غزل

اس کا کردار جو لوگوں میں نمایاں ہوتا

چاند سورج کی طرح کیوں نہ درخشاں ہوتا

ہوگیا ہے جو برائی سے بہت آزردہ

کرتا نیکی میں اگر، دل مرا شاداں ہوتا

میزبانی کے شرف سے میں ہوا ہوں محروم

کاش ہر دن مرے گھر اک نیا مہماں ہوتا

پیارے آقاؐ نے لگایا ہے گلے دشمن کو

ہاتھ دشمن سے ملانا نہیں آساں ہوتا

دل میں اک درد لیے شام و سحر پھرتا ہوں

کاش! اظہرؔ مرے اس درد کا درماں ہوتا

شیئر کیجیے
Default image
اظہرؔ کورٹلوی

Leave a Reply