توجہ چاہتے ہیں جسم کے یہ حصے

آرائش حسن کے دوران ہم بعض اعضاء کو نظر انداز کردیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وقت سے پہلے ہی بدن پر جھریاں پڑنے لگتی ہیں۔ چیک اپ اسپیشلٹ ٹینا چٹرجی اس سلسلے میں جو کچھ کہتی ہیں اسے تفصیل سے پیش کیا جارہا ہے۔

دانت

دانت عمر کا راز افشا کرتے ہیں۔ عمر میں اضافہ کے ساتھ ان کا رنگ زرد یا سلیٹی ہونے لگتا ہے۔ اس کے ساتھ حجم میں بھی فرق آجاتا ہے۔ دانتوں کے امراض کے ماہرین کے مطابق نوجوانی میں یہ سفید، چمکیلے اور نوکیلے ہوتے ہیں جبکہ رفتہ رفتہ اس کا اثر مدھم ہونے لگتا ہے اور مسوڑھوں کے مسائل بھی سامنے آتے ہیں۔ عمر گزرنے کے بعد اسے کمزور ہونے سے تو نہیں روک سکتے لیکن اگر بہتر طور پر نگہداشت کی جائے تو طویل عمر تک صحت برقرار رہے گی۔ پیرا آکسائڈ بیسڈ واٹر دانتوں کی چمک اور سفیدی کو برقرار رکھنے میں معاون بن سکتے ہیں۔ اگر دانتوں میں کسی قسم کی پریشانی ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ لیں۔ کیڑے لگ جائیں تو فوراً ڈاکٹر کو دکھلائیں ونہ دوسرے دانت بھی متاثر ہوجائیں گے۔ دانتوں کے درمیان خلا ہو تو اسے بھروالیں۔

گردن

چہرے کے ساتھ ٹھوڑی اور گردن پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔ سورج کی کرنیں، ہوا اور آلودگی چہرے کے ساتھ گردن کو بھی متاثر کرتی ہے۔ چہرے کی مستقل دیکھ بھال سے یہ نمی لوٹائی جاسکتی ہے۔ جب گردن کی جانب سے بے توجہی برتی جائے گی تو سیاہ دھبے، جھائیاں اور دھاریاں پڑنا عین فطری ہے۔ اس کے ازالے کے لیے کلیزنگ، ٹوننگ اور روٹین پیک لگائیں۔ وٹامن اے اور سی والی کریم کے ساتھ سن اسکرین لوشن کا بھی استعمال کریں۔

بال

بالوں سے عمر جھلکنے کے بالعموم تین اسباب ہوتے ہیں، کیمیائی مادے، آلودگی اور وقت۔ یہ جس قدر بالوں کے رابطے میں آئیں گے ان کا اثر دیکھنے کو ملے گا۔ ۲۵ سال کی عمر میں بالوں کی چمک غائب ہوجائے تو انسان ۵۰ سال کا لگنے لگتا ہے جبکہ اس کے برخلاف ۵۰ سالہ خاتون کے بالوں میں چمک ہو تو عمر کا اثر ہی نہیں پڑتا۔ اس کی ایک وجہ ہارمون کی تبدیلی اور کیمیائی پانی بھی ہوتا ہے۔ اس مسئلہ کے حل کے لیے مہندی سے نیچرل ڈائی کریں جس کا منفی اثر نہیں پڑتا۔ اگر اسے صحیح طور سے نہ لگایا جائے تو بال خشک ہوجاتے ہیں اور عمر ظاہر ہونے لگتی ہے۔ بالوں کے لحاظ سے مہندی کے محلول میں دہی اور ویجی ٹیبل آئل (سورج مکھی کا تیل) ملائیں۔ تیل کی اچھی مالش بھی بالوں کو چمک دیتی ہے۔ اگر بال دو منھ والے ہیں تو فوری طور پر اس کا علاج کریں۔ ٹریمنگ اور بہترین کنڈیشننگ سے بال دومنہ والے نہیں ہوتے۔ عمر کے ساتھ بالوں کی خوراک میں اضافہ ضروری ہوتا ہے۔ شیمپو کے بعد کسی بہترین اینٹی آکسیڈنٹ رچ کنڈیشنر کا استعمال کریں۔ صرف شاور باتھ لینے سے بھی بالوں کو پانی میں موجود کیمیائی اجزاء متاثر کرتے ہیں اس لیے ان کی بہترانداز میں کنڈیشننگ کریں۔

ہاتھ

عمر میں اضافہ کے ساتھ ہاتھوں کی نسیں بھی ابھرنے لگتی ہیں۔ وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ لگنے لگتے ہیں۔ جب یہ سورج کی کرنوں کے رابطہ میں آتے ہیں تو داغ دھبے اور جھریاں بھی پڑجاتی ہیں۔ اس کا حل یہ نہیں ہے کہ دستانے پہن کر کام کیا جائے بلکہ چہرے اور گردن کے ساتھ ساتھ ہاتھوں پر بھی سن لوشن اور ہینڈ کریم لگانا ہوگا۔ اس سے ہاتھوں کی جلد میں نمی آنے کے ساتھ دورانِ خون میںبھی اضافہ ہوگا۔ جن کی جلد میں چکناہٹ ہو ان کے ہاتھوں کی نسیں اور ہڈیاں جلدی دکھلائی دینے لگتی ہیں۔ ناخنوں پر زیتون کے تیل کی مالش کریں تو ان کی چمک بھی برقرار رہے گی۔

شیئر کیجیے
Default image
ادارہ

Leave a Reply