صدرِ جمہوریہ کے عہدے پر خواتین کی دعویداری

جوں جوں اے پی عبدالکلام کی مدت کار ختم ہونے کا وقت قریب آرہا ہے آئندہ منتخب کیے جانے والے صدرِ جمہوریہ اور نائب صدرِ جمہوریہ کے لیے سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہونے لگی ہیں۔ صدرِ جمہوریہ کی مدت کار جولائی میں ختم ہورہی ہے۔ ایسے حالات میں مختلف اسباب سے ہر پارٹی اپنے امیدوار کو اس معزز عہدے پر دیکھنے کی خواہش مند ہے۔ خود کو نمایاں کرنے کے لیے ہر پارٹی ایسے نمائندہ کو صدرِ جمہوریہ اور نائب صدرِ جمہوریہ منتخب کرنا چاہتی ہے جو اس سے وابستہ ہو۔ ابھی تک جن ممکنہ امیدواروں کے نام سامنے آئے ہیں ان میں ایک بھی خاتون نہیں ہے۔ یہ کس قدر افسوس کی بات ہے کہ ملک کی نصف آبادی کی طرف کسی نے توجہ ہی نہیںدی۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ خواتین کو پارلیمنٹ میں ۳۳ فیصد رزرویشن دینے کی وکالت کرنے والوں کو بھی اس عہدے کی اہلیت رکھنے والی کوئی خاتون نظر نہیں آئی۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت میں آزادی کی چھ دہائیوں بعد پہلی بار گزشتہ صدارتی انتخاب میں کسی خاتون کے اس عہدے پر آنے کے آثار نظر آئے تھے۔ اس وقت اے پی جے عبدالکلام کے مقابلے میں ڈاکٹر لکشمی سہگل کو شکست ہوگئی تھی۔

اب تک ملک میں اقلیتی طبقہ سے لے کر پسماندہ ذاتوں تک کے نمائندے صدرِ جمہوریہ بن چکے ہیں لیکن ملک کی نصف آبادی کی نمائندگی کرنے والی ہستی کو اس سب سے اعلیٰ عہدے تک پہنچنے کا موقع نہیں مل پایا ہے۔ سکھ فرقہ سے گیانی ذیل سنگھ، مسلم فرقہ سے ڈاکٹر ذاکر حسین، ڈاکٹر فخرالدین علی احمد اور اب ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام اس عہدے پر آچکے ہیں جبکہ دلت طبقہ سے کے نارائنن صدرِ جمہوریہ بنے۔ گزشتہ انتخاب میں بائیں بازو کی حمایت سے ڈاکٹر لکشمی سہگل نے اس عہدے کے لیے انتخاب لڑا تھا۔ پہلی بار ایک خاتون اس انتخابی دوڑ میں شامل ہوئی لیکن جیت قومی جمہوری اتحاد کے حمایت یافتہ عبدالکلام کی ہوئی۔ صدر جمہوریہ اور نائب صدر جمہوریہ کے لیے امیداور کون ہو اس کے لیے ذات، مذہب، طبقہ اور خطہ کی بنیاد پر سوچا جاتا ہے۔ ان خانوں میں کیا خواتین فٹ نہیں بیٹھتیں۔ خواتین کو با اختیار بنانے اور انہیں آگے بڑھانے کی وکالت کرنے والے ان اعلیٰ عہدوں کے لیے جنس کی بنیاد پر کیوں نہیں سوچتے؟ آخر ایک خاتون صدرِ جمہوریہ یا نائب صدرِ جمہوریہ کیوں نہیں بن سکتی۔ وسعتِ نظری اور جمہوری اقدار کو لے کر ہم اکثر مغربی ممالک کی نقل کرتے ہیں۔ وہاں خواتین صدارتی عہدے تک پہنچتی ہیں تو ہندوستان اس سمت میں آگے کیوں نہیں بڑھ سکتا؟ آزادی کے بعد ہندوستان میں سروجنی نائیڈو کو یوپی کا گورنر بنادیا گیا تھا۔ وہ پہلی خاتون تھیں جو اس عہدے پر فائز ہوئیں۔ وجے لکشمی پنڈت یو این او کی صدر بننے والی پہلی خاتون تھیں۔ سچیتا کرپلانی انڈین نیشنل کانگریس کی جنرل سکریٹری بنیں اور بعد میں یوپی کی وزیرِ اعلیٰ۔ اندرا گاندھی کی صورت میں ہندوستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم ملیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آزادی کے ۶۰ سال بعد خواتین کو صدرِ جمہوریہ اور نائب صدر جمہوریہ کا اہل نہیں سمجھا جارہا ہے۔

آج خواتین تمام میدانوںمیں اپنی حیثیت ثابت کررہی ہیں۔ وہ تقریباً ہر میدان کے اعلیٰ ترین مقامات پر پہنچ کر اپنی کامیابی کا پرچم لہراہی ہیں۔ یہاں تک کہ دو خواتین نے خلا میں جاکر ملک کا نام بھی روشن کیا ہے۔ جسمانی محنت کے نقطہ نظر سے خواتین بھلے ہی مردوں کے مقابلے میں کمزور ہوں مگر دماغی کام وہ ان سے بہتر کرسکتی ہیں۔ یہ انھوں نے ثابت بھی کردکھا یا ہے اور آج کئی میدانوں میں اونچے عہدوں پر خواتین بیٹھی ہوئی ہیں۔ اعلانیہ اس کا اعتراف بھلے ہی نہ کیا جائے لیکن دبی زبان میں ضرور خواتین کی اہلیت کا اعتراف ہورہا ہے۔ سیاست میں بھی بہت سی خواتین ہیں جو اپنا رول بخوبی نبھارہی ہیں۔ ایسے میں مختلف میدانوں میں سرگرم خواتین میں سے کسی ایک کو صدر جمہوریہ یا نائب صدرِ جمہوریہ بنانے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ ملک کی نصف آبادی کو اب یہ موقعہ دیا جانا ہی چاہیے۔ سیاسی نقطہ نظر سے بھی کسی خاتون کو صدرِ جمہوریہ یا نائب صدرِ جمہوریہ بنانا ملکی جمہوریت کے لیے مفید ہوسکتا ہے۔ اقتدار نشین متحدہ محاذ اور بایاں بازو ایوان بالا اور ایوان زیریں میں بھی خواتین کا رزرویشن بل اب تک پیش نہیں کرپائے۔ کسی خاتون کو اس عہدے تک پہنچا کر اس کا ازالہ کیا جاسکتا ہے۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی خود بھی خواتین کو سیاسی نقطہ نظر سے بااختیار کرنے کے حق میں ہیں۔ وہ کسی خاتون کو صدرِ جمہوریہ یا نائب صدر بنا کر خواتین کے بااختیار بنانے کے منشا کو مضبوط بنیاد فراہم کرسکتی ہیں۔ یہ کڑوا سچ اپنی جگہ ہے کہ خواتین کا اپنا الگ سے کوئی ووٹ نہیں ہوتا لہٰذا ان عہدوں کے لیے انہیں امیدوار بنائے جانے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ خواتین تنظیموں اور سیاست میں اثرورسوخ رکھنے والی خواتین کو اس سلسلے میں پیش قدمی کرنی چاہیے۔

شیئر کیجیے
Default image
سشما ورما

Leave a Reply