایک ہی پس منظر میں نہ دیکھنا چاہیے۔ اس کو مختلف سیاق و سباق میں رکھ کر دیکھنا چاہیے۔ یہ تکنیک کئی ڈرامائی فائدوں کا سبب بن سکتی ہے۔ مثال کے طور پر اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ جسمانی تکلیف ہمیشہ پریشان کن ہوتی ہے۔

میں نے دوستوں کے ساتھ مل کر ایک تجربہ کیا تھا۔ ہم نے میجر سرجری کے چند مریضوں کو سکھایا کہ وہ اپنی تکلیف کو مختلف سیاق و سباق میں دیکھیں۔ ہم نے ان سے کہا کہ وہ یوں سوچیں کہ جیسے وہ فٹ بال کھیل رہے ہیں یا کسی ڈنر پارٹی میں جانے کی تیاری کررہے ہیں۔ فٹ بال کھیلتے ہوئے چھوٹی موٹی چوٹ آجائے تو اس پر کوئی توجہ نہیں دیتا۔ اس طرح ڈنر پارٹی کی تیاری کی جلدی میں چھوٹی موٹی خراش نظر انداز کردی جاتی ہے۔ اس کے برخلاف آپ کوئی ڈل قسم کی دفتری رپورٹ لکھ رہے ہوں اور کاغذ تراش سے ہلکی سے خراش آجائے تو فوراً موڈ بگڑ جاتا ہے۔ تکلیف زیادہ ہوتی ہے اور رپورٹ فرش پر پٹخ دینے کو جی چاہتا ہے۔ اس قسم کی مثالیں بیان کرکے ہم نے مریضوں کو جتلایا کہ تکلیف ناگزیر نہیں ہے۔ ان کا نقطہ نظر بدل جائے تو تکلیف کی شدت بدل سکتی ہے۔

ہسپتال کا اسٹاف ہمارے تجربے سے بے خبر تھا۔ چنانچہ سرجری کے وقت جو اسٹاف نے مریضوں کو درد کا احساس ختم کرنے والی دوائیں دیں تو جن مریضوں کی ہم نے تربیت کی تھی، ان کو دوسرے مریضوں کے مقابلے میں بہت کم دواؤں کی ضرورت پڑی۔ یہی نہیں، بلکہ وہ ہسپتال سے فارغ بھی جلد ہوگئے۔

بات یہ ہے کہ ہم سب کو ممکنہ حد تک تخلیقی اورشعوری انداز میں زندگی بسر کرنی چاہیے۔ نئی معلومات اور نئے تناظر کے لیے ذہن کے دریچے کھلے رکھنے چاہئیں۔ اس طرح ہم اپنے مصائب اور ناکامیوں کی شدت کم کرسکتے ہیں۔ اپنی زندگی کو زیادہ خوبصورت اور پُر مسرت بناسکتے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
قاضی جاوید

Leave a Reply